محمد بن موسی خوارزمی

بیت الحکمت کی رکنیت کا سودا ایسا اس کے سر پرسوار ہوا کہ وہ ترکیبیں سوچتا رہتا تھا کہ کس طرح وہ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے؟ جدت اور اختراع تو اللہ تعالی نے اسے ودلعیت کۓ ہی تھے چنانچہ ایک دن اس کو ایک انتہائی اچھوتا خیال سوجھا، اس نے شب وروز کی دیدہ ریزی سے علم ریاضی پر ایک تحقیقی مقالہ لکھنا شروع کردیا

مقالہ تیار ہوگیا تو اس نے اس کو بیت الحکمت بھیج دیا، اس مقالے کے پہنچتے ہی بیت الحکمت میں کھلبلی مچ گی، چنانچہ محمد بن موسی خوارزمی کو فورا” طلب کرلیا گیا دارالحکومت کے ذہین ترین علماء کا ایک اجلاس ہوا، اس سےاس کے مقالے کے بارے سوالات کۓ گے اورآخرکار اس کو بیت الحکمت کی رکنیت دے دی گی، خوارزمی پہلا شخص تھا جس نے مقالہ لکھنے کا طریقہ نکالا، دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے مقالہ لکھنے کا یہ طریقہ ابھی تک رائج ہے اب بھی ڈگری کے امیدوار کو پروفیسروں کے ایک بورڈ کے سامنے مقالے کے بارے میں کئے گے سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے جوڈیفینس کہلاتا ہے

اب خوارزمی گمنام نہیں رہا تھا اب وہ مامون کے دربار کی ایک اہم شخصیت اور خلیفہ مامون کا منظور نظر تھاخلیفہ مامون نے اس کے سپرد یونانی کتب کو اکٹھا کرنے اور ان کا ترجمہ کرنے کاکام کردیا، خوارزمی کو اور کیاچاہیے تھا اس کا بیشتر وقت مامون کے کتب خانے میں گزرنے لگا وہ سب کتابیں چاٹ گیا جو وقت بچتا وہ علماء کی صحبت میں گزارتا تھا، وہ ایک مقتدر ماہر فلکیات ، ریاضی دان اور تاریخ دان تھا لیکن سائنسی تاریخ میں اس کی اصل اہمیت ریاضی دان کی حیثیت سے ہے خلیفہ مامون کی فرمائش پر اس نے ایک کتاب” علم الحساب” لکھی اس کا موضوع علم ہندسہ ہے اور اس میں ریاضی کے اہم نکات اور نۓ اصول وقواعد پر بحث کی گئ ہے خلیفہ مامون کو یہ کتاب بےحد پسند آئی اور اس نےخوارزی کی اس کاوش پر اسے دل کھول کر انعام واکرام سے نوازا

دوسری کتاب” الجبروالمقابلہ” بھی خلیفہ مامون کے کہنے پر لکھی گی” علم الحساب ” کی طرح یہ کتاب بھی اپنی مثال آپ ہے یہ الجبرے کے علم کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اس کتاب کے حوالے سے محمد بن موسی خوارزمی کو اتفاق راۓ سے الجبرے کا موجد تسلیم کیا جاتا ہے اس کتاب میں سادہ اور دو درجی مساواتوں کے حسابی حلوں، ابتدائی ہندسہ اور تقسیم کے مسائل کے حل کےلیے قوانین منضبط کۓ گے ہیں یہ کتاب علم ریاضی کی کلدانی، یونانی،عبرانی، اورہندوستانی روایات کے تقریبا” تین ہزار برس پرحاوی ہے بارہویں صدی عیسوی میں اس کتاب کا لاطینی میں ترجمہ ہوا، اگرچہ اس پر عمل دیر میں کیاگیا، اہل یورپ کو الجبرے سے متعارف کروانے سہرا خوارزمی کے سر ہے اس کے دریافت کردہ قاعدے اور قوانین آج تک سکولوں اور کالجوں میں پڑھاۓ جاتے ہیں،

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں