اے میرے شامی بچے

اے میرے شامی بچے

اے میرے شامی بچے
تیری وخشت زدہ کھلی آنکھیں تیری حیران فرشتہ شکل صورت
تیرا بے جان لاشہ
مجھ سے دیکھا نہیں جاتا
میں نے بھی سوچا
کہ آل علوی سے آل سعود تک
ایران سے روس تک
امریکہ سے داعش اور شامی مزاحمت تک
تیرے مرنے کی کچھ توجیہہ کروں
اس میں دانش و تجربے کا مصالحہ ڈال کر
تیرے لاشے کے پار کوئی سیاسی دربار ڈھونڈ لوں.
میں تیرے مرنے کی وجہ ڈھونڈ لوں
میں کسی کو مجرم کرلوں
میں اس کی نفرت لفظوں میں پرو کر
اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرلوں.
لیکن اے میرے شامی بچے
ہر بار مجھے اپنا آپ ہی مجرم لگتا ہے.
میری بے بسی مجرم ہے.
میری بزدلی مجرم ہے.
میری دنیاداری مجرم ہے.
میری بے عملی مجرم ہے.
ہاں تیری حیران آنکھوں میں
مجھے اپنی تصویر نظر آتی ہے.
میں ہی تیرا مجرم ہوں.

بشکریہ
ریاض علی خٹک
دلیل.پی کے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں