آنکھوں میں آنسو نہ لانے والی پیاز ایجاد

ٹوکیو : خواتین کو رلانے والی پیاز اب انہیں رلائے گی نہیں کیوں کہ ایسی پیاز تیار کرلی گئی ہے جو خواتین کی آنکھوں میں آنسو لانے کا موجب نہیں بنے گی۔

جاپانی ماہرین کی جانب سے تیار کردہ اس پیاز کو ’ خوشی کی گیند‘ ( اسمائل بال) قرار دیا گیا ہے اور اس کی تیاری میں 20 سال کی انتھک محنت لگی ہے۔ جاپان میں ہاؤس فوڈ گروپ کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق کے بعد ایک تحقیقی مقالے میں اپنا کام بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیاز میں ایک اینزائم کی وجہ سے آنکھوں میں جلن اور اشک آتے ہیں اور ماہرین نے اسے بہت کمزور کردیا ہے لیکن سبزی کے معیار اور ذائقے پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

جاپانی سائنسدانوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی تجارتی پیمانے پر استعمال کے لیے بالکل تیار ہے لیکن اس سال موسمِ خزاں میں اس کی باقاعدہ آن لائن فروخت شروع ہوجائے گی۔ پیاز میں پایا جانے والا ایک مرکب ’’سنپروپینیتھائل ایس آکسائیڈ’’ آنکھوں میں جلن اور آنسو پیدا کرتا ہے۔ جب پیاز کاٹی جاتی ہے تو یہ مرکب گیس کی صورت میں خارج ہوتا ہے اور آنکھوں میں جلن کی وجہ بنتا ہے۔

اگرچہ پیاز کو فریج میں رکھنے سے کچھ افاقہ ہوتا ہے لیکن گیس کی چبھن مکمل طور پر ختم نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اسمائل بال پیاز سے آنسو نہیں آتے ہیں اور آنکھوں میں کوئی چبھن بھی نہیں ہوتی۔ مکمل طور پر نمو پذیر پیاز سے کوئی گیس خارج نہیں ہوتی اور اس کا ذائقہ بھی بہتر کیا گیا ہے۔ شروع میں آزمائشی طور پر 5 ٹن پیاز مختلف سٹورز میں فروخت کی گئی اور لوگوں نے اسے بہت سراہا۔ دو پیاز کی قیمت قریباً 430 پاکستانی روپے مقرر کی گئی ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں