چہل قدمی اور ورزش دل کے امراض کو دوررکھتی ہے

یہ بات اچھی طرح ثابت ہوچکی ہے کہ پیدل چلنا صحت کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے اور تیز قدم دل کے دوست ہوتے ہیں لیکن اب ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بزرگ افراد اگر چہل قدمی شروع کردیں تو ان میں امراضِ قلب کا خطرہ نصف رہ جاتا ہے۔

ایک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد اگر ورزش، سائیکل چلانے اور تیز قدموں سے چلنے کی عادت اپنالیں تو ان میں امراضِ قلب سے اموات کی شرح نصف رہ جاتی ہے۔ فن لینڈ میں واقع یونیورسٹی آف اولو کے ماہرین کے مطابق اگر بوڑھے افراد جسمانی طور پر سرگرم رہیں تو ان میں امراضِ قلب، فالج اور دیگر امراض کا خطرہ بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بڑھاپے میں ہلکی ورزش اور جسمانی طورپر مستعدی ہی آپ کا تحفظ کرتے ہوئے آپ کو کئی امراض سے بچاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو تب بھی ورزش اس میں آپ کو بہت فائدہ پہنچاسکتی ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے 65 سے 74 سال کے 2456 خواتین و حضرات کا 10 سال تک 1997 سے 2007 تک جائزہ لیا  اور یہ سروے 2013 کو اختتام پذیر ہوا۔ اس میں شامل افراد کو ہفتے میں 4 گھنٹے واک، ورزش یا پھر دوسرے ہلکے مشاغل، مثلاً مچھلیوں کے شکار اور باغبانی کا مشورہ دیا گیا تھا۔

تقریباً 11 برس کے بعد 197 افراد امراضِ قلب کے ہاتھوں فوت ہوگئے اور 416 دل کی مختلف بیماریوں کے شکار ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنہوں نے باقاعدہ ورزش کی تھی ان  کی 45 فیصد تعداد دل کی بیماریوں سے دور رہی اور جنہوں نے ہلکے پھلکے مشاغل اپنائے تھے ان کی 31 فیصد تعداد میں دل کا کوئی مرض پیدا نہیں ہوا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں