نبی کی اطاعت اورآپ ﷺ کے خلفا ء راشدین کی اتباع

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدسﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیرکی نا فرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدسﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی لیکن جو انکار کرے گا۔  عرض کیا گیا اور کون انکار کریگا۔ آپ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی اسنے انکار کیا۔

حضرت ابو موسٰی حضور اقدسﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میرے اس دین کی مثال جس کو دیکر مجھے اللہ تعالٰی نے مجھے بھیجا ہے اس آدمی جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ اے میری قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے(دشمن کے بڑے) لشکر کو(تمہاری طرف آتے ہوۓ) دیکھا ہے ۔ میں تم کو بے غرض ہو کر ڈرا رہا ہوں، لہٰزا جلدی کرو، جلدی کرو ۔ چناںچہ اس قوم میں سے کچھ لوگوں نے اس  کی بات مان لی اور سر شام چل دیے اور آرام سے چلتے رہے اور وہ تو بچ گۓ اور اس قوم میں سے کچھ لوگوں نے اسے جھوٹا سمجھا اور وہیں ٹھر گۓ تو دشمن کے لشکر نے ان پر صبح صبح حملہ کر کے ہلاک کر دیا اور ان کوبالکل ختم کر دیا۔ یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے میری نافرمانی کی اور جو دین حق لے کر آیا یس کو جٹھلایا۔

حضرت عرباص بن ساریہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور اقدسﷺ نے ہمیں نماز پڑھایٔ اور پھر اپنے چہرے کے ساتھ ہم لوگوں کی طرف متّوجہ ہوۓ اور ایسا مؤثر وعظ بیان فرمایا کہ جس سے آنکھوں سے آ نسو جاری ہو گۓ اور دل کانپ گۓ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کا یہ وعظ ایسا معلوم ہوتا ہے  جیسا کہ جانے والے کا آخری وعظ ہوا کرتا ہے۔ لہٰزا آپ ہمیں کن خاص باتوں کی تاکید فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو اور امیر کی بات سنو اور مانو اگرچہ وہ حبشی غلام ہو کیونکہ تم میں سے میرے بعد جو بھی زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا تو وہ ایسی صورت میں میری اور ہدایت یافتہ خلفاۓ راشدین کی سنت پر عمل کرتے رہنا اور اسے تھامے رکھنا اور دانتوں سے مضبوط پکڑے رکھنا کیونکہ ہر نیٔ بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔    

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں