عطیہ کئے گئے اعضا کو زیادہ دن تک محفوظ رکھنے کی تکنیک متعارف

عام طور پر عطیہ کیا جانے والا عضو 24 گھنٹے کے دوران دوسرے جسم میں منتقل کرنا لازمی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو جسم سے نکلے ہوئے اعضاء کے خلیے مرجاتے ہیں اور وہ بےکار ہو جاتا ہے تاہم امریکی تحقیق کاروں نے ایسی تکنیک متعارف کرادی ہے جس کی بدولت ٹرانسپلانٹ کئے جانے والے اعضا کو زیادہ وقت تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

سپر کولنگ ، جی ہاں یہ وہ تکنیک جس کی بدولت اعضا کے دم توڑتے خلیوں کی رفتار کو انتہائی سست کرکے اسے مزید 3 دن تک محفوظ رکھا جاسکے گا۔ لندن میں کی جانے والی اس تکنیک کی مدد سے ٹرانسپلانٹ کئےجانے والے عضو کو منفی 6 ڈگری پر ٹھنڈا کردیا جاتا ہے اور اس کے ویسلز سے آکسیجن کو پمپ کیا جاتا ہے جس کے باعث عضو کے خلیے مرتے نہیں یا پھر ان کی مرنے کی رفتار انتہائی سست ہو جاتی یعنی میٹابولک کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں چوہے کے جگر کو ٹرانسپلانٹ کرنے کا تجربہ کیا گیا اور 3 روز بعد چوہے کا جگر تبدیل کیا گیا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔

امریکی ڈاکٹر روزمیری ہن زائکر کا کہنا ہے کہ اس تکنیک سے نہ صرف ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ عطیہ کیئے گئے عضو کو زیادہ دنوں تک محفوظ رکھ سکیں بلکہ اس سے مریض کو بہتر میچنگ اعضا بھی میسرآسکیں۔ یہ ایک زبردست پیش رفت ہے اور اس کی بدولت کئی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

ہاورڈ میڈیکل اسکول کے ڈاکٹر کورکٹ کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کی بدولت دنیا میں کسی بھی مقام سے عطیہ کئے گئے عضو کو ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے گا۔ اور اس سے بہتر میچنگ عضو کو بآسانی حاصل کیا جسکے گا۔ اس سے قبل میچنگ عضو کے نہ ملنے سے عطیہ کئے گئے بہت سے اعضا ضائع ہو جاتے تھے تاہم اب ان اعضا کو بھی سپر کولنگ تکنیک کی وجہ سے کئی روز تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں