برطانوی شہری کا مریخ پرجائیداد فروخت کرنے کا انوکھا کاروبار

ایک برطانوی ڈاکٹر اپنی ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں کو مریخ پر انتہائی کم دام میں جائیداد فروخت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پیسہ کمانا نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد مریخ پر دنیا کے تمام انسانوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔

برطانیہ کے علاقے ہیمپشائر میں رہنے والے 49 سالہ ڈاکٹر فل ڈیویز نے ’’مارس سیل‘‘ کے نام سے ویب سائٹ بنائی ہے جس پر وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کا مقصد پیسے کمانا یا لوگوں کو دھوکا دینا ہر گز نہیں بلکہ یہ کام عین قانونی طور پر ہوگا۔ مریخ پر جائیداد کی خرید و فروخت کو بین الاقوامی طور پر قانونی حیثیت دینے کے لیے وہ اقوامِ متحدہ سے خط کتابت کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے ’’آؤٹر اسپیس ٹریٹی‘‘ میں عوامی حقوق کو بھی شامل کرے اور صرف حکومتوں ہی کا خیال نہ کرے۔ انہیں یقین ہے کہ اگلے سال تک دنیا بھر کے عام لوگوں کو مریخ پر جائیداد خریدنے اور فروخت کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہوجائے گی۔

آؤٹر اسپیس ٹریٹی وہ بین الاقوامی معاہدہ ہے جو 1967 میں منظور کیا گیا تھا اور جس کے تحت خلاء، چاند، سیارچوں اور دوسرے سیاروں پر مشن بھیجنے کے لیے ممالک کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنانا ہے۔ البتہ اس میں خلائی تحقیق کے حوالے سے انفرادی انسانی حقوق کا کوئی تذکرہ نہیں۔

فی الحال ڈاکٹر فل ڈیویز نے مریخ پر 10 ایکڑ اراضی کی قیمت صرف ایک امریکی سینٹ (تقریباّ ایک پاکستانی روپیہ) مقرر کی ہے اور اب تک وہ 1100 لوگوں کو 11 ہزار ایکڑ مریخی اراضی فروخت بھی کرچکے ہیں۔ غیر ارضی جائیداد فروخت کرنے والوں میں وہ پہلے نہیں بلکہ ان سے پہلے ہی ’’بائے مارس،‘‘ مون اسٹیٹ اور لیونر لینڈ وغیرہ جیسے ادارے چاند اور مریخ پر زمینیں بیچنے میں مصروف ہیں۔

لیونر ایمبیسی نامی ویب سائٹ اس شعبے کی سب سے پرانی کھلاڑی ہے جو پچھلے 25 سال سے چاند کی اراضی فروخت کررہی ہے اور اندازہ ہے کہ وہ اپنے اس فراڈی کاروبار کے ذریعے اب تک 34 لاکھ پونڈ سے زیادہ کماچکی ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں