ماہ رمضان کے فضائل و مسائل

تحریر؛علامہ ابو طیب رفاقت علی حقانی
اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے ہیں قرآن میں ارشاد ربانی ہے کہ”اے ایمان
والو!تم پر روزے فرض کئے گے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے“(پ2)۔
حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر امت پرروز ہ فرض رہے چنانچہ حضرت آدم
علیہ السلام کی امت پر ہر قمری مہینہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے تین روزے اور موسیٰ علیہ السلام
کی امت پر یوم عاشورہ کا روزہ فرض رہا۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑے پیارے انداز میں فرمایا کہ روزے
صرف تم پر فرض نہیں کئے تم سے سابقہ امتوں پر بھی فرض تھے روزہ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کے تم جہنم
کی آگ سے بچ جاؤ گے کیونکہ گناہ کرنے والا نفس ہے اور یہ کھانے پینے سے قوی ہوتا ہے جب روزہ سے

اس کی قوت ٹوٹے گی تو تمہیں گناہ کی طرف رغبت بھی کم ہو گی اور پرہیز گاری بھی حاصل ہو گی۔
روزہ رکھنے میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔روزہ رکھنے سے بھوک اور پیاس کا پتا چلتا ہے جس سے غذا
اور پانی کی قدر ہوتی ہے بھوک بہت سی بیماریوں کا علاج ہے کیونکہ اس سے معدے کی اصلاح ہوتی
ہے۔حضورﷺ نے فرمایا روزہ رکھو صحت یاب ہو جاؤگے۔
تین شخص بہت بد نصیب ہیں ایک وہ جو حضورﷺ کا نام سنے اور درود نہ بھیجے،دوسرا وہ جو ماں باپ کا
بڑھاپا پا کر جنت حاصل نہ کرے،تیسرا وہ جو رمضان پا کرجہنم سے آزادنہ ہو جائے(حدیث)۔قیامت کے دن

ماہ رمضان ا ور قرآن روزہ دار کی شفاعت کریں گے۔حدیث شریف میں ہے کہ رمضان کی آمد پر جنت کے
دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروزے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابند سلاسل کر
دیا جاتا ہے۔رمضان شریف میں جو شخص نفل ادا کرے گا فرض کا ثواب پائے گا اور جو فرض ادا کرے گا
اسے70فرائض کا ثواب ملے گا۔اس ماہ کا اول عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور آخری جہنم سے آزادی کا ہے
(حدیث)
علماء فرماتے ہیں کے جو رمضان میں مر جائے اس سے قبر کے سوالات نہیں ہوتے،رمضان شریف میں
سحری اور افطاری کے وقت کی جانے والی دعا ئیں قبول ہوتی ہیں اس کے علاوہ شب قدر بھی قبولیت والی
شب ہے،ہرشے کی پہچان کے لئے کچھ نشانیاں ہوتی ہیں مثلابارش ہوتی ہوتو آسمان پر کالے بادل چھاجاتے
ہیں اور جب قیامت قریب آئے گی تو لوگ شراب کا استعمال بکثرت کریں گے سورج مشرق کی بجائے مغرب
سے طلوع ہو گا اسی طرع شب قدرکی نشانیوں سے متعلق امام شعرانی علیہ الرحمتہ لکھتے ہیں کہ شب قدر
صاف اور شفاف ہوگی نہ گرمی کی حدت ہوگی نہ سردی کی شدت، ہوا نہ ہوگی اس رات کو بارش بھی نہ
ہوگی اور اس رات کی صبح کو خورشید بغیر شعاع کے طلوع ہوگا۔
رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں اعتکاف بیٹھنا دو حج اور دو عمرے کرنے کے برابر ہے جبکہ
عورت اپنے گھر کی مسجد میں اعتکاف کرے اگرگھر میں مسجدنہ ہو توگھر کا ایک گوشہ اس مقصدکے لئے
استعمال کرے۔
رمضان شریف میں بیس ر کعت نماز تراویح سنت موکدہ ہے۔صحابہ اورخلفائے راشدین کے عہد میں تراویح
بیس رکعت پڑھی گئیں،چاروں اماموں کا بھی بیس رکعت پر اتفاق ہے،مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں شروع
سے لے کر آج تک بیس رکعت ہے پرعمل ہے۔ رمضان شریف میں کم از کم ایک دفعہ قرآن ختم کرنا چاہئے
اگر زیادہ ہو سکے تو بہت ثواب ہے، ہمارے امام اعظم ابوحنیفہؓرمضان اکسٹھ(61)دفعہ قرآن ختم کرتے ایک
دن کو ایک رات کو اورایک نمازتراویح میں۔
مسائل و احکام؛سال میں پانچ دن کے روزے رکھنا حرام ہے،عید الفطر اور13,12,11,10ذوالحجہ، لہٰذا
مریض اور مسافر جن کے ذمہ قضا روزے ہوں وہ ان پانچ دنوں کے علاوہ قضا کریں۔ حاملہ یا دودھ پلانے
والی عورت کو روزہ سے اپنی یا بچے کی جان کا اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھناجائز ہے،سرمہ لگانے، تیل
لگانے،خوشبوسونگھنے اور مسواک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا بلکہ مسواک کے تو بہت فوائد ہیں۔منہ میں
تھوک اکھٹا کر کے نگل جانا روزہ میں اور اس کے علاوہ بھی ناپسندیدہ فعل ہے بلکہ روزہ کی حالت میں
مکروہ ہے قصداًمنہ بھر کے برابر ہی ہو تو روزہ نہ ٹوٹے گا۔

جھوٹ،گالی،غیبت،کسی کو تکلیف دینا،تاش،شطرنج،سینما،تماشا،سود،رشوت،داڑھی مو نڈوانایا کترنا،گانا
بجاناوغیرہ ویسے بھی یہ چیزیں ناجائزوگنا ہ ہیں اور روزہ میں زیادہ حرام اور روزہ کے مکروہ ہونے کاسبب
ہیں ان سب سے بچنا چائے تاکہ روزے کا اصل لطف حاصل ہو سکے۔کلی کی بلاقصد پانی حلق سے اتر گیا یا
ناک میں چڑھایا اور دماغ کو چڑھ گیا روزہ ٹوٹ جائے گامگر جبکہ روزہ کا ہونا یاد نہ ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے
گااگرچہ قصداً ہو۔
عید کی نماز سے پہلے پہلے اپنی اور اپنے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرناواجب ہے صدقہ فطر
گھرکے تمام افراد کی طرف سے ادا کرنا چائے حتیٰ کہ عید کے دن بھی سورج طلوع ہونے سے پہلے جو
بچہ پیدا ہو اس کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
صدقہ فطر ادا نہ کرنے سے روزے،زمین اورآسمان کے درمیان معلق رہتے ہیں۔نماز عید سے پہلے نوافل ادا کرنا مکروہ ہے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں