چنے کے فوائد

چنا دنیا کے قدیم ترین اناجوں میں سے ایک ہے۔ چنادالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی دو بنیاد اقسام ہیں: کالااور سفید۔ دونوں ہی قسمیں حیاتین (وٹامنز) اور معدنیات (منرلز) سے بھرپور ہوتی ہیں۔
چنا دنیا کے قدیم ترین اناجوں میں سے ایک ہے۔ چنادالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی دو بنیاد اقسام ہیں: کالااور سفید۔ دونوں ہی قسمیں حیاتین (وٹامنز) اور معدنیات (منرلز) سے بھرپور ہوتی ہیں۔ چنے کو مختلف طریقوں سے پکاجاتا ہے۔ اس کو آگ پر بھون کرکھایا جائے تو اور بھی مزے دار لگتا ہے اور جلدی ہضم ہوجاتا ہے۔
چنے کا پانی یاشور باقبض کشاہوتا ہے۔ چنا خون کو صاف کرتا ہے۔ اسے کھانے سے رنگ بھی نکھرتا ہے۔ بدن کے فاسدمادوں کو صاف کرتا ہے۔ پھیپڑوں کے لیے یہ مفید غذا ہے۔ قدیم اطبانے چنے کو بے حد مقوی قراردیاہے، کیوں کہ یہ جسم کی توانائی بحال کرتا ہے۔ مغربی تحقیق نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اناج میں سب سے مقوی غذا چنا ہے۔ ایک چھٹانک چنے میں دوسوچھے غذائی حرارے (کیلوریز) ہوتے ہیں۔
ایک ماہر غذائیات نے چنے کے غذائی اجزا کو انڈے کی زردی کے برابرقراردیا ہے، یعنی چنے کو انڈے کی جگہ کھایا جاسکتا ہے۔ اس میں فولاد کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔
طبی لحاظ سے سیاہ چنے سفید کے مقابلے میں زیادہ مفید ہوتے ہیں۔ ویسے تو چنے کو مختلف طریقوں سے کھایا جاتا ہے، لیکن سب سے مزے داراس کا شوربا ہوتا ہے۔ چنے کاپلاؤ میں بھی بہت لذیذہوتا ہے۔ کچے چنے کو بھگونے کے بعد کھاناچاہیے، تاکہ جلد ہضم ہوجائے۔ چار تاچھے گھنٹے اس کابھیگا رہنا ضروری ہے۔ چنے کا حلوہ بھی لذیذ بنتا ہے۔ چوں کہ چنا توانائی بخش غذا ہے، اس لیے جسمانی کمزوری ہوتو اس کے چند دانے رات کو پانی میں بھگودیں اور نہار منھ اچھی چبا کرکھائیں۔ بعض افراد ورزش کے بعد یہی نسخہ آزماتے ہیں۔
چنا بادشاہوں کی غذا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ جب مغل شہنشاہ شاہ جہاں گرفتار ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ کھانے کے لیے صرف ایک اناج منتخب کرلیں۔ آپ کو روز وہی کھانا پڑے گا۔ انھوں نے چنے کو منتخب کیا، کیوں کہ ایک تو چنا توانائی بخش غذا ہے، دوسرے یہ وہ اناج ہے، جس سے تیار ہونے والی اشیا کی فہرست طویل ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں