کینسرکی رسولیوں کی تلاش کیلیے انسانی خون سے بنی لیزرتیار

امریکی ماہرین نے انسانی خون کے اجزا پر مشتمل ایک ایسی لیزر تیار کی ہے جس کے ذریعے انسانی خلیات (سیلز) میں کینسر پھیلنے کی خبر بہت پہلے ہی لی جاسکتی ہے۔

امریکی ماہرین نے لیزر روشنی کو انسانی خون اور چمکدار روشنائی ( فلوریسنٹ ڈائی) میں ملایا تو اس سے انسانی خلیات میں معمولی تبدیلی کو بھی نوٹ کیا گیا جو ممکنہ طور پر کینسر کو ظاہر کررہی تھی۔ اس طرح نہ صرف مریض کے لیے با اثر دوائیں شناخت کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ ان کے لیے تیر بہدف دوائیں بنانا بھی ممکن ہوگا۔

یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنسدانوں نے ایک لیزر شعاع کے لیے ایک چھوٹا خالی سا جوف (کیویٹی) بنایا اور اس میں خون اور انڈوسایانن ڈائی ( آئی سی جی ) شامل کی جو پہلے ہی طب میں بہت سے کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ لیکن انسانی خون کے تمام اجزا مثلاً سیلز، پلازمہ اور شوگر وغیرہ کو اس ڈائی کے ساتھ شامل کرکے لیزر سگنلز کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ اب اس سے آنے والی روشنی کسی انسانی ٹیومر میں معمولی سی تبدیلی بھی نوٹ کرسکتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی خون اور ڈائی سے آنے والی لیزر روشنی بہت اچھی طرح مرکوز ہوجاتی ہے۔ ایک خلیے میں موجود تبدیلیوں کو بھی نوٹ کرسکتی ہے۔ اس کی روشنی پس منظر کو چھپادیتی ہے اور ماہرین کو ہی شے نظر آتی ہے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ چونکہ آئی سی جی پلازمہ پروٹین سے جڑتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان مقامات پرنمایاں ترین ہوتی ہے جہاں خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں۔ کینسر کی رسولیاں خون کی رگوں سے پروان چڑھتی ہیں اور نئی لیزر سے انہیں اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں