اپنے اوقات کو قیمتی کیسے بنائیں

پہلا گر- وقت کی تعیین میں کچھ اضافی(BUFFER) رکھیں
ہم کتنے کامیا ب لوگوں کو دیکھتے ہیںکہ سالہا سال تک وہ اپنے گھر، دفتر، میٹنگز، تقریبات اور عبادات وغیرہ میں ہر جگہ وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی کم وبیش وہی مسائل درپیش ہو تے ہیں جو ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ پھر ایسا کیوں ہو تا ہے کہ ہم ہر جگہ لیٹ ہو جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ وقت پر پہنچتے ہیں۔ ان کی پابندی کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ وہ جو بھی کام کرتے ہیں اس میں سیفٹی مارجن شامل کر لیتے ہیں۔ ہم نے اگر گھر سے دفتر جانا ہے
اور ہمارے راستے کا سفر اگر 20 منٹ بذریعہ ذاتی سواری کا ہے۔ تو ہمیں ان 20 منٹ میں ”BUFFER” رکھنا ہو گا، یعنی اضافی پیش آنے والی صورت حال کے لیے وقت۔ اور یہ ”BUFFER” آپ کو اپنے گھر سے دفتر تک نہیں، بلکہ گھر کے کمرے سے دفتر کے کمرے تک رکھنا ہو گا۔
جی ہاں! ہم دفتر سے اسی لیے لیٹ ہوتے ہیں کہ ہم نے گھر کی عمارت سے دفتر کی عمارت کو ہدف کیا ہو تا ہے۔ جب کہ اکثر ایسا ہو تا ہے کہ چلتے چلتے بیگم صاحبہ کوئی سامان منگوا لیتی ہیں، والدین کوئی کام کہہ دیتے ہیں، آپ کی گاڑی پنکچر ہو جاتی ہے، کہیں ٹریفک جام ملتی ہے، کبھی دفتر کے نیچے پارکنگ نہیں ملتی یا لفٹ خراب مل سکتی ہے اور آپ کو 6،7 منزل پیدل چڑھنا پڑ جاتا ہے۔ آپ غور کیجیے 20 منٹ کے راستے کے لیے آپ نکل ہی 20 منٹ پہلے رہے ہیں اور کسی بھی غیر متوقع صورت حال کے لیے وقت ہی نہیں چھوڑا تو ایسی صورت حال پیش آنے پر تو آپ لیٹ ہی ہوں گے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ایک دفعہ تسلی سے بیٹھ کر اپنے دفتر، دکان، میٹنگ، ایرپورٹ وغیرہ تک کا فاصلہ نوٹ کریں اور پھر اس میں غیر متوقع صورت حال کے لیے 20 سے 30 فیصد تک اضافی وقت شامل کریں۔ اگر تو آپ کو کوئی غیر متوقع صورت حال پیش آئی تو یہ ”BUFFER” ہونے کی وجہ سے آپ لیٹ ہو نے سے بچ جائیں گے اور اگر خوش قسمتی سے آپ وقت سے پہلے پہنچ گئے تو آپ کو بہت سے زیر التوا کام نمٹانے کا موقع مل جائے گا۔
وقت کے ضیاع کی ایک سنگین وجہ:
ہمارا ایک بہت بڑا قومی المیہ شادی وغیر ہ کی تقریبات میں وقت کی بربادی کا ہے۔ 9 بجے کھانے کا لکھ کر 12 بجے کھانا دینا اور 2،3 بجے گھر لو ٹنا اور سیکڑوں ہزاروں لوگوں کا وقت برباد ہونا عام سی بات ہے اور اس پر کسی قسم کی فکراور شرم و ندامت بھی نہیں ہوتی۔ اگر فی فرد 2 گھنٹے بھی لیٹ ہوا اور ایک ہزار مہمانوں کی دعوت ہے تو 2 ہزار گھنٹے بن گئے، یعنی مجموعی طور پر کل 38 دن ضائع ہوئے۔ پھر اگلے دن لیٹ ہو نا، نمازوں کا ضائع ہو نا،طبیعتوں کا خراب ہونا وغیرہ جیسے مسائل پیش آتے ہیں۔ اگر آپ اس صورت حال سے احسن طریقے سے نمٹنا چاہتے ہیں تو آیندہ آپ کو جو بھی دعوت نامہ ملے تو میزبان سے بلا تکلف پو چھ لیں کہ 9 بجے طعام کا مطلب کتنے بجے ہے؟تووہ آپ کو خود بتادیں گے کہ اتنے بجے تشریف لائیں۔ اب جب آپ اس وقت پہنچ جائیں اور کھانے میں وقت باقی ہو تو سمجھ دار لوگ اس انتظار کے قیمتی وقت کو ضائع نہیں کرتے، بلکہ اس موقع کے لیے بھی کام تیار رکھتے ہیں۔
مثلا: یاد کر یں آپ کے دوست کی کچھ دن پہلے شادی ہوئی تھی۔ جس میں آ پ شرکت نہیں کر سکے اور فون کرنے کا وقت بھی نہیں ملا تو اس کو اب فون کر سکتے ہیں۔ کسی سے تعزیت کرنی ہے تو اب کر لیں۔ آپ کا موبائل بہت دنوں سے آہستہ چل رہا ہے اب فارغ وقت میں فالتو میسج ڈیلیٹ کر یں جو کہ خواہ مخواہ رفتار ہلکی کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر کام کے میسج بھی نہیں ملتے۔ اگر موبائل میں انٹر نیٹ ہے تو ای میل کا فولڈر خالی کر لیں۔ یوں ٹریفک جام، ڈاکٹر کی انتظارگاہ، جہاز، ٹرین یا بس کے سفر اور انتظار کی گھڑیاں ان چھوٹے چھوٹے کاموں کو نمٹانے کا بہترین وقت ہے۔ اسی طرح ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس میگزین آپ ابھی پڑھ رہے ہیں اور اس کو پڑھنے کا وقت بھی آپ کو مشکل سے ملتا ہے تو اس کو فولڈ کر کے اپنی جیب میں رکھیں اور جہاں موقع ملے پڑھ لیں۔
ترقی یافتہ ممالک کے عوام اور وقت کی قدر:
باہر ملکوں کے سفر کے دوران ہم نے ٹرین اور بس وغیرہ میں لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ایک ہاتھ میں بس کا جنگلہ پکڑا ہوا تھا تو دوسرے ہاتھ میں کتاب تھی۔ یعنی کھڑے ہو کر سفر کے دوران بھی مطالعہ کر تے تھے۔ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ نے کتنی ہی کتابیں، قرآن کے ترجمے اور سفرنامے وغیرہ دوران سفر ہی مکمل کیے ہیں۔ آپ اپنا یہ اصول بنا لیں کہ شادی چاہے کسی کی بھی ہو، ہم نے ہر حال میں اتنے بجے اجازت لے لینی ہے، کیونکہ ہم نے اپنے اگلے دن کی فجر بچانی ہے اور اپنے روزمرہ کے کاموں کو اپنے وقت پر تازگی کے ساتھ شروع کرنا ہے۔ اس لیے آپ میزبان کو بہت احسن طریقے سے اپنی مجبوریاں بتا کے اجازت لیجیے اور ان سے یہ کہنا نہ بھولیے کہ میں آپ کی خوشی میں بھرپور طور سے شریک ہو ں، میرے ذمے کوئی کام ہو تو بتا دیں، میں وہ کر دوں گا۔ اگر کوئی کام ہو گا تو میزبان آپ کو بتا دیں گے اور بہ خوشی اجازت بھی دے دیں گے۔ کیا آپ یقین کر یں گے کہ ایسے بھی وقت کے پابندی کر نے والے گھرانے موجود ہیں جن کی تقریبات میں کسی ناگزیر وجہ سے تاخیر ہو گئی اور اگلے دن میزبانوں نے فرداً فرداً فون کر کے مہمانوں سے تاخیر کی معافی مانگی۔ جی ہاں! اگر ہماری وجہ سے کسی کو بھی تاخیر ہو گئی تو یہ وعدہ خلافی کے ساتھ ساتھ اس کے کسی نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس صورت میں ہم نے اللہ سے اور اس بندے سے تاخیر کی معذرت کرنی ہے اور اس بندے کا کوئی نقصان ہوا ہو تو وہ بھی پورا کرنا ہے۔ یہ تو صرف تقریبات کی مثال تھی، ورنہ زندگی کے ہر شعبے میں ہم نے اپنے وقت کی خود حفاظت کرنی ہے اور اس کو کسی اور کے حوالے نہیں کرنا کہ وہ اس کو جیسے چاہیں ضائع کریں۔

دوسرا گر- فلٹر (FILTER)سیٹ کیجیے
ہمارے روزْمرہ کے اوقات میں چند گھنٹے ایسے ہوتے ہیں جن میں ہماری صلاحیتیں بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہو تی ہیں اور ہمارا دل بھی کام کر نے کو چاہ رہا ہوتا ہے اور ہمارا ذہن بھی بہتر انداز سے فیصلے کر رہا ہوتا ہے۔ بس یہی آپ کا ’’پرائم ٹائم‘‘ ہے، اس کی حفاظت کیجیے۔ اس جیسا وقت آپ کو پھر اگلے دن تک نہیں ملے گا۔ ایک صاحب کا پرائم ٹائم دوپہر کھانے کے بعد کا تھا لیکن جیسے ہی وہ کام کرنے بیٹھتے تھے، ان کی بیگم صاحبہ کا فون آجاتا تھا کیا کھایا، صحیح سے کھایا، کیسا پکا ہوا تھا، کل کیا پکاؤں،کب آئیں گے، کیا لائیں گے، شام کو کیا پہنوں؟ وغیرہ۔ آپ خود غور کریں آپ کے سامنے کسٹمر یا اسٹاف بیٹھا ہو اورآپ سے ایسے سوالات ہوں تو آپ کس طرح سے جواب دیں گے۔ ان صاحب نے اس کا بڑا اچھا حل نکالا۔ کھانے کے فورا بعد وہ خود ہی بیگم کو فون کر لیتے اور سارے متوقع سوالوں کا جو اب دے دیتے تھے۔ اس طرح کام کے دوران انہیں فون نہیں آتا تھا۔ ایک اور صاحب کو دفتر میں ایسی ہی پریشان کن صورت حال کا سامنا تھا۔ وقفے وقفے سے لوگ ان کے دفتر میں چھوٹے موٹے مسائل لے کر آتے۔ جنہیں وہ لوگ تھوڑی توجہ کے ساتھ خود بھی حل کر سکتے تھے۔ پھر مسئلہ یہ بھی تھا کہ تبصرے شروع ہو جاتے کہ کل کا میسج دیکھا تھا؟ آپ کے خیال میں اگلے انتخابات کون جیتے گا؟ شہر کے حالات کے بارے میں آ پ کی کیا رائے ہیِ؟ وغیرہ۔ اب پرائم ٹائم کے دوران اس غیر ضروری گفتگو سے کتنی کوفت اور نقصان ہوتا ہو گا۔انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ اپنے دفتر کے دروازے پر لکھ کر لگا دیا:
’’ جو کام آپ کو یہاں لے کر آیا ہے، کیا وہ کام ای میل پر ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو براہ مہربانی ای میل کر دیں۔ اگر نہیں تو آگے پڑھیں۔ جو کام آپ کو یہاں لے کر آیا ہے، کیا وہ فون پر ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو براہ مہربانی 11 بجے سے 12 بجے کے دوران فون کر لیں۔ اگر کام زیادہ ضروری ہے تو کسی وقت بھی فون کر لیں۔ اگر اس سے بھی آپ کا کام نہیں بنے گا تو آگے پڑھیں۔ آگے لکھا ہوا تھا کہ اب اندر تشریف لے آئیں۔‘‘ وہ صاحب خود کہتے ہیں کہ اس طرح فلٹر لگانے سے ان کے 50 فیصد ملاقاتی آنا بند ہو گئے اور متبادل ذرائع سے رابطہ کر نے لگے۔ اس طرح ان کو بہتر انداز میں کام کرنے کا موقع مل گیا۔ آپ بھی اپنے لیے فلٹر سیٹ کر یں اور دوسروں کو اس سے مطلع کریں۔ یاد رکھیں! اگر آپ اپنے وقت کی قدر نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا بھی آپ کے وقت کی قدر نہیں کرے گا۔

تیسرا گر- ’’ناں‘‘ کہنا سیکھیے
عقلمند لوگ کہتے ہیںکہ اگر آپ میں ’’ناں‘‘ کہنے کی ہمت ہے تو آپ میں اپنا ’’ہاں‘‘ نبھانے کی بھی ہمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ شرم و حیا میں آکر دوسروں کے کام قبول نہ کریں، بلکہ پہلے اپنا شیڈول دیکھیں کہ آیا آپ جو کام قبول کر یں گے وہ آپ مطلوبہ وقت میں کر بھی سکیں گے یا نہیں۔ آپ اگر اپنی زندگی کاکوئی ’’وژن‘‘ اور اپنے وقت کے لیے کوئی سازگار کام نہیں ترتیب دیں گے یا اس کو یوں کہہ لیں کہ اپنی زندگی کو ’’پلان‘‘ نہیں کر یں گے تو کوئی اور آپ کو اپنی پلاننگ کا حصہ بنا لے گا۔ پھر آپ کا وقت ان کے حساب سے گزرے گا۔ دوسروں کے کام آنا بہت اچھی بات ہے، لیکن اکثر ایسا ہو تا ہے کہ ہم کو پتا بھی ہو تا ہے کہ ہم اپنے مصروف شیڈول کی وجہ سے فلاں کام نہیں کر سکیں گے، لیکن ہم پھر بھی معذرت نہیں کرتے اور پھر آخر میں شرمندگی اور وعدہ خلافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر آپ کا کوئی دفتر کا ساتھی یا باس بھی آپ کو کوئی اضافی کام دے تو ان کو بتا دیں کہ پہلے میں آپ کا یہ کام مکمل کر لوں پھر آپ کا یہ کام بھی اتنے وقت میں کر دوں گا۔ چوتھا گر – ہر کام کو لکھنے کی عادت ڈالیے.
قدرت نے دماغ کو نہ تو کام یاد رکھنے کی ہارڈڈیسک بنایا ہے اور نہ ہی فون نمبرمحفوظ کرنے کی ڈائری۔ صبح سے لے کر شام تک کتنے کام ہیں جن کو ہم یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں دن فلاں وقت میں یہ کام کرنے ہیں، لیکن محض بھول جانے کی وجہ سے کتنے نقصانات اٹھاتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اپنے ساتھ ایک چھوٹی ڈائری رکھ لی جائے اور اس میں اپنے آنے والے گھنٹوں اور دنو ں کے کام لکھ لیے جائیں۔ مثلا اس میں ایک صفحہ بازار کے کرنے کے کاموں کے لیے رکھ لیا جائے اور وقتا فوقتا یاد آنے والے کام لکھ لیے جائیں، تاکہ ایک ہی چکر میں بازار سے خریداری کر لی جائے اور بار بار جانے کی وجہ سے جو اضافی وقت اور پٹرول ضائع ہو تا ہے، اس سے بچا جائے۔ آپ کے والد نے کچھ دوائیاں منگوائی ہیں، آ پ نے آج بل بھرنا ہے، بچوں کے لیے کتابیں لانی ہیں، پڑوسی سے ملاقات کرنی ہے، گاڑی کا آئل تبدیل کرنا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کام چھوٹی ڈائری میں نوٹ کرتے رہیں اور اپنے ذہن کے اضافی بوجھ کو ہلکا رکھتے ہوئے اس کو نئے نئے آئیڈیاز کو سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کے لیے ہلکا رکھیں۔

چوتھا گر – اپنے روابط بہتر بنائیے
ہم اس وقت تک ٹائم مینجمنٹ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جب تک ہمارے اردگرد ہم سے وابستہ لوگ ہمارے ساتھ معاونت نہ کریں، چاہے وہ گھر کے ہوں یا دفتر کے یا مسجد کے یا دوستوں کا گروپ۔ (باقی صفحہ13پر) آ پ نے گھر والوں کے ساتھ شادی میں یا شاپنگ میں جانا ہے اور 9 بجے نکلنا ہے ورنہ آپ لیٹ ہو جائیں گے۔ اس طرح جب ہم نے کسی کو کام دیا ہوا ہو اور حتمی تاریخ 20 جولائی مقرر ہوئی ہے، (باقی صفحہ5پر) آپ انہیں ایک ہفتہ پہلے یعنی 13 جولائی سے یہ یاد دہانی کروانا شروع کریں گے تو 20 تاریخ کو تکمیل ممکن ہو سکے گی، ورنہ اگر آپ آخر میں فون کریں گے تو وہ آپ کو کوئی عذر بیان کر دے گا۔ نتیجتاً آپ کا کام بھی ملتوی ہو گا اور اس صورت میں آپ کو وقت کے نقصان کے ساتھ ساتھ مالی اور کاروباری نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔ اس کو انگریزی میں Follow Up کہتے ہیں۔ اس طرح آپ کو کو ئی پراجیکٹ ملا ہے جس میں آپ کے علاوہ کئی لوگ شامل ہیں تو سب کے کاموں اور درکار وقت کی فہرست بنائیں اور پھر 20 سے 30 فیصد سیفٹی مارجن رکھتے ہوئے آگے ٹائم دیں۔

پانچواں گر – برکت والے وقت میں کام شروع کریں
اللہ رب العزت نے صبح سویرے کے وقت میں برکت رکھی ہے۔ اس وقت میں جو بھی کام کیا جائے اس کو مکمل یکسوئی اور توجہ حاصل ہوتی ہے۔ نہ ہی ملاقاتیوں کا آنا جانا ہوتا ہے اور نہ ہی فون کالز کام میں مُخِل ہوتی ہیں۔ جتنے بھی کامیاب لوگ گزرے ہیں اور موجود ہیں سب میں مشترک بات صبح سویرے اٹھنا ہی ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی صبح کے وقت کی اہمیت سے واقف ہیں۔ آپ انٹر نیٹ پر دنیا کے 100 بڑے (کمپنی مالکان وغیرہ) کے بارے میں سرچ کریں، آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ تقریبا سارے لوگ صبح سویرے 4 بجے سے 6 بجے تک اٹھتے ہیں اور شام 7 سے 8 بجے تک اپنے گھر بھی چلے جاتے ہیں۔ کام کے دوران وہ اپنی صحت کو نظر انداز نہیں کرتے اور مختلف ورزش اور کھیل کے ذریعے اپنے آپ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہزاروں ملازمین دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں،کروڑوں اربوں کے لحاظ سے سیل ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود صبح سویرے اٹھتے ہیں۔ باقاعدگی سے اپنے کام، گھر، صحت اور معاشرے وغیرھ میں توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے کاروبار کو بھی ترقی دے رہے ہیں۔

ساتواں گر – قیلولے کی سنت اپنائیے
قدرت نے ہمیں جو دن رات مہیا کیے ہیں، اگر ہم ان کو قدرت کے اصولوں کے تحت گزاریں تو آخرت کی تو ان شاء اللہ کامیابی ہے ہی، ہم دنیا میں بھی ایک کامیاب ترین انسان کے طور پر جانے جائیں گے۔ جب ہم صبح سویرے اٹھیں گے تو ظاہر ہے دوپہر کو ہمارا جسم کچھ تھکن محسوس کرے گا اور نیند بھی آئے گی۔ اب ہمارا جسم مانگ رہا ہے نیند اور ہم دے رہے چائے یا سگریٹ اور ان چیزوں میں موجود کیفین وقتی طور پر تو ہمیں تازہ دم کر دیتے ہیں، لیکن دور اندیشی میں ہمیں اپنا عادی بناتے ہوئے نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ دوپہر کو ظہر سے پہلے 10 منٹ سے لے کر ایک گھنٹے تک آرام کریں۔ اگر لیٹنے کی جگہ میسر نہیں تو اپنی میز پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملے تو اپنی کرسی پر ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ یہ مختصر سا قیلولہ آپ کو ایک طرح سے نیا دن فراہم کرے گا اور آپ مزید چاقو و چوبند طریقے سے اپنا کام کر سکیں گے۔ ہمارے کاروباری اوقات کے لحاظ سے یہ مشکل نظر آتا ہے لیکن ناممکن نہیں ہیں۔

اپنی طرف سے صبح جلدی اٹھنے اور کام شروع کرنے، دوپہر کو قیلولہ کرنے اور رات کو جلدی سونے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالی سے عافیت اور آسانی کی دعا کرتے رہیں تو یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ ہم بھی اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے وقت کی قدر کرنا ہو گی اور ایک ایک منٹ کے لیے مصروفیت نکالنی ہو گی۔ اگر کوئی کارگر مصروفیت نہیں نکالیں گے تو یہ وقت بھی ضائع ہو جائے گا جس کا ہم کو ئی ازالہ بھی نہیں کر سکتے۔ ’’جو وقت کو ضائع کرتا ہے درحقیقت وقت اسے ضائع کر جاتا ہے‘‘

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں