پروٹین سے بھرپور10 صحت بخش غذائیں

متوازن غذا کا تذکرہ کبھی پروٹین کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اوراگراس کے ساتھ مناسب ورزش بھی شامل کرلی جائے تو صحت مندی کا حصول یقینی ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ پروٹین کون کون سی غذاؤں سے بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔

صحت بہتربنانے کے لئے جہاں سموسوں اور رول سے چھٹکارا پانا ضروری ہے وہیں اگر روزمرہ غذا میں بادام کا استعمال بھی شامل کرلیا جائے تو اس سے جسم میں پروٹین کی ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ ہر بادام میں جہاں 1.3 گرام پروٹین ہوتے ہیں وہیں اس میں فائبر (ریشہ) بھی وافر ہوتا ہے جو آپ کے جسم اور دماغ، دونوں کےلئے مفید ہے۔

سبزیوں کا زیادہ استعمال آپ کی صحت کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن ان میں بھی پھول گوبھی، بند گوبھی اور اس قبیل کی دوسری سبزیوں کی خصوصی اہمیت ہے۔ گوبھی کے ایک کپ (200 گرام) میں پانچ گرام پروٹین ہوتے ہیں جبکہ اس کے دوسرے اہم غذائی اجزاء میں وٹامن بی ون، میگنیشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ وغیرہ شامل ہیں۔ البتہ بہتر نتائج کےلئے اسے پکائے بغیر سلاد کی شکل میں کھانا چاہئے۔

چنے کا شمار بھی پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں ہوتا ہے۔ اس کے ایک کپ (200 گرام) میں تقریباً چالیس گرام پروٹین ہوتے ہیں۔ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر سے بھرپور ہونے کی بدولت چنے سے وزن گھٹانے میں بہت مدد ملتی ہے۔ البتہ انہیں کھانے میں اعتدال رکھنا بھی ضروری ہے۔

ناریل بھی پروٹین کا اہم ذریعہ ہے۔ تازہ ناریل کے ہر 200 گرام میں 16 گرام پروٹین ہوتے ہیں جبکہ اس میں ’’تھریونین‘‘ کہلانے والا ایک امائنو ایسڈ بھی اس میں بکثرت پایا جاتا ہے جو جگر کی حفاظت کےلئے ضروری ہوتا ہے۔

دیسی پنیر آپ کی صحت کےلئے بہت مفید ہے۔ اس کے ہر 100 گرام میں 11 گرام پروٹین ہوتے ہیں۔ اچھی صحت کےلئے کم چکنائی والے پنیر کا باقاعدہ استعمال جاری رکھنا بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

عام خیال کے برعکس، انڈے ہر موسم میں کھائے جاسکتے ہیں اور ہر عمر کے لوگ ان کے غذائی فوائد سے فیض یاب ہوسکتے ہیں۔ ایک انڈے میں اوسطاً 6 گرام پروٹین ہوتے ہیں جبکہ اس میں موجود دیگر اہم غذائی اجزاء میں وٹامن بی ٹو (رائبوفلیون)، وٹامن بی12، وٹامن ڈی، سیلینیئم اور آیوڈین شامل ہیں۔ پٹھوں کو مضبوط بنانے اور کم وزنی سے چھٹکارا پانے کےلئے روزانہ ایک ابلا ہوا انڈا بہت فائدہ پہنچاتا ہے۔

وہ لوگ جو کھانے میں دال کو ناپسند کرتے ہیں، انہیں خبردار ہوجانا چاہـئے کیونکہ کم و بیش تمام دالوں میں آپ کے خیال سے زیادہ غذائیت ہوتی ہے۔ مثلاً پکی ہوئی دال مسور کے ایک کپ (200 گرام) میں 18 گرام پروٹین ہوتے ہیں جبکہ میگنیشیم، پوٹاشیم، فولاد، فولیٹ، کاپر اور مینگنیز جیسی معدنیات اس کے علاوہ ہیں۔

دودھ کی صحت بخش خصوصیات کسی تعارف کی محتاج نہیں، چاہے آپ کو دودھ پینا پسند ہو یا نہ ہو۔ دودھ کے ہر ایک گلاس (250 ملی لیٹر) میں 8 گرام اعلی پروٹین ہوتی ہے۔ البتہ آپ چاہیں تو کم چکنائی والا دودھ اپنی غذا کا حصہ بناسکتے ہیں۔ دودھ سے آپ کو پروٹین کے علاوہ کیلشیم بھی حاصل ہوتا ہے جو آپ کی ہڈیوں کو بطورِ خاص مضبوط بناتا ہے جبکہ اس میں وٹامن ڈی بھی شامل ہوتا ہے۔

مونگ پھلی کا مکھن (پی نٹ بٹر) زیادہ کیلوری والی غذا ہونے کی وجہ سے بہت بدنام ہے لیکن روزانہ تھوڑی سی مقدار میں اس کا استعمال کرکے آپ بیش بہا توانائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے ہر ایک چمچے (15 ملی لیٹر) میں 4 گرام پروٹین ہوتے ہیں۔ اسے کم مقدار میں روزمرہ غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

مٹرکا شماردنیا کی سب سے صحت بخش غذاؤں میں کیا جاتا ہے جس کے ہر 200 گرام میں دس گرام نباتاتی پروٹین ہوتے ہیں۔ زیادہ کیلوری والی غذا ہونے کے باوجود مٹر کو وزن گھٹانے میں بہترین پایا گیا ہے۔

وہ لوگ جنہیں دودھ سے الرجی ہے، اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کےلئے مٹر کا استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ اس میں دودھ کے جزوِ اعظم یعنی لیکٹوزکے سوا دودھ کے تمام اہم غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جن میں وٹامن کے، مینگنیز، غذائی ریشہ (فائبر) اور وٹامن بی ون شامل ہیں۔ البتہ بہتر ہوگا کہ ڈبے میں بند مٹر کے بجائے تازہ مٹر استعمال کی جائے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں