رات کو جلد سونے والے بچوں میں موٹاپے کے خدشات آدھے

ماہرین کے مطابق اگر چھوٹے بچوں کو جلد سونے کی عادت ڈالی جائے تو آگے چل کر ان میں موٹا ہونے کے خدشات آدھے رہ جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کا مشورہ ہے کہ اسکول جانے سے قبل کی عمر کے بچوں کو 8بجے سلانے کی عادت ڈالی جائے اور اس کے برخلاف 9بجے سونے والے بچوں میں آگے چل کر موٹاپے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
یہ تحقیقی مطالعہ اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف پبلک ہیلتھ کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔گروپ کی سربراہ اور رپورٹ کی مرکزی مصنفہ سارہ اینڈرسن کہتی ہیں کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کی نیند کا معمول درست کریں۔ اس کے ٹھوس ثبوت مل چکے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو اگر موٹاپے سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کے سونے کا ٹھیک معمول بنائیں۔
دوسری جانب بچوں کی سماجی، نفسیاتی اور دماغی صلاحیتوں پر بھی اس کے اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بچوں کا موٹاپا پوری زندگی جاری رہتا ہے اور پیچیدہ مسائل کی وجہ بن سکتا ہے۔

مطالعے کی تفصیل جرنل آف پیڈیاٹرکس میں شائع ہوئی ہے جس میں امریکہ کی 10 ریاستوں میں پیدا ہونے والے 977 بچوں کا 1991 سے لے کر اس سال تک جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے جو بچے 8 بجے یا اس سے قبل سوتے تھے ان میں 10 میں سے صرف ایک بچہ ہی آگے چل کو موٹا ہوا جبکہ جیسے جیسے بچے دیر سے سوتے گئے ان میں موٹاپے کی شرح بھی اسی لحاظ سے بڑھتی گئی ۔
9 بجے یا اس کے بعد سونے والے بچوں کی 25 سے 27 فیصد تعداد موٹاپے کی شکار ہوئی۔ ماہرین کے مطابق نیند کا وقت بچوں کے ہارمون اور دیگر جسمانی افعال پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس طرح وہ فوری طور پر فربہی کے شکار نہیں ہوتے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں