رقم بچانے کےلیے موٹے افراد کی سرجری پر پابندی

برطانیہ کے علاقے شمالی یارک شائر میں نیشنل ہیلتھ سروس کے کمشننگ گروپ کا کہنا ہے کہ رقم بچانے کے لیے موٹے افراد کی سرجری ایک سال تک ملتوی کی جاسکتی ہے۔

ویل آف یارک کلینکل کمشننگ گروپ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت کیاگیا ہے جب این ایچ ایس پر شدید دباؤ ہے۔

اس فیصلے سے کولھے اور گھٹنوں کے آپریشن پر پابندی لگ جائے گی۔

تاہم رائل کالج آف سرجنز نے اس فیصلے کو نہایت سخت قرار دیا ہے۔ اس نئی پابندی کا اطلاق موٹاپے کا شکار اور تمباکو نوشی کرنے والے افراد پر ہو گا۔ تاہم اگر یہ افراد دس فیصد وزن کم کر لیتے ہیں تو ان کا آپریشن ایک سال میں کیا جا سکتا ہے۔ این ایچ ایس پرووائیڈرز کے سربراہ کرس ہوپسن کا کہنا ہے کہ یہ بہت پریشان کن بات ہے کہ ایسے فیصلے لیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا این ایچ ایس کے اعلیٰ حکام کی یہ سوچ ہے کہ وہ اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں اس فنڈنگ کے مقابلے میں بہت زیادہ کی توقع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجائے اس کے کہ کمشننگ گروپ یہ فیصلے لے کہ اس موضوع پر قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2014 میں برطانیہ میں ایک کروڑ 45 لاکھ موٹے لوگ تھے۔ پورٹسمتھ میں سرجن شو سمرز کا کہنا ہے کہ رقم بچانے کے لیے یہ ایک معقول قدم ہے لیکن نہایت کم مدتی اور امتیازی ہے۔ ’موٹاپا ایک بیماری ہے اور ایسے افراد دانستہ طور پر ایسے نہیں ہیں کہ وہ ہر روز صبح اٹھیں اور کہیں کہ موٹے کیسے رہیں۔‘

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں