اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

اسے مرعوب ذہن کی پیداوار کہیے یا اغیارکی محبت کا ثمرہ ،کہ آج کا مسلمان مغربی افکار اور نظریات سے اتنا مرعوب ہے کہ اسے ترقی کی ہر منزل مغرب کی پیروی میں ہی نظر آتی ہے۔ہر وہ قول وعمل جو مغرب کے ہاں رائج ہوچکا ہے اس کی پیروی لازم سمجھتا ہے۔جہاں یہ بات قابلِ تشویش ہے وہاں قابلِ اصلاح بھی ہے ۔ایسا نہ ہو کہ اعمال سے تو ہاتھ دھو ہی بیٹھا کہیں اسلام کو ہی سلام نہ کر بیٹھے۔آہ!اقبال مرحوم کا وہ شعر وردِ زبان ہوجاتا ہے۔

مسلمان اگر اسلام کی چھاپ اپنے اوپر لگالے تو یہ باطل کے ہزار ہا رنگ سے بدرجہا بہتر ہے۔یہی اصول قرآن کریم کے مطالعہ سے ملتا ہے

صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً

(البقرہ:138)

ترجمہ: [ہم نے قبول کر لیا] رنگ اللہ کا ،اورکس کا رنگ بہترہےاللہ کے رنگ سے ۔

“اپریل فول”دورِ حاضر کا وہ قبیح ترین عمل ہے جومغربی ممالک میں رواج پذیر ہے۔دیکھا دیکھی مسلمان بھی اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔نہ جانے کیوں انھیں محسوس نہیں ہوتا کہ اس میں پائی جانے والی عقلی قبائح سے قطع نظر اخلاق بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کہ خوش عنوانی کی آڑ میں دوسرے مسلمانوں کی عزت ومال سے کھیلا جائے۔

تاریخ سے تھوڑی سی شدھ بدھ رکھنے والا انسان بخوبی جان لیتا ہے کہ اس کی بنیاد اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہے۔ تاریخی طورپریہ بات واضح ہے کہ اسپین پر جب عیسائیوں نے دوبارہ قبضہ کیا تو مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہایا۔آئے روز قتل وغارت کے بازار گرم کیے۔ بالآخر تھک ہار کر بادشاہ فرڈینینڈنے عام اعلان کروایا کہ مسلمانوں کی جان یہاں محفوظ نہیں ،ہم نے انہیں ایک اور اسلامی ملک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو مسلمان وہاں جانا چاہیں ان کے لیے ایک بحری جہاز کا انتظام کیا گیا ہے جو انہیں اسلامی سرزمین پر چھوڑ آئے گا۔حکومت کے اس اعلان سے مسلمانوں کی کثیر تعداد اسلامی ملک کے شوق میں جہاز پر سوار ہوگئی۔جب جہاز سمندر کے عین درمیان میں پہنچا تو فرڈینینڈ کے فوجیوں نے بحری جہاز میں بذریعہ بارود سوراخ کردیا اور خود بحفاظت وہاں سے بھاگ نکلے۔دیکھتے ہی دیکھتے پورا جہاز غرقاب ہوگیا۔ عیسائی دنیا اس پر بہت خوش ہوئی اور فرڈینینڈکو اس شرارت پر داد دی۔یہ یکم اپریل کا دن تھا۔آج یہ دن مغربی دنیا میں مسلمانوں کو ڈبونے کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔یہ ہے اپریل فول کی حقیقت!

ظاہر بات ہے کہ جس عمل کی بنیاد اسلام دشمنی پر ہو اس کے شر بلکہ اشر ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔اگر سنن ابی داؤد کی اس حدیث

مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ

(رقم:4033)

پر غور کریں تو جسم پر لرزہ طاری کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جو لوگ اپریل فول مناتے ہیں اندیشہ ہے ان کا انجام بروز قیامت یہود ونصاری کے ساتھ ہو۔جھوٹ کی غلاظت میں لت پت یہ دن کہیں ہمیں اس حدیث سے غافل نہ کردے ۔

آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ

(صحیح البخاری، رقم الحدیث:33)

ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرتاہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔

:اور یہ حدیث بھی کہ

إنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ، وإنَّ البِرَّ يَهْدِي إلى الجنَّة، وإن الكَذِبَ فُجُورٌ، وإنَّ الفُجُورَ يَهدِي إلى النّار

(صحیح مسلم، رقم الحدیث:2607)

ترجمہ: سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا گناہ ہے اور گناہ [جہنم کی] آگ کی طرف لے جاتا ہے۔

اس دن مذا ق کے عنوان سے دوسروں کو ڈرانے اور دھمکانے کا جو سلسلہ ہے اس کے نتائج 2اپریل کے اخبارات سے بخوبی معلوم ہوجاتے ہیں کہ کتنے لوگ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوگئے۔کتنے لوگ جلد بازی کی بھینٹ سے چڑھ کر حادثات کی موت مر گئے اور کتنے لوگ ذہنی ڈپریشن میں پڑ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اس قبیح فعل سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور حکومت وقت کو بھی اس پر پابندی لگانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں