موٹاپا کم کیجئے، نشاستہ کم کھائیے

ڈاکٹر سمیعہ بابر
جب آپ وزن میں کمی کے لیے ڈائٹنگ کرنا چاہتی ہیں تو اس الجھن میں مبتلا ہوجاتی ہیں کہ لحمیات (پروٹینز) زیادہ کھائیں، بحیرہ روم کے ملکوں میں پائی جانے والی غذاؤں پر انحصار کریں (بحیرہٴ روم یورپ شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا پر مشتمل ہے) ، غذامیں چکنائی کی مقدار کم کریں یاپھر نشاستہ (کاربوہائڈریٹ ) کھانا ترک کردیں؟
عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب غذا میں چکنائی کھانا کم دیتے ہیں تو ہمارا پیٹ سکڑ جانا ہے، جب کہ چکنائی زیادہ کھانے سے پیٹ اور کولھے بڑھنے لگتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم میں پہلے سے چکنائی ہوتی ہے اور جب ہم روغنی غذائیں کھاتے ہیں تو اس کی مقدار بڑھ جانے سے ہمارا وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔
حال ہی میں ٹیولین یونیورسٹی میں ایک تحقیق کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ پیٹ میں کمی کے لیے چکنائی کم کرنے کے بجائے نشاستے والی چیزیں ، مثلاََ روٹی، پاستااور چاول اپنی غذا سے کم کیے جائیں۔ ایسا کرنے سے دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ کم رہتا ہے اور وزن بھی گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق کاروں کاوزن کم کرنے والوں کو مشورہ ہے کہ وہ چکنائی اور لحمیات کھائیں، لیکن ان کے ساتھ سبزیاں بھی کھائیں، جن میں شاخ گوبھی (بروکولی) ، گاجر اور پالک شامل ہوں تو بہتر ہے۔ مانع تکسید (ANTIOXIDANT) پھل مثلاََ بیریاں (BERRIES) اور نارنگی بھی فائدہ مند ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کے وزن کم کریں گی، بلکہ آپ کو سخت ورزش بھی نہیں کرنی پڑے گی۔
غذا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نشاستے والی غذائیں طویل عرصے کے لیے چھوڑ دینا اور صرف لحمیات اور چکنائی والی غذائیں کھانا نقصان دہ ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ اگر آپ نشاستے والی غذائیں ہمیشہ کے لیے ترک کردیں گے تو آپ پر غنودگی طاری ہوجائے گی اور آپ ہلکاکام کرنے کے بعد بھی تھکن محسوس کریں گے۔ زینہ چڑھنا آپ کے لیے دشوار ہوجائے گا، اس لیے کہ ہماراجسم نشاستے کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
ساری چکنائیاں بھی مضر نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر اومیگا۔ 3شحمی تیزاب اور غیر شدہ چکنائیاں آپ کامزاج شگفتہ رکھتی ہیں۔ یہ آپ کے دماغ کو چاق چوبند رکھتی ہیں۔ آپ کو تھکن سے بچاتی ہیں۔ اگر انھیں مناسب مقدار میں کھایاجاے تو یہ وزن بھی کم کردیتی ہیں۔
مذکورہ بالاباتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے متوازن غذاکھائیں، مگر بازاری غذاؤں سے اجتناب کریں اور ہلکی پھلکی ورزش کرنا نہ بھولیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں