حضرت مولانا خیر محمد صاحب، مسجد مولوی خیر محمد فتح‌جنگ

حضرت مولانا خیر محمد صاحب المعروف ملاں خیر محمد صاحب                                               


میری یادوں کی اگلی منزل مسجد ملاں خیر محمد صاحب تھی۔ مسجد اب نیٗ بن رہی ہے۔ مگر میری یادوں کی دنیا میں قدیم خوبصورت مسجد کی عمارت ابھی تک پوری طرح آراستہ و پیراستہ کھڑی ہے۔ وقت پورا کرنے پر ہر عمارت گرتی ہے۔ مگر پرانی مسجد دل سے اترتی نہیں۔جس سے اک خواب اور معصوم یادیں وابستہ ہیں۔
مسجد ملاں خیر محمد صاحب سے محبت تھی تو ملاں خیر محمد صاحب سے بھی ایک گونہ عقیدت تھی۔ دراصل ملاں بہت معتبر نام ہے۔البتہ یہ نام مولانا خیر محمد صاحب پر خوب جچتا تھا۔ ان سے گےٗ زمانوں کی مہک آتی تھی۔عظمت رفتہ کے نشان یاد آتے تھے۔حافظ رومی و جامی یاد آتے۔سفید براق لباس، ہلکے نیلے رنگ کی واسکٹ جس کے ساتھ جیبی گھڑی کی زنجیر بندھی ہوتی۔ طرے والی پگڑی کُلے پر باندھتے۔

13715990_1810455562573959_2501751112374364970_n
معزز تھے زمانے میں مسلمان ہوکر                    تم خوا ر ہوےٗ تارک قرآن ہوکر                             


ا س شعر میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے جس دور کو یاد کیا گیا وہ اس کی جیتی جاگتی تصویر تھے


مولانا خیر محمد صاحب اپنے وقت کے عالم بے بدل مولانا نور حسین صاحب کے شاگرد تھے۔وہ مرکزی جامع مسجد کے خطیب تھے۔مولانا نور حسین صاحب کو خواجہ احمد میرویؒ سے یک گونہ محبت تھی۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں۔ خواجہ احمد میرویؒ پر کیٗ رسایٗل چھپ چکے ہیں۔مولانا ریاض الدین مدرس آستانہ میرا شریف نے خزینہ کے عنوان سے حضرت خواجہ احمد میرویؒ پر کتاب لکھی ہے۔ فتح جنگ کے مولانا نور حسین وفا نے بشارت الابرار کے نام سے خزینہ کتاب کا آسان ترجمہ کیا ہے۔
حضرت خواجہ احمد میروی ؒ سے مولانا نور حسین صاحب کو نسبت تھی۔مو لانا خیر محمد صاحب کو پھر مولا نا نور حسین صاحب سے نسبت تھی۔مزید یہ کہ بابا ولی احمد صاحب کو بھی خواجہ احمد میروی ؒ سے نسبت تھی۔گویا یہ سارے سلسلے آپس میں ملتے تھے۔
حضرت خواجہ احمد میرویؒ کے حوالے سے فتح جنگ کی اک اور نامور ہستی کا بھی نام آتا ہے حضرت سید احمد شاہ صاحب۔ سید احمد شاہ صاحب فتح جنگی المعروف سوہنا شاہ۔ سید احمد شاہ صاحب حضور شمس العارفین پیر سیال لجپال کے مرید تھے۔لیکن انہوں نے حضور اعلی کو اپنا صحبتی پیر بنا لیا۔ساری زندگی میرا شریف میں گذار دی۔وصال اور تدفین میرا شریف میں ہوییٗ۔ بعد میں میت ان کے بھتیجے فتح جنگ لے گےٗ۔ تقوی میں اعلی درجہ،سنت نبویﷺ پر ساری زندگی کاربند رہے۔اُن کے چہرے سے معلوم پڑتا تھا کہ نور کی شعاعیں اُٹھ رہی ہیں۔جیسا کہ حضرت بلالؓ نے حضوراکرمﷺ کے وصال مبارک کے بعد فراق محبوب پر اذا ن دینے سے جنا ب صدیق اکبرؓ سے معذرت چاہی تھی۔ اسی طرح حضرت شاہ صاحب نے پوری زندگی اپنے فراق محبوب اپنے پیر صاحب کے روضہ مبارک میں داخل نہ ہوےٗ۔اب روضہ سید احمد شاہ کے گدی نشین پیر قاسم شاہ صاحب ہیں۔
حضرت خواجہ احمد میرویؒ کے تذکرہ میں فتح جنگ کے مولانا نورحسین صاحب کا بھی تذکرہ ملتا ہے، لکھا ہے۔ مولانا نور حسین صاحب مصنف بشارت الابرار جامع منقول، معقول تھے۔ حضور ثانی نے انہیں معتمد علیہ بتایا ہوا تھا۔ حضو ر اعلی ؒ اور حضور ثانی ہر دورے کے دوران ہمراہ اکثر سفروں میں رہا کرتے تھے۔آپ نے حضور ثالث کے زمانہ میں وصال فرمایا۔
حضرت مولانا نورحسین صاحب، خواجہ احمد میرویؒ کے محرم راز بھی تھے۔ تذکرہ میں لکھا ہے کہ سنت نبویﷺ عامل خواجہ احمد میرویؒ چلہ کشی بھی فرماتے۔ایک دفعہ گولڑہ شریف، حضور گولڑوی سے ملاقات کے لیے تشریف لے گےٗ۔جس کی وجہ صیغہ راز میں تھی۔حضور ثانی اور مولانا نور حسین فتح جنگی پر یہ راز آشکارا تھا۔مگر مولانا نور حسین صاحب نے ساری زندگی اس ملاقات کو صیغہ را ز میں رکھا۔
قاضی جاوید مرحوم، مولانا جان محمد کے بیٹے اور مولانا نورحسین صاحب کے پوتے تھے۔ان سے ملاقات ہوییٗ تو انہوں نے بتایا کہ ان کی ڈاکٹر غلام جیلانی برق سے رشتہ داری تھی۔ڈاکٹر برق کی پہلی بیوی ان کی پھوپھی تھیں۔
ڈاکٹر برق صاحب نے اپنی کتاب میں مولانا عبدالرحمان صاحب کا تذکرہ کیا ہے۔ان کے بیٹے قاسم حجازی صاحب تھے۔ان کے صاحبزادے قاضی مختار صاحب، جن کے بیٹے شاہد صاحب اب فتح جنگ میں پہلوان چوک کے ایریا میں رہتے ہیں۔ڈاکٹر برق مولانا عبدالرحمان کے شاگرد رہے۔ان کا گاوٗں پنڈی سرہال ہے۔مولانا عبدالرحمان کے والد محترم قاضی نور احمد، دادا قاضی قمرالدین تھے۔مولانا عبدالرحمان صاحب دارلعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ شیخ الہند مولانا محمد حسن سے فیض حاصل کیا۔ وہ مولانا نورحسین صاحب کے ہم عصر تھے۔ تاریخ وفات نکالنے کے ماہر تھے۔ فتح جنگ کے مولانا نور حسین صاحب فوت ہوےٗ تو فرمایا ربنا اغفر النور حسین، اس کلمے کے حساب سے تاریخ وفات 1948ء بنتی ہے۔
مولانا نورحسین صاحب مرکزی جامع مسجد کے خطیب تھے۔ ان کے بیٹے مولانا جان محمد صاحب منڈی والی مسجد کے خطیب رہے۔1062ء میں ٹھیکیدار غلام محمد صاحب بلدیہ کے چیٗرمین تھے۔وہ ڈی سی او اٹک خالد محمود کو لے کر مسجد میں آےٗ۔کہ وہ لاہور میں مولانا کی کتابوں کی نمایٗش کرنا چاہتے ہیں۔بڑی مشکل سے جان محمد صاحب نے کتابیں دیں۔ پھر وہ کتابیں نہ ملیں۔اسی سال جان محمد صاحب کا انتقال ہوا۔ان کے بھاییٗ محب النبی کی دکان پر 1065ء میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا۔اور بقول ان کے یہ علمی خزانہ ضایٗع ہو گیا۔اس آگ لگنے کا واقعہ مجھے بھی یاد ہے۔
قاضی جاوید صاحب نے اک دفعہ بتا رہے تھے کہ بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد سے پروفیسر آےٗ اور مولانا نورحسین صاحب کی اولاد کی تلاش میں تھے۔ان کے پاس عربی اور فارسی کی کتابیں تھیں جن پر مولانا نورحسین فتح جنگی کا نام لکھا ہوا تھا۔وہ مولانا صاحب یا ان کی اولاد میں کسی سے ملنا چاہتے تھے۔
مولانا نور حسین صاحب کے شاگردوں میں مولانا خیر محمد صاحب، مولانا قادر بخش صاحب(والد محترم مولانا عبدالواحد مسجد میاں نور والے) شامل تھے۔ مولانا فضل حق قریشی کریموی کہتے ہیں کہ مولانا خیر محمد صاحب کو ابتداییٗ زندگی میں درس و تدریس سے زیادہ رغبت نہیں تھی۔پہلے فتح جنگ سے

12346462_956273791128308_1977672166933229084_nباہر کسی مدرسے میں گےٗ۔بعد میں منڈی والی مسجد میں آگےٗ۔جہاں وقت مولانا نور حسین صاحب کا فیض عام جاری تھا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں