اب کینسر کو سن کر بھی اس کا علاج کیا جاسکے گا

دماغی رسولی یا دماغ میں سرطانی خلیات کو سرجری سے ہٹانے کے لیے تیز آنکھوں اور ہموار گرفت والے ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب ایک آواز بھی سرجن کی معاونت کرسکتی ہے۔
اس کے لیے سرجنوں نے دماغ کے آپریشن کے دوران کینسر زدہ خلیات پر لیزر ڈالی اور اس کے سگنل تصویر پر موصول ہوئے جس کے بعد انہوں سرطانی اور غیرسرطانی خلیات کو شناخت کیا اور اس طرح سرجن کینسر کی آواز سن کر اس کا قلع قمع کرسکتے ہیں۔

کینسر کی شناخت کے لیے آڈیو سگنل کا یہ نیا سافٹ ویئر یونیورسٹی آف اسٹریچ کلائیڈ کے ماہرین نے تیار کیا ہے جس کی مدد سے دماغی سرطان کی سرجری میں مدد لی جارہی ہے۔ ایک تحقیق کار کے مطابق یہ سرجن کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ اپنی پوری توجہ سرطان زدہ حصے اور اسے کاٹنے والے نشتر پر رکھ سکے۔

یہ سافٹ ویئر رامن اسپیکٹرواسکوپی کے ذریعے بتاتا ہے کہ کونسی جگہ پر کینسر ہے اور کونسے خلیات (سیلز) صحتمند ہیں۔ اس میں خلیات پر لیزر شعاعیں پھینکی جاتی ہیں اور واپس آنے والی روشنی خلیات کی ایک مبہم تصویر بناتی ہے۔ ان تصاویر اور گراف کو دیکھتے ہوئے معلوم کیا جاسکتا ہےکہ لیزر کینسر کے اوپر ہے یا وہ مقام بیماری سے پاک ہے۔ دماغ اتنا نازک ہے کہ اس کا ہر حصہ اپنی اہمیت رکھتا ہے اور تندرست جگہ کو نکالنے سے مریض معذور، ہلاک یا مزید بیماربھی ہوسکتا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی 2 سال پرانی ہے لیکن اب اس میں آڈیو سگنلنگ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس نظام کی تیاری میں برطانیہ کی ممتاز جامعات اور اسپتالوں نے حصہ لیا ہے اور سب سے کمال کی بات یہ ہےکہ کینسر نظر آتے ہی ایک خاص آواز خارج ہوتی ہے۔ اس طرح 70 فیصد درستگی کے ساتھ دماغی کینسر کی شناخت ہوسکتی ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں