لیڈی ڈیانا ’دنیا کی شرارتی ترین ماں‘

پرنس ولیم اور پرنس ہیری نے لیڈی ڈیانا کی 20 ویں برسی کے موقعے پر اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے انھیں دنیا کے ‘شرارتی ترین والدین میں سے ایک’ قرار دیا ہے۔
انھوں نے لیڈی ڈیانا کی 20 ویں برسی پر پیش کی جانے والی آئی ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں کہا ہے کہ وہ ‘محل کی دیواروں کے باہر کی حقیقی دنیا کو خوب سمجھتی تھیں۔’
دونوں شہزادوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے انھیں کتنے پرلطف انداز میں پالا تھا اور وہ ‘پوری طرح سے خود بھی بچہ ہی تھیں۔’
انھیں افسوس ہے کہ ان کی آخری بات بہت مختصر تھی اور وہ ایک فون کال تھی جو انھوں نے اپنی موت کے دن پیرس سے کی تھی۔ شہزادہ ولیم نے کہا کہ انھوں نے فون پر کیا کہا وہ تو یاد نہیں لیکن ان کی ماں نے جو کہا وہ انھیں یاد ہے اور وہ اس کی تفصیل ظاہر نہیں کر سکتے۔
اس پروگرام میں شہزادوں کے ساتھ ان کی کئی غیر مطبوعہ تصویریں بھی شامل ہیں۔
شہزادی ڈیانا 31 اگست سنہ 1997 کو پیرس کے ایک کار حادثے میں ماری گئی تھیں۔ اس وقت شہزادہ ولیم 15 اور شہزادہ ہیری 12 سال کے تھے۔
آئی ٹی وی کو پرنس ہیری نے اپنی ماں کی برسی پر انھیں یاد کرتے ہوئے بتایا: ‘میرے اور ولیم کے لیے وہ دنیا کی آج تک کی بہترین ماں تھیں۔’
ان کے حس مزاح کو یاد کرتے ہوئے پرنس ہیری نے کہا: ‘ہماری ماں پوری طرح سے بچہ تھیں۔ جب کوئی کہتا ہے کہ وہ اتنی پرمزاح تھیں تو ان کی کوئی بات بتاؤ تو میرے کانوں میں صرف ان کی ہنسی گونجتی ہے۔’
انھوں نے مزید کہا: ‘میری ماں کی ایک بات مجھے یاد ہے کہ تم جتنی شرارت کرنا چاہو کرو لیکن یاد رہے پکڑے نہ جاؤ۔
‘وہ سب سے زیادہ شرارتی والدین میں سے تھیں۔ وہ ہمیں فٹبال کھیلتا دیکھتیں اور ہمارے موزوں میں مٹھائی ڈال دیتیں۔’
پرنس ولیم نے بتایا کہ ان کی ماں بہت غیر رسمی تھیں اور ہنسی مذاق بہت پسند کرتی تھیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں