نجات کا راستہ

آج سے کوئی چودہ صدیاں قبل چند نفوس قدسیہ عرب کے ریگزاروں سے لے کربحراوقیانوس کے ساحل تک اورپامیر کی برف پوش چوٹیوں تک نبی آخرالزمان ﷺکاکلمہ پڑھ کر دین اسلام کی تبلیغ، ترویج اورتنفیذ میں مصروف عمل تھے اورخالصتاً اللہ کی رضاجوئی کے حصول کے لیے دیوانہ وار کام کررہے تھے اورمصائب وآلام کوجھیل کردین متین کوہم تک پہنچانے کی پوری کوشش کررہے تھے۔

تزکیہ قلوب کے مراحل سے گزرے تونطق نبوت نے ان کومعیار حجت قراردیتے ہوئے فرمایااے دنیا بھر کے انسانو!اگرتم فلاح اورکامیابی چاہتے ہو،خیراوربھلائی چاہتے ہو،سیدھی راہ کے متلاشی ہواورجنت حاصل کرناچاہتے ہوتو پھر تم کووہ راستہ اختیار کرناہوگا جومیرا راستہ ہے اورمیرے صحابہ کاراستہ ہے’’مااناعلیہ واصحابی۔‘‘

ان درویش منش انسانوں کے راہ پرچل کرہی تم فلاح کوپہنچ سکتے ہو۔آج افتراق کے ہرطرف درکھلے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ انہی( صحابہ) کے راستے کوچھوڑنااوراپنی عقل نارسا کو اپنارہنما بناناہے۔

آج اگر صحابہ کے عقائد ونظریات کو دل وجان سے مان لیا جائے اور ان کے فیصلوں کوبسروچشم قبول کر لیاجائے ان کے فتوئوں پرعمل کرنا شروع کردیا جائے تو مسلمان جہاں خودمستحکم ہونگے وہیں دوسروں کو بھی انصاف فراہم ہوگا اور انتشار بے سکونی بے چینی اور مسلسل پریشانیاں سب خود بخود ختم ہوجائیں گی اوراگر’’ خاکم بدہن‘‘ ان کے نافذ کردہ فیصلوںکوغیرشرعی کہا جاتا رہا اور ان کی مبارک سنتوں کی’’ بدعت ‘‘کا نام دیا جاتا رہا۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ نام نہاد عامل بالحدیث ان کو فاسق گردانتے رہے اور بغض میں آکر ان کا تمغہ رضاء (رضی اللہ عنہ )محو کیاجاتا رہا اور ان کی خلافت راشدہ کو قہرخداوندی کہاجاتا رہا ،ان کے ’’اجماع‘‘ کومحض اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ ’’ہمارے مذہب کے موافق نہیں اور ہم صرف کتاب اللہ اور حدیث کو مانتے ہیں ۔‘‘

مساجد میں جھگڑے ، شوروشغب بپا کیے جاتے رہے مثلاً:رفع یدین کے بغیر نماز باطل ہے ،امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو نماز نہیں ہوگی، تراویح بیس نہیں آٹھ ہیں وغیرہ وغیرہ حالانکہ صحابہ کرام بھی بغیر رفع یدین کے نماز پڑھتے تھے ،امام کے پیچھے قرأت نہیں کیا کرتے تھے تراویح بیس رکعات پڑھا کرتے تھے۔ توپھر بتلائیے کہ ان(صحابہ ) کی نمازوں کا کیا ہوگا ؟ لہذا آج اُن کا دامن تھام لیا جائے عقائد میں ملاوٹ کی جائے نہ ہی اعمال میںملاوٹ۔ معاشرتی مسائل ہوں یاسماجی آج اگر اسی نہج پرامت کوکھڑاکردیاجائے جس پرآقا مدنی ﷺ کے صحابہ تھے تو ’’فرقہ واریت‘‘ اپنی موت آپ مرجائے۔

اس کے لیے ضروری ہوگا کہ صحابہ کرام کے علمی جانشینوں سے پیارمحبت کا برتائو کیا جائے اوران پر اعتمادکرکے ان کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں لایا جائے اوران کوبرا کہناچھوڑ دیا ۔ان کو ملامت نہ کیا جائے ،عوام کے دلوں میں ان کی عظمت بٹھائی جائے اور ان کے بارے کوئی ایساکلمہ نہ کہاجائے جوان کی شان کے خلاف ہو،کیونکہ وہ ہرلحاظ ہم سب بڑھ کرہیں۔

فہم وفراست، تقویٰ وورع ،اخلاص وللہیت ،استعداد اورقابلیت، علم وعمل، جذبہ طاعت الغرض جتنے بھی فضائل ومحاسن آج کے کسی مسلمان میں ہوسکتے ہیں وہ ان سب میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔

آج اگرامت کوصحابہ اورصحابہ کے شاگردوںسے جوڑ دیاجائے توموجودہ باہمی منافرت کاسیلاب تھم سکتاہے اورزمانہ شاہد ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اس وقت صحابہ اور شاگردان صحابہ کے سچے علمی اورعملی جانشین علماء اہل السنۃ والجماعۃ ہیں جن کوآج کے عرف میں ’’علماء دیوبند‘‘ کے نام سے یادکیاجاتاہے۔

اس وقت اسلام دشمن لابی اس فکر میں سرجوڑے بیٹھی ہے کہ کسی نہ کسی طور پر ان کوختم کردیں ان کے خلاف میڈیا کو استعمال کیا جارہا ہے تاکہ یہ باور کیا جاسکے کہ یہ لوگ العیاذ باللہ فتنہ پرور ہیں اور آپس کا اتحاد واتفاق نہیں ہونے دیتے اور ان لوگوں پر طرح طرح کے عجیب وغریب الزامات لگائے جارہے ہیں اور بدقسمتی سے بعض اپنوں کی شکل میں سارا کام کرنا چاہتے ہیں لیکن خدانے ان کے منصوبے ناکام بنائے اور آئندہ بھی محفوظ رکھے دعاہے کہ اللہ تعالی اہل حق کے قافلہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطافرمائے ۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں