ہیکنگ مثبت کاموں کے لیے کرتا ہوں

ہتھوڑا تعمیری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے تخریبی کام بھی لیا جا سکتا ہے۔‘

تئیس سالہ ہیکر رفع بلوچ نے ان خیالات کا اظہار بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔

حال ہی میں رفع بلوچ کو گوگل اور فائر فوکس براؤزر میں سکیورٹی سسٹم میں خامی کی نشاندہی کرنے پر دونوں کمپنیوں کی جانب سے پانچ ہزار ڈالر انعامی رقم سے نوازا گیا۔

رفع بلوچ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنھوں نے اس قسم کی سکیورٹی خامیوں تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس سے پہلے 2012 میں انھوں نے ویب سائٹ پے پیل کو اس کی سکیورٹی کی خامیاں بتا کر دس ہزار ڈالر کا انعام حاصل کیا تھا۔

کتنا مشکل ہوتا ہے کہ ایسی ہیکنگ نہ کی جائے جس سے کسی کو نقصان پہنچے؟

اس سلسلے میں رفع بلوچ کہتے ہیں کہ ’اس کا تعلق آپ کی دیانت اور اقدار سے ہے۔ میرے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ میں ایسی ہیکنگ کروں جس کے دنیا میں مثبت اثرات ہوں۔ میں کسی کے سسٹم میں اس لیے نہیں جاتا کہ اسے نقصان پہنچا سکوں بلکہ اس کا مقصد مالک کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح سسٹم کی سکیورٹی کو بہتر بنا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہی ’وائٹ ہیٹ‘ ہیکر اور ’بلیک ہیٹ‘ ہیکر میں فرق ہوتا ہے۔ کسی بھی طرح کے ذاتی فائدے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچانا ہیکنگ کہلاتی ہے جبکہ جو میں کر رہا ہوں اسے ایتھیکل ہیکنگ کہا جاتا ہے۔‘

وفع بلوچ نے بتایا کہ ’جب میں نے اپنے والدین کو بتایا کہ میں ہیکر بننا چاہتا ہوں تو وہ بالکل خوش نہیں تھے۔ ایک تو انھیں معلوم نہیں تھا اور دوسرا انھوں نے کہا تم ڈاکٹر بنوں یا انجینیئر یا سی ایس ایس کی طرف جاؤ۔ یہ ہیکنگ کیسا شبعہ ہے؟ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب مجھے ترقی ملی تو انھیں سمجھ آیا کہ میں ٹھیک کام کر رہا ہوں۔‘

گذشتہ ماہ ہی پاکستان کے 14 سالہ طالب علم محمد شہزاد کو گوگل کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انھوں نے گوگل کو لاحق سکیورٹی خطرات سے کمپنی کو آگاہ کیا جس کے اعزاز میں ان کا نام ہال آف فیم میں شامل ہوا۔ پاکستان میں ایتھیکل ہیکنگ کرنے والوں کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں