پاکستان کی مدر ٹریسا نہیں رہیں

پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والی جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ کراچی میں انتقال کر گئی ہیں۔

ان کی پیدائش نو ستمبر 1929 کو جرمنی میں ہوئی تھی جہاں وہ عالمی جنگ کی وحشیتیں دیکھ کر بڑی ہوئی تھیں۔

عالمی جنگ کے بعد جرمنی جب دو حصوں میں تقیسم ہوگیا تو ڈاکٹر رتھ ایسٹ جرمنی سے ویسٹ جرمنی میں داخل ہوگئیں جہاں انھوں نے صحت کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد انھوں نے کیتھولک ‘ڈاٹر آف دے ہارٹ آف دی میری’ نامی تنظیم کو جوائن کیا۔

1960 میں انھوں نے اپنے وطن کو خیرآباد کہا اور انھیں مشن کی جانب سے انڈیا بھیجا گیا لیکن ویزے میں کچھ معاملات کی وجہ سے انھیں کراچی میں رکنا پڑا۔ یہاں انھیں جذام کے علاج کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ جب انہوں نے پہلی بار آئی آئی چندریگر روڈ پر جذام کے مریضوں کی کالونی کا دورہ کیا تو ماحول دیکھ کر کافی افسردہ ہوئیں۔

میں وہ جنوبی انڈیا گئیں جہاں انھوں نے جذام کے مریضوں کی دیکھ بحال کی تربیت حاصل کی جس کے بعد وہ واپس کراچی آئیں۔ یہاں انھوں نے جذام کو کنٹرول کرنے کا پروگرام شروع کیا۔

حکومت کی معاونت سے انھوں نے سندھ کے علاوہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جذام کے مریضوں کے لیے مراکز قائم کیے۔ ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے 1979 میں انھیں وفاقی محکمہ صحت نے جذام کے بارے میں معاون مقرر کیا۔

ڈاکٹر رتھ نے 1996 میں بالآخر جزام پر قابو پالیا جس کے بعد پاکستان ایشیا میں پہلا ایسا ملک قرار دیا گیا جہاں جذام پر قابو پایا جاچکا تھا۔

انھوں نے پاکستان میں اپنے کام پر جرمن زبان میں چار کتابیں لکھی ہیں، جن میں سے ‘ٹو لائیٹ اے کینڈل’ کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ انھیں پاکستان میں ستارہ قائد اعظم، ستارہ ہلال ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں