22 سال سے برفانی انسان کی تلاش کرنے والا چینی شہری

چین میں ایک شخص گزشتہ 22 سال سے چینی برفانی انسان ( بگ فٹ) کی تلاش کی کوشش کررہا ہے اور اس کے مطابق وہ اس مخلوق کے قدموں کے نشانات بھی تلاش کرچکا ہے۔

62 سالہ زینگ جیانژنگ گزشتہ دو دہائیوں سے شیننگجیا نیشنل پارک میں چینی دیومالائی مخلوق ’ ییرن‘ کو ڈھونڈ رہا ہے  جسے چینی ’ ییٹی‘ بھی کہا جاتا ہے اور اس کا عزم ہے کہ جب تک وہ اس کو دیکھ نہیں لیتا اس وقت تک اپنی تلاش ختم نہیں کرے گا۔

یہ شخص 1994 سے اس پہاڑی سلسلے میں رہ رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہاں 6 سے 8 فٹ طویل ایک انسان نما مخلوق موجود ہے جس کا بدن سرخی مائل بھورے بالوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ چین کے تاریخی شاعر کیو یوآن نے ہزاروں سال قبل ایسے ہی ایک انسان نما مخلوق کا ذکر کیا تھا جو 3 ہزار سال قبل ژاؤ سلطنت میں بھی دیکھا گیا تھا۔

ہر سال کے 10 ماہ تک یہ شخص گھنے جنگل میں اتر جاتا ہے تاکہ ییرن کو تلاش کرسکے۔ وہ فوجیوں کے کیموفلاج لباس میں اپنا جدید ڈجیٹل کیمرہ لے کر چلتا ہے۔ ہر ویران جگہ اور غاروں کو دیکھتا ہے تاکہ انسان نما مخلوق کو تلاش کیا جاسکے۔ چینی شخص کا کہنا ہے کہ برفانی انسان کوئی کہانی نہیں بلکہ ایک سائنس ہے اور دنیا بھر کے لوگ اس پر تحقیق کررہے ہیں۔

زینگ نے ییٹی کے 100 سے زائد بالوں کے نمونے اور 3 ہزار تصاویر جمع کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اب تک صرف چین میں 400 لوگوں نے ییٹی کو دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ نیپال، ہمالیائی علاقوں اور دیگر اہم مقامات پر بھی اس مخلوق کو دیکھنے کے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔

سنجیدہ سائنسداں اسے محض ایک قصہ ہی تصور کرتے ہیں۔ بیجنگ میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے سربراہ کے مطابق جو بال ملے ہیں وہ بندروں اور ریچھوں کے ہیں یا ایسے انسانوں کے ہیں جو بالوں کو رنگتے ہیں

zhang-jianxing-yeren3-600x742

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں