مجرموں کے دماغ کا سکین۔ مجرم بننے کی حیرت انگیز وجوہات

لندن ماہرین نے قاتلوں اور مجرموں کے ذہنوں سے متعلق کچھ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ماہرین نے قاتلوں، زانیوں، بیویوں پر تشدد کرنے والوں اور جھگڑالو آدمیوں کے دماغ کے سکین کیے ہیں، جس سے انہوں نے کچھ نئے نتائج نکالے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی کے بھی دماغ میں خلل ہو سکتا ہے، جس کے باعث وہ لوگوں کوقتل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
برطانوی ماہر جرمیات(کرمنالوجسٹ) ڈاکٹر ایڈرائین رین اور اس کی ٹیم نے قاتلوں سمیت مختلف سنگین جرائم میں ملوث افراد کے دماغی سکین کیے ہیں۔ماہرین نے دیکھا کہ قاتلوں اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے دماغ عام افراد سے مٰختلف ہوتے ہیں۔ایسے افراد کے دماغ کا وہ حصہ صحیح طرح کام نہیں کرتا جو غصے اور جارحیت کو روکتا ہے۔
۔ ماہرین کے مطابق دماغ کا یہ خلل دوران حمل ماں کے سگریٹ یا شراب پینے سے بھی ہو سکتا ہے
بچوں کو پکڑ کر تیزتیز ہلانے، گلم گلوچ اور نظرانداز کرنے سے بھی دماغی خلل واقع ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بڑے آدمی کے سر میں تھپڑمارنے سے بھی دماغ خراب ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹررین نے بتایا کہ دماغ کے خراب ہونے کی ایک وجہ وقت سے پہلے پیدائش بھی ہے۔ انہوں نے یارک شائر کے ایک قاتئل پیٹر سوٹیلیفی کی مثال دی، جو 5 دن پہلے پیدا ہوا اور اس نے اپنی زندگی کے پہلے دس دن کافی سخت حالات میں گذارے
ڈاکٹر رین کا کہنا ہے کہ اگر آپ برطانیہ کے کسی بھی قاتل کے دماغ کا سکین دیکھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اُن کے دماغ میں تھوڑا خلل ہے اور اپنی تحقیق میں یہی ہم نے بتایا ہے۔ڈاکٹر رین نے بتایا کہ اگر کوئی اپنے دماغ کے مخصوص حصوں کو کنٹرول کر لے تو وہ جرم نہیں کرے گا۔ 59 سالہ ڈاکٹررین نے بتایا ، سائنس اب اس قابل ہو گئی ہے کہ بچوں کے دماغ کے سکین سے بتاسکے کہ آیا وہ مجرم بن سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے لیے انہیں بچوں کے دماغ کا سکین کر کے یہ دیکھنا ہو گا کہ بچوں کے دماغ کا پری فرنٹل کورٹیکس درست طریقے سے کام کر رہا ہے یا نہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں