ہم سب کوفہ والے ہیں

اختر عباس(ڈان نیوز)
“‫کوفہ کسی ایک جگہ کا نام نہیں ہے، بلکہ جہاں جہاں ظلم ہے اور اس پر چپ رہنے والے موجود ہیں، وہ جگہ کوفہ ہے۔” یہ الفاظ واقعہ کربلا کے شاہد اور مظلوم حضرت امام علی ابن الحسین زین العابدین رضی اللہ عنہ کے ہیں۔

یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے وہ صاحبزادے ہیں جو بیماری کے سبب کربلا کے معرکے میں میدانِ جنگ میں موجود ہوتے ہوئے بھی حصہ نہ لے سکے۔ ان کی بیمار آنکھوں نے اسیری کے سارے مرحلے دیکھے۔ بازارِ کوفہ میں اپنی پھوپھی کا خطبہ بھی، شام تک کا سفر بھی اور یزید کے دربار میں اذیت بھی سہی۔

کربلا کی داستان میں کوفہ کا شہر ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کے باشندوں نے خط لکھ کر امام عالی مقام کو بلایا اور اسی شہر کی تلواروں نے ان کے خانوادہ کی بربادی میں حصہ لیا۔

میرے دوست عامر حسینی نے کوفہ کی ڈیموگرافی پر کافی تحقیق کی ہے۔ ان کے مطابق امام حسین رضی اللہ عنہ کے قیام کے وقت کوفہ میں کئی قسم کے گروہ آباد تھے۔ ایک تو یزید کی وہ اسٹیبلشمنٹ تھی جس کا انچارج عبید اللہ ابنِ زیاد تھا۔

ابن زیاد نے اپنے عمال، جنہیں نقبا کہا جاتا تھا، کے ذریعے کوفہ میں کرفیو نافذ کیا، بلکہ کربلا کی جانب نقل و حمل پر پابندی بھی لگا دی۔ یہ طبقہ امام حسین کے خلاف کھل کر لڑا اور ہر طریقے سے اس جدوجہد کو کچلنے کی کوشش کی جو کہ ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے تھے۔ اس میں حرملہ جیسے لوگ شامل تھے۔

دوسرا طبقہ وہ اشرافیہ یا قبائلی سردار تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے یزید کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کوفہ اور کربلا دونوں میں مالی مدد، اسلحہ اور افرادی کمک بھی فراہم کی۔ اس میں عمر ابن سعد بھی تھا اور شمر ذی الجوشن بھی۔

تیسرا طبقہ وہ لوگ تھے جنہیں اموی حکام اپنے خطوط میں اہل قرا کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ وہ انڈر گراؤنڈ مزاحمت تھی، جو مختلف مواقع پر کھل کر سامنے آئی۔ ان میں مختار ثقفی، سلمان بن صرد خزاعی، ہانی بن عروہ، رفاعہ بن شداد اور مسلم ابن عوسجہ جیسے بہادر اور اہل ایمان تھے۔

ان میں سے کچھ تو وہ لوگ تھے جنہیں ابن زیاد نے واقعہ کربلا سے قبل گرفتار کروا دیا، کچھ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی مدد کے جرم میں مارے گئے، اور کچھ تمام تر پابندیوں کے باوجود چھپ کر کربلا پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہو کر ابدی نجات پا گئے۔

سب سے بڑا طبقہ مگر ان عوام کا تھا جو اپنی وفاداری کے لحاظ سے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ہمدرد تھے مگر مصلحت پسندی، معاملے کی سنجیدگی سے لاعلمی یا خوف کے تحت خاموش رہے۔

یہ وہ خاموش اکثریت تھی جن میں سے کچھ تو واقعہ کربلا کے بعد توابین کی شکل میں اور کچھ مختار ثقفی کی معیت میں اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کھڑے ہوئے۔ ایک بڑی تعداد پھر بھی ایسی رہی جنہوں نے اس ہنگامہ خیزی میں عبادات اور ذکر و سجود کی اوٹ اختیار کی اور کسی قسم کے بھی مشکل فیصلوں سے گریز کیا۔

یہ وہ بے حس ٹولہ تھا جو ایمان کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی بزدلی کی وجہ سے کوفی کہلایا۔

نہج البلاغہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مخاطَب بھی یہی لوگ تھے، ‫حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا بازارِ کوفہ میں خطبہ بھی انہیں کے نام تھا اور ‫امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا اشارہ بھی اسی مصلحت پسند اکثریت کی طرف تھا۔

اپنے تمام تر تنوع کے باوجود کوفہ اپنے بہادروں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے بزدلوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ ایک استعارہ بن گیا ہے بے حسی اور بے عملی کا۔ یہ ظالموں کے گروہ کا نام نہیں‌ ہے، بلکہ اس ظلم پر چپ رہنے والے مجمعے کا نام ہے۔ یہ ایک ایسے سماج کی شکل ہے جہاں کسی ایک مظلوم گروہ کو ایک ظالم گروہ مسلسل ظلم کا نشانہ بناتا ہے، لیکن اس ظلم سے نفرت کے باوجود لوگ تماشائی بنے اپنی اپنی عافیت گاہوں میں‌ دبکے رہتے ہیں۔

کوفہ ایک ایسے معاشرے کا نام ہے جہاں درجنوں مسافروں کو بسوں سے اتار کر، فرقے کی شناخت کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے، لیکن زبانوں سے اف تک نہیں کی جاتی کہ قتل ہونے والوں کا تعلق اپنے مسلک سے نہیں۔

کوفہ اس گاؤں کا نام ہے کہ جہاں پسند کی شادی پر لڑکیاں جلا دی جاتی ہیں اور ایف آئی آر کٹوانے سے اس محلے کا داروغہ انکار کر دیتا ہے، کہ غیرت کا مصنوعی معیار انسانی جان کے تقدس سے زیادہ پختہ تر ہے۔

کوفہ زندوں کے اس خاموش قبرستان کا نام ہے جہاں قبروں کی تختیوں سے لفظ کھرچ دیے جاتے ہیں کیوں کہ اس قبر کے مردے نے مرنے سے پہلے اپنے ایمان کا سرٹیفیکیٹ فقیہہ شہر سے نہیں لیا تھا۔

کوفہ اس بستی کا نام ہے جہاں محلے نظر آتش کر دیے جاتے ہیں کیوں‌ کہ اس کے کسی ایک مکین نے ‘مبینہ طور پر’ کسی دوسری بستی کے مکینوں کو ذہنی ازیت دی تھی۔

ہم مانیں نہ مانیں مگر ہم سب کوفہ کے رہنے والوں کا عمل دہراتے ہیں۔ ہمارا کمال صرف یہ ہے کہ ہم ہر عہد کے یزید کے دربار میں بیٹھ کر گزرے یزید کو گالیاں دیتے ہیں۔
جب بھی ہم کسی شادی میں‌ شریک ہوتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ اس لڑکی کی شادی زبردستی، اس کی مرضی کے بغیر کی جا رہی ہے، تو ہم کوفہ کے رہنے والوں کا طرزِ عمل دہراتے ہیں۔

ہم کسی حافظ صاحب کی خوش الحانی کی تعریف میں‌ زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ اس کے مدرسے کے نلکے سے 9 سال کا بچہ ساری رات بندھا رہا کیوں کہ اس نے تجوید کے قاعدوں میں غلطی کی تھی، تو ہم کوفہ والے بن جاتے ہیں۔

جب ہم کسی عورت کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے مار پیٹ کرنے والے شوہر کے پاس واپس چلی جائے کیوں‌ کہ ہماری مشرقی روایات یہ کہتی ہیں، تو ہم کوفہ والوں‌ کی صفوں میں‌ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

جب ہم کسی صفائی کرنے والے کو ‘چوڑا’ پکارے جانے پر خاموش رہتے ہیں، اس لفظ کو غلط سمجھنے کے باوجود، یا اس کے معنی سے اتفاق کر کے، تو ہم کوفی بن جاتے ہیں۔

ہم جب کسی کو منبر پر دوسروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اتنی جرات نہیں‌ کر پاتے کہ اس کی بات کاٹ سکیں، یا جب کسی ظالم اور جابر حکمران کو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا دیکھتے ہیں تو ہمارا شمار کوفیوں‌ میں‌ ہی ہوتا ہے۔

جب ہم بہنوں کو جائیداد میں حصہ نہ ملتا دیکھیں، جب ہم ہاری کی زمین پر وڈیرے کو غاصب دیکھیں، جب ہم پردیس میں پھٹنے والے کسی بم پر خوشیاں منائیں، اپنے ہم عقیدہ قاتل کی ‘شہادت’ کی برسیاں منائیں، پولیس والے کو بے گناہ کو پنکھے سے لٹکاتا دیکھیں، بچوں کا جنسی استحصال کرتے ‘معززین’ کی کہانیاں دروازے کی دہلیز سے باہر نہ جانے دیں اور سب کچھ جانتے بوجھتے اور غلط سمجھے ہوئے بھی کچھ نہ کریں تو ہم سب کوفی بن جاتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی عافیت کے کوفوں میں آباد ہیں، خاموش تماشائوں کی طرح۔ ہماری باتیں، ہماری عبادتیں، ہماری ریاکار پارسائی کوفہ کے ان باسیوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے جو اپنی اپنی پناہ گاہوں میں‌ چھپے خدا سے اپنی مرضی کے ان گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے جن کی شاید خدا کو پروا بھی نہیں تھی۔

لیکن اس دوران ظلم دیکھ کر خاموش رہ کر اتنا بڑا گناہ کر گئے جس سے رہتی دنیا تک چھٹکارہ پانا ممکن نہیں۔

اگر ہر دور کے کوفی خاموش رہنے کے بجائے اپنا اپنا فرض ادا کریں، تو شاید 61 ہجری کے بعد سے اب تک ہونے والی کئی کربلائیں وقوع پذیر نہ ہوئی ہوتیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں