ذہنی امراض کا اعتراف شرم کا باعث کیوں؟

انگلینڈ کے لیفٹ آرم سپنر مونٹی پنیسر کی ذہنی بیماری کے بارے میں تو سب جانتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایشیائی کمیونٹی میں ذہنی امراض کے متعلق پائے جانے والے منفی رویے کے باعث لوگ اپنی بیماری چھپاتے ہیں۔

مونٹی پنیسر کو ذہنی بے چینی اور ’پیرا نویا‘ یعنی بے جاخوف کی کیفت کا طاری ہونا جیسی ذہنی مسائل کا سامنا رہا ہے۔

مونٹی کا شمار ان چند مشہور ایشیائی لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی ذہنی بیماری کسی سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہیں کی۔

سنہ 2015 میں ایسکس کاؤنٹی نے باہمی رضا مندی سے مونٹی کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا تھا اور اس کے فوراً بعد انگلش سپنر نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں ہے۔

مونٹی اب پروفیشنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے ذہنی امراض کے سفیر ہیں اور اپنے تجربے کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’دنیائے کرکٹ نے نہ صرف میری بیماری کو سمجھا بلکہ میرے ساتھ مکمل تعاون بھی کیا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ لیکن ہماری ایشیائی کمیونٹی میں ذہنی امراض سے آگاہی نہیں ہے۔جب آپ کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں تو آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ آپ کو ایک مضبوط شخصیت کا مالک سمجھیں۔

’میری جانب سے اپنی بیماری کے اعلان کے بعد بہت سے نوجوان ایشیائی باشندے سامنے آئے اور کہا کہ ہم خوش ہیں کہ ہم نے اپنی بیماری کے بارے میں کھلے عام بات کی ہے کیونکہ ہماری کمیونٹی میں ذہنی امراض کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔‘

اپاچی انڈین کے نام سے جانے جانے والے مشہور گلوکار سٹیو کپور ایک اور مشہور ایشیائی نژاد برطانوی شہری جنھیں ذہنی بیماری کا سامنا رہا ہے۔

اپاچی کہتے ہیں کہ’ہمارے کلچر میں چیزوں کو چھپانے کا رواج ہے۔ مجھے ڈپریشن کا سامنا رہا ہے لیکن آپ دیکھ لیں میں اب 50 سال کا ہوں اور آپ کے سامنے ٹھیک ٹھاک کھڑا ہوں۔‘

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایشیائی لوگ کیوں ذہنی امراض کو چھپاتے ہیں؟

لندن کے کنگز کالج سے وابستہ ذہنی امراض کے ماہر پروفیسر دینیش بھگرا کہتے ہیں کہ ’جنوبی ایشیائی باشندوں میں شرم کا تصور دوسرے برطانوی شہریوں سے مختلف ہے۔‘

پروفیسر بھگرا کے بقول ’بہت سے لوگ اس خوف کا شکار ہوتے ہیں کہ اگر انھیں نے اپنی بیماری کا اعتراف کر لیا تو کوئی ان سے شادی نہیں کرے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایشیائی کمیونٹی میں بہت سے لوگ ذہنی مرض کو بیماری کے بجائے دیگر دقیانوسی عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جیسے گذشتہ زندگی میں ان کے گناہ وغیرہ۔

پروفیسر بھگرا کہتے ہیں کہ زبان بھی اس سلسلے میں ایک مسئلہ ہے کہ’ڈپریشن کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے اور اس سے متاثرہ لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں زندگی کے اتار چڑھاؤ سامنا ہے ، لہٰذا ڈاکٹر کے پاس جانے کا تو سوال ہی نہیں آتا۔‘

دینیش بھگرا کا مزید کہنا ہے کہ انگریزی کا نہ آنا بھی ایک وجہ ہے بہت سے لوگ انگریزی پر عبور نہیں رکھتے اس لیے وہ ڈاکٹر کو صحیح طرح اپنی علامات سے آگاہ نہیں کر سکتے جس کے باعث مرض کی درست تشخیص نہیں ہو سکتی۔

’ایک دفعہ میں ایک ایسے جوڑے سے ملا جو پہلے بھی ڈاکٹر کے پاس جا چکے تھے، شوہر نے بتایا کہ اس کی بیوی کے مرض کی تشخیص نہیں ہو رہی ہے، میں نے ان سے پنجابی میں بات کی اور منٹوں میں مجھے اس خاتون کے ذہنی مرض کا پتا چل گیا۔‘

اس سے قبل وہ صرف انگلش بولنے والے طبی عملے سے ہی ملتے رہے تھے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں