والدین کے نفسیاتی مسائل بچوں میں شدت پسندی اورخودکشی کا رجحان پیدا کرتے ہیں

وہ والدین جو مختلف نفسیاتی مسائل یا ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ان کے بچوں میں شدت پسندی اور خودکشی کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

جاما سائیکیٹری نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے شریک مصنف اور یونیورسٹی آف مانچسٹربرطانیہ کے ڈاکٹر راجر ویب کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو ذہنی امراض یا نفسیاتی پریشانیوں میں مبتلا ہوں اور کسی نہ کسی صورت ان کا اظہار بھی کرتے رہتے ہوں، ان کے بچوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ وہ تشدد پر آمادہ ہونے کے علاوہ کم عمری ہی میں خودکشی کی کوشش بھی کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں میں خودکشی اور پرتشدد رجحانات کی وجہ جینیاتی یعنی والدین سے وراثت میں ملنے والی بھی ہوسکتی ہے اور گھریلو حالات کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔

اس مطالعے میں 1967ء سے 1997ء کے دوران ڈنمارک میں پیدا ہونے والے 17 لاکھ سے زائد افراد کے کردار کا 15 سال کی عمر کو پہنچنے تک کا مشاہدہ کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ ان میں سے 2.6 فیصد افراد نے اپنی زندگی کے پندرہویں سال سے پہلے ہی خودکشی کی کوشش کی تھی جبکہ 3.2 فیصد اسی عرصے کے دوران کم از کم ایک مرتبہ مار پیٹ اور تشدد کی وجہ سے گرفتار کئے جاچکے تھے۔ اور یہ سب کے سب لوگ وہ تھے جن کے والدین کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے یا بیماری میں مبتلا تھے۔

مزید معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو کسی بھی قسم کی نفسیاتی بیماری یا مسئلے کا شکار تھے، ان کے بچوں میں بھی تشدد اور خودکشی کے رجحانات زیادہ تھے۔ البتہ ایسے رجحانات کا امکان ایسے بچوں کےلئے زیادہ نمایاں تھا جن کے والدین میں غیر متوازن مزاج (موڈ ڈس آرڈر)، بائی پولر ڈس آرڈر اور غیر سماجی طرزِ عمل سے متعلق نفسیاتی مسائل کی باقاعدہ تشخیص ہوچکی تھی جب کہ وہ بھنگ کا غلط استعمال کرتے رہنے کے علاوہ خودکشی کی کوشش بھی کرچکے تھے۔

وہ بچے جن کے ماں اور باپ، دونوں نے کسی نہ کسی موقعے پر خودکشی کی کوشش کی تھی، ان میں تشدد اور خودکشی کا رجحان بھی دگنا تھا۔ تشدد پر آمادگی کی شرح لڑکیوں میں لڑکوں سے زیادہ دیکھی گئی جب کہ خودکشی کی کوشش کی شرح لڑکے اور لڑکیوں میں برابر تھی۔

اس مطالعے کی روشنی میں ماہرین کا مشورہ ہے کہ بچوں میں تشدد اور خودکشی کے رجحانات کا تجزیہ کرتے وقت یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں ان کے والدین کسی نفسیاتی مسئلے یا ذہنی  بیماری کا شکار تو نہیں اور کہیں ان بچوں کے گھروں میں تشدد کا معمول تو نہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں