ایشیا اور افریقہ کے دو ارب افراد کو زیکا سے خطرہ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ افریقہ اور ایشیا میں زیکا وائرس کے پھیلنے کی صورت میں خدشہ ہے کہ اس سے دو ارب کے قریب افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

سائنس جریدے دی لینسٹ انفیکشیئس ڈیزیزز میں محققین لکھا ہے کہ انڈیا، انڈونیشیا اور نائجیریا اس وائرس کا شکار ہونے کے لیے غیر محفوظ علاقے ہیں۔

انھوں نے اپنی پیش گوئی میں مدد کے لیے فضائی سفر کرنے والے افراد کا ڈیٹا بھی استعمال کیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں وائرس کے لیے قوت مدافعت پہلے سے موجود ہونے کی وجہ سے خطرے میں کمی ہو سکتی ہے۔

لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، آکسفورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کینیڈا کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسے ماحول میں رہتی ہے جہاں اس وائرس سے بچنا، اسے شناخت کرنا اور اس کا علاج کرنا مشکل ہے۔

اس تحقیق کے دوران انھوں نے ایسے افراد کے سفری تفصیلات کا جائزہ لیا جو زیکا سے متاثرہ جنوبی امریکہ کے علاقوں سے سفر کر کے افریقہ اور ایشیا میں گئے اور ان علاقوں کی آب و ہوا کا جائزہ لے کر یہ اندازہ لگایا کہ کون سے ممالک کو اس کے پھیلنے سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

اپنے مطالعے میں محققین نے بتایا کہ فلپائن، ویتنام، پاکستان اور بنگلہ دیش بالخصوص اس سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔

سینٹ مائیکل ہسپتال ٹورینٹو کے ڈاکٹر کامران خان کا کہنا تھا ’اس وائرس کے آبادیوں پر اثرات کا زیادہ تر انحصار کسی بھی ملک کی اس وائرس کی تشخیص اور ممکنہ پھیلاؤ پر ردعمل پر ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمارے نتائج سے اہم معومات حاصل ہو سکتی ہیں جس کی مدد سے وقت رہنے مقامی، قومی اور بین القوامی سطح پر عوامی صحت سے متعلق فیصلے کیے جا سکیں۔

اب تک زیکا 65 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ یہ وائرس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور حال ہی میں یہ افریقہ پہنچا ہے۔

سنہ 2015 میں برازیل میں پھوٹنے والا یہ وائرس بچوں میں پیدائشی نقائص کا سبب بنا تھا جہاں متعدد بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اب بھی لاتعداد لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ وائرس کس طرح سے پھیلتا ہے اور یہ کہ کس قسم کا مچھر اس کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔

ماہرین کے مطابق موسم گرما میں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ رہا کیونکہ اس وقت لوگوں نے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کا سفر زیادہ کیا۔

گرم درجہ حرارت کا مطلب ہے کہ مچھر زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں اور یہ وائرس پھیلا سکتے ہیں۔

مطالعے میں شریک ڈاکٹر اولیور بریڈی کا کہنا تھا ’انڈیا، انڈونیشیا اور نائجیریا وہ ممالک میں جہاں زیکا کے پھیلنے کا سو سے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ یہاں ہر ماہ 5000 لوگ وائرس سے متاثرہ علاقوں سے سفر کر کے آتے ہیں۔ ‘

’وہ لوگ یہاں زیکا لانے کا باعث بن رہے ہوں گے اور وہاں کے صحت کے نظام پر اس کا شدید اثر ہوگا۔‘

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں