حکیم ترمذی رحمتہ اللہ علیہ

حکیم ترمذی رحمتہ اللہ علیہ کو اللہ تعالی نے دین کا بھی حکیم بنایا تھا اور دنیا کی بھی حکمت دی تھی، آپ ترمذ کے رہنے والے تھے دریا آمو کےبالکل کنارے پر انکا مزار ہے آپ اپنے وقت کے ایک بہت بڑے محدث بھی تھے اور طبیب بھی، اللہ رب العزت نے آپکو حسن وجمال اتنا دیا تھا کہ دیکھ کر دل فریفتہ ہوجاتا تھا اس ظاہرحسن کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے آپ کو باطنی حسن سے بھی بے پناہ نوازا تھا اور انکو اپنے علاقہ میں قبولیت تامہ عطاکر رکھی تھی

آپ عین جوانی کے وقت ایک دن اپنے مطب میں بیٹھے تھے کہ ایک عورت آئی جو انتہائی حسینہ و جمیلہ تھی اس نے اپنے چہرے کا نقاب الٹ دیا اور کہنے لگی میں آپ پر فریفتہ ہوں، بڑی مدت سے موقع کی تلاش میں تھی، آج تنہائی ملی ہے، آپ میری خواہش پوری کریں، آپ کے دل پر خوف خدا غالب ہوا تو آپ رو پڑے اور انداز سے روۓ کہ وہ عورت نادم ہوکر واپس چلی گی وقت گزر گیا اور آپ اس بات کو بھول گے، جب آپ کے بال سفید ہوگے اور آپ نے حکمت کا کام بھی چھوڑ دیا تو ایک مرتبہ آپ مصلے پر بیٹھے تھے، ایسے ہی آپ کے دل میں خیال آیا کہ فلاں وقت جوانی میں ایک عورت نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا، اس وقت اگرمیں گناہ کربھی لیتا تو کیا تھا کہ آج میں توبہ کرلیتا، لیکن جیسے ہی دل میں یہ خیال گزرا تو آپ رونے بیٹھ گے

کہنے لگے، اۓ رب کریم ! جوانی میں تو یہ حالت تھی کہ میں گناہ کا نام سن کر اتنا رویا تھاکہ میرے رونے سے وہ عورت نادم ہوکر چلی گی تھی. اب میرے بال سفید ہوگے تو کیا میرا دل سیاہ ہوگیا ہے” اۓ اللہ ! میں تیرے سامنے کیسے پیش ہوں گا؟ اس بڑھاپے کے اندر جب میرے جسم میں قوت ہی نہیں رہی تو آج میرے دل میں گناہ کا خیال کیونکر پیدا ہوا، روتے روتے اسی حالت میں سوگے، خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی،آقا دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، حکیم ترمذی! تو کیوں روتا ہے؟ عرض کیا، میرے محبوب ! جب جوانی کا وقت تھا جب شہوت کا دور تھا جب قوت کا زمانہ تھا جب اندھے پن کا وقت تھا، اس وقت تو خشیت الہی کا یہ عالم تھا کہ گناہ کی بات سن کر میں اتنا رویا تھاکہ وہ عورت نادم ہوکر چلی گئ، لیکن اب جب بڑھاپا آیا ہے تو اۓ اللہ کے محبوب ! میرے بال سفید ہوگے ہیں، لگتا ہے کہ میرا دل اس قدر سیاہ ہوگیا ہےکہ میں سوچ رہا تھا کہ میں اس عورت کی خواہش پوری کردیتا اور بعد میں توبہ کرلیتا، میں اس لیے آج بہت پریشان ہوں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دیتے ہوۓ فرمایا: یہ تیری کمی اور قصور کی بات نہیں، جب تو جوان تھا تو اس زمانے کو میرے زمانے سے قرب کی نسبت تھی ان برکتوں کی وجہ سے تیری کیفیت اتنی اچھی تھی کہ گناہ کی طرف خیال ہی نا گیا، اب تیرا بڑھاپا آگیا ہے تو میرے زمانے سے دوری ہوگی ہے اس لیے اب دل میں گناہ کا وسوسہ پیدا ہوگیا تھا، بحوالہ بکھرے موتی جلد ہفتم

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں