سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

نام ونسب: آپ کا نام عثمان ،کنیت ابوعبداللہ اور لقب ذوالنورین ہے ۔

:نسب نامہ یہ ہے

ابوعبداللہ عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف القرشی الاموی پانچویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتاہے۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ ج3ص317 رقم الترجمۃ 3590،الاصابۃ ج 2 ص 1238رقم الترجمۃ5150)

ولادت: حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیح قول کے مطابق آپ کی ولادت واقعہ فیل کے چھ سال بعد ہوئی۔

(الاصابۃ ج2ص1238)

قبول اسلام: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھنے کے فوراًبعد دعوت وتبلیغ کا سلسلہ شروع فرمادیا تھا،جس کے نتیجے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کرلیا۔قبول اسلام میں آپ کا چوتھا نمبر ہے۔

( اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ ج3 ص317)

فضائل ومناقب: اہل حق کا متفقہ نظریہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے بلند مقام حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا، ان کے بعد حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اور ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہے اور یہ نظریہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

” كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ”

(صحیح بخاری ج1ص516 باب فضل ابی بکررضی اللہ عنہ)

ترجمہ: ہم حضور علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دیتے تھے۔ سب سے بہترحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سمجھتے تھے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اور ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو۔

اعزازات: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یکے بعد دیگرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں آپ کے نکاح میں آئیں۔جب آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں تو میں ایک ایک کرکے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔

(مرقاۃ شرح مشکوۃ ج11ص231باب مناقب عثمان بن عفان،الفصل الثالث)

:حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا

“لکل نبی رفیق ورفیقی فی الجنۃ عثمان”

(جامع الترمذی ج2ص689مناقب عثمان بن عفان)

ترجمہ: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوگا اور میرا رفیق عثمان ہوگا۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا۔ (جامع ترمذی ج2ص689مناقب عثمان بن عفان)

قوت اجتہاد و استنباط: اپنے دور خلافت میں بہت سے اجتہاد فرمائے جن سے آپ کی شان فقاہت معلوم ہوتی ہے۔چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

جمع قرآن: جب آپ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر روم و ایران کے دور دراز علاقوں میں پھیل چکا تھا۔ قرآن مجید سات لغتوں پر نازل ہوا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سات لغات پر تلاوت فرماتے تھے۔ قراءتوں کا یہ اختلاف دور دراز کے علاقوں میں بھی پھیل گیا جب تک لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ قرآن کا نزول سات لغات پر ہوا ہے اس وقت تک ا اختلاف سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن جب یہ اختلاف ان دور دراز کے مملک میں پہنچا جن میں یہ بات پوری طرح سے مشہور نہیں ہوئی تھی کہ قرآن سات لغات پر نازل ہوا ہے تو اس وقت جھگڑے پیدا ہونے لگے۔ بعض لوگ اپنی قراءت کو صحیح اور دوسری کو غلط کہنے لگے تو اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کو لغت قریش پر جمع فرمایا۔ یہ آپ کی اجتہادی شان کا عظیم کارنامہ ہے۔

:ترک قراءت خلف الامام

مشہور مسئلہ ہے کہ امام کے پیچھے قراءت کی جائے یا نہ؟ اس بارے میں احادیث و آثار کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ ترک قراءات کے متعلق آیت قرآنی وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا الایۃ اور احادیث مبارکہ کے پیش نظر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ترک قراءت کو ہی راجح قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ میں حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے اقوال کے ساتھ آپ کے قول کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ مثلاً۔۔۔

عن زید بن اسلم قال کان عشرۃ من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینہون عن القراءۃ خلف الامام اشد النہی ابوبکر الصدیق وعمر الفاروق وعثمان بن عفان۔

(عمدۃ القاری ج4ص449باب وجوب القراءۃ للامام والماموم)

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ ایسے تھے جوسختی سے امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرماتے تھے۔ان میں سےحضرت ابوبکر ،حضرت عمر،اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے ۔

:جمعہ کی اذان ثانی

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں جمعہ کے لیے ایک اذان دی جاتی تھی۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا اور مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا تو آپ کے حکم سے اذان ثانی شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے۔

:حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اس اذان کے متعلق فرماتے ہیں

“فثبت الامر علی ذالک”

(صحیح بخاری ج1ص125کتاب الجمعۃ باب التأذین عندالخطبۃ)

یعنی اذان کا یہ طریقہ مستقل طور پر رائج ہوگیا۔

:دیت کی ادائیگی میں مال دینا

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے عہد سے دیت میں اونٹ لینے کا طریقہ چلا آ رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دیت میں ان کی قیمت دینی بھی جائز قرار دی کیونکہ یہاں اونٹوں میں سوائے مال کے اور کوئی جہت نہیں پائی جاتی۔ قاضی القضاۃ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے بھی اپنے دور میں یہی فتوی دیا۔

:امت کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر

آپ رضی اللہ عنہ کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو قرآن وسنت کے نام پر آزاد نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے اسلاف کی پیروی کرنی چاہیے۔ اسی وجہ سے جب آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ سے عہد لیا کہ آپ رضی اللہ عنہ شیخین کریمین رضی اللہ عنہما کی سیرت پر چلیں گے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کرلیا۔ آپ رضی اللہ عنہ مجتہد ہونے کے باوجود حضرت ابوبکر ،حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرتے تھےمثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں پورا مہینہ بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھی، آپ نے انہی کی اتباع میں اسی پر دوام فرمایا ۔

عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب فی شہر رمضان بعشرین رکعۃقال وکانوا یقرءون بالمئین وکانوا یتوکئون علی عصیھم فی عہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ من شدۃ القیام

(سنن الکبری للبیہقی ج2ص496باب ماروی فی عددرکعات القیام فی شہر رمضان)

ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعات تراویح پڑھتے تھےاورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لمبے قیام کی وجہ سے سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے۔

آپ رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ تھا کہ مسلمانوں کو جب بھی عروج ملا ہے وہ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے سے ملا ہے

:آپ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے

” إنما بلغتم ما بلغتم بالاقتداء والاتباع فلا تلفتنكم الدنيا عن أمركم”

(تاریخ طبری ج5ص45)

ترجمہ: تم جس مقام پر پہنچے ہو وہ پہلوں کی تقلید سے پہنچے ہو خیال کرنا دنیا کہیں تمہیں حکم الہی سے دوسری طرف نہ پھیر دے۔

:شہادت

آپ رضی اللہ عنہ کو کئی دنوں تک محصور رکھنے کے بعد 18ذوالحجہ 35ھ کو شہید کیا گیا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں