کافی کا استعمال بلڈ پریشر کے علاج میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے

لندن: اگر آپ بلڈ پریشر کا شکار ہیں اور اس کا علاج کرانا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ کافی پینا ترک کردیں کیونکہ اس میں موجود اجزا دوا کی تاثیر کو زائل کرسکتے ہیں۔ 

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آبادی کا ایک بڑا حصہ بلڈ پریشر کے باعث مختلف امراض کا شکار ہے اور وہ کافی بھی پیتا ہے۔ مطالعوں سے معلوم ہوا ہے کہ کیفین والی کافی بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے لیکن کیفین سے پاک یعنی ڈی کیفینیٹیڈ کافی سے یہ اثرات نہیں ہوتے۔

بین الاقوامی طبی جریدے امریکن جرنل آف ہائپرٹینشن میں لندن کی ویسٹرن یونیورسٹی اور کینیڈا کے لاسن ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی مشترکہ تحقیق شائع کی گئی ہے، ماہرین نے اپنی تحقیق کے لیے ایسے لوگوں کاانتخاب کیا جو باقاعدگی سے یا پھر کبھی کبھار کافی پیتے تھے۔

ماہرین نےااپنی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جو لوگ کبھی کبھار کافی پیتے ہیں، اگر وہ دو کپ کافی پی لیں تو ایک گھنٹے کے اندر اندر ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح سے بلڈ پریشر کے ٹیسٹ متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر شوقیہ بھی کبھی کبھار کافی پی لی جائے تو اس سے بلڈ پریشر کی دوا کی تاثیر متاثر ہوسکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ باقاعدگی سے کافی پینے والے افراد میں یہ اثرات رونما نہیں ہوتے کیونکہ ان کا جسم اس کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتا ہے اور وہ کیفین کو برداشت کرنے لگتا ہے تاہم کبھی کبھی کافی پینے والوں کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں