اللہ کے لیے دوسروں کی مدد کر نا سیکھییے

“بھت اچھی لڑکی ہے وہ شام کو آکر میرا سارا کام کر جاتی ہے۔اور تو اور سر میں تیل بھی لگا جاتی ہے اور جوین بھی پکڑ لیتی ہے۔”

فوزیہ آنٹی نے عا ؑیشہ کی تعریف کی تو پڑوسن منہ میں انگلی دبا کر بولی:  کمال ھے آج کے دور میں بھی ایسی بے لوث لڑکیاں موجود ہیں جو دوسروں کی خدمت میں اپنی سعادت سمجھتی ہیں۔میں بھی تو اسے نھیں بھولتی ناں! اس کے دکھ سکھ میں اس کے کام آتی ہوں۔ صدقے خیرات میں اسے یاد کرتی ہوں۔ دوای کے پیسے دے دیتی ہوں تو بھلا وہ میری خدمت کیوں نہ کرے گی۔ اجنبی غریبوں پر خرچ کرنے سے بہتر ہے اپنی جان پہچان کے لوگوں پر خرچ کیا جاے،تاکہ وہ مصیبت میں تو کام آسکیں۔ فوزیہ آنٹی نے دل کی بات کہ ڈالی۔  “تو اس نیت پر ثواب ملے گا۔پروسن کو الجھن سی ہوی۔کیوں نھیں ملے گا؟

تمھاری یہ عالمائیں ہی تو کہتی ہیں کہ اپنوں پر خرچ کرنے کا ثواب زیادہ ہے۔” فوزیہ آنٹی نے فیصلہ سنایا۔

ہوٹل میں کھانا کھانے کا اپنا طریقہ ھوتا ہے،چناچہ جب بیرا بل لے کر آے تو اسے  دس بیس روپے ٹپ دے دینے سے بڑے کام نکلواۓ جاسکتے ہیں۔”جمیل نے نظریں گھما کر کہا تو اکمل نے تجسس سے پوچھا: مثال کے طور پر؟

پگلے ان دس بیس روپوں کی وجہ سے وہ تمہیں اپنی نظروں میں رکھ لے گا۔ جب کبھی اس ہوٹل میں جاو گے،دست بستہ ہوکر تمہارے سامنے کھڑا ہوگا۔ آرڈر جلدی لے آے گا،اچھی جگہ بٹھاےگا اور تمہیں ثواب بھی ملے گا۔ جمیل نے مثالیں دیں تو کیا! ایسا کرنے سے بیروں کی عادات خراب نیہں ہو جایں گی؟اکمل کا سوال بجا تھا۔ پہلے کون سی اچھی ہیں جو خراب ہو جایں گیجمیل نے اسے چپ کر دیا۔

آخر تمہیں ان مولویوں کی دعوت کر نے سے ملتا کیا ہے؟جب دیکھو دعویتں کرتے رہتے ہو۔

فصیح کے آزاد خیال دوست نے جھلا کر کہا تو اس نے اسے سمجھیا: بے وقوف نیک لوگوں کی دعوت کرنے کے بہت فائدے ہیں۔ یہ روٹیوں کا ہی تو ثمر ہے کہ جب جی چا ہتا ہے امام صاحب کو گھر بلا لیتا ہوں۔بچوں کو دم کرنا ہو،یا کسی نومولود کے کان میں اذان دلوانی ہو۔کوی مسئلہ پوچھنا ہو فورا حاضر ہوجاتے ہیں” “کیا یہ ان کی توہین نہ ہوئ؟”ایک دوسرے دوست نے فصیح سے پوچھا۔  توہین کی کون سی بات ہے؟پیارمحبت میں تو یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں۔انہیں بھی توثواب ملتا ہے ناں۔ فصیح نے وضاحت دی۔

فہیم ہم کتنے خود غرض ہو گے ہیں،ہر جگہ اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ کوئ کام اللہ کےلیے کرنا ہمارے تصور میں بھی نہیں رہا۔ فقیر کو بھی اگرخیرات دیتے ہیں تو اس ک سامنے بھی اپنی حاجتیں رکھ دیتے ہیں کہ دعا کرنا میرا فلاں فلاں کام ہو جائے۔ ہمارے آپس کے تعلقا ت بھی مفادات کا شکار ہیں ۔وہ کسی نے کہا ہے ناں! مطلب کی دوستی غرض کا سلام۔

اب تم ہی بتاو!ہم کس کے پیچھے چلیں؟ مجھے تو ہر طرف اندھیرے ہی نظر آتا ہے۔حبیب نے پریشانی سے کہا۔

ان کے پیچھے چلو جنھیں اللہ تعالی نے ہمارے لیے معیار بنایا ہے۔فہیم نے جواب دیا

حبیب چونکا۔  میں سمجھ نہیں سکا تمہاری بات؟

ارے میں صحابہ کرام کی بات کررہا ہوں۔جنہیں پیارے نبیﷺ  نے ستارے کہا ہے۔

جی ہاں ستارے! جس طرح لوگ رات کے اندھیروں میں ستاروں سے رہ پکڑتے ہیں۔ اسی ہی طرح صحابہ کرامؓ گمراہی کے اندھیروں میں روشنی کے مینار ہیں۔” فہیم نے جب اجالوں کے چہروں سے نکاب اٹھایا تو حیبب کے منہ سے نکلا۔ “او اس طرف تو میرا ذہین ہی نہیں گیا۔ ” ” جہاں وہ دیگر اوصاف سے ملامال تھے وہیں ان کا اخلاص اور للھیت چھپاے نہ چھپتی تھی”فہیم نے جھوم کر کہا۔ “مثلا؟”حضرت  ابو بکر صدیقؓ کو ہی دیکھ لو!ان کا کام تھا ضعیف ضعیف اور کمزور کمزور غلاموں کو آزاد کرنا۔ایک روز ان کے والد نے ان کو سمجھیا بیٹا! اگر تم غلام ہی آزاد کراتے ہوتو صحت مند اور قوی و توانا غلاموں کو خرید کر آزاد کریا کرو، تاکہ مصیبت کے وقت تمہاری مدد کر سکیں۔ کسی مشکل گھڑی میں تمہارے کام بھی اسکیں(بھلا کمزور سے کیا مدد ملے گی) ۔

اس پر حضرت ابو بکرؓ مسکراۓ۔

ابا جان!یہ کام تو میں اپنے لیے تو نہیں کرتا صرف اللہ کے لیے کرتا ہوں۔(یعنی مجھے اس سے کیا غرض کہ یہ دنیا میں میرے کام آتے ہیں یا نہیں آتے


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں