نفسیاتی مسائل اور ان کا اسلامی حل

آج کل  کے فتنہ اور پریشانیوں کے دور میں 75فیصد لوگ اپنی کسی بیماری کے تانے بانے جادو اور جنات کا اثر اور  نظر بد سے جوڑتے ہیں اور عاملوں کے چکر میں اپنا وقت اور پیسہ برباد کرتے ہیں۔

پیار ے نبیﷺ پر جب ایک یہودیہ نے جادو کرادیا تھا تو اللہ رب العزت نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں معوذتین کے نام سے آخری دو سورتیں نازل کیں اور آپﷺ کو بذریعہ وحی بتادیا کہ آپ ﷺ پر جادو ہوا  ہے

اور فلاں کنوئیں پر کھدائی میں کچھ چیزیں ملیں گی۔ آپﷺ ان کولے کر یہ آیات پڑھیں اور ان چیزوں کے اثرات دور کرنے کیلئے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کر کے اپنے پورے جسم پر پھیر لیں۔ان سورتوں میں جادو ٹونے سے حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔

(آسان تر جمہ قرآن)

قرآن کریم ہی میں سورہ انعام کی آیت 112میں ارشاد ربانی ہے

جس کا مفہوم یہ ہے کہ جنات میں بھی شیطان ہوتے ہیں اور انسانوں میں بھی۔ البتہ جو شیطان جنات میں ہیں وہ نظر نہیں آتا،وہ دلوں میں وسو سے ڈالتا ہے لیکن جو شیطان انسانوں میں ہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں۔ان کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سن کر انسان کے دل میں برے برے خیالات اور وسوسے آتے ہیں،اسی لیے ان آیات میں دونوں قسم کے وسوسے ڈالنے والوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔

(آسان تر جمہ قرآن)

جادو اور جنات کے اثرات کا ربانی علاج۔
سوتے وقت اور صبح و شام معوذتین کاتین تین مرتبہ پڑھنا بہت مجرب ہے۔ جادو سے محفوظ رہنے اور اگر اس میں مبتلا ہوبھی جائے تو (کیوں کہ جادو،بد نظر اور جنات کا اثر بر حق ہے)تب بھی یہ دعائیں اہم علاج ہیں،ان کے علاوہ جو سب سے اہم چیز ہے وہ ہے:
تمام ٖفرائض و واجبات کا ادا کرنا،تمام محرمات کو ترک کرنا اور تمام گناہوں سے توبہ کرنا۔

تلاوت قرآن کریم کی کثرت اور دعاؤں،قرآنی تعویذات اور صبح و شام کی دعاؤں سے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنا۔
نظر بد کا علاج
نظر بد حقیقت ہے۔ نظر بد کے علاج کی کئی قسمیں ہیں۔
۔ ۱۔ بطوراحتیاط نظر لگنے سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ جس کو نظر لگنے کا خطرہ ہو (جیسے کو ئی صحت مند،خوبصورت،شرارتی اور چلبلا بچہ ہو)تو خود یا کوئی اور اس پر قرآنی آیات اور پیارے نبیﷺ کی بتائی ہوئی دعائیں پڑھ کر دم کریں،انشاء اللہ نظر بد سے حفاظت رہے گی- جس کو اپنی نظر اپنے بچے،مال یا کسی دوسرے بہن بھائی کے مال اولاد پر لگنے کا خطرہ ہو  تو ان کے لیے بر کت کی دعا کر ے اور یہ پڑھے “ماشاء اللہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ،اللھم بارک علیہ۔

(موطاامام مالک)

تو اس کو اثر نہیں ہوگا،اس لیے کہ مخبر صادق رسولﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی چیز کو دیکھے اور وہ پسند آجائے تو چاہیے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔ سب سے اہم چیز (جس پر پہلے عمل ہوتا تھا آج کل اس کا الٹ ہوتاہے)کہ جس پر نظر لگنے کا اندیشہ ہو تو اس کی خوبیوں کو چھپا یا جائے۔ تو ان شاء اللہ بہت شفا پائے گا۔
اگر پتہ چل جائے کہ کس نے نظر لگائی ہے تو اس سے وضو کرایا جائے اور اسی پانی سے  جسےنظر لگی ہو اسے غسل کرایا جائے۔
ٌسورۃ الا خلاص تین دفعہ،سورۃ الفاتحہ،معوذتین اور آیت الکرسی پڑھ کر دم کریں اور رات کو سوتے وقت سورۃ البقرۃ کے آخری رکوع کو بھی کثرت سے پڑھیں اور متاثرہ مقام پر دایاں ہاتھ پھیر تے ہوئے دم کریں۔

ان شاء اللہ شفاء ہوگی۔

نفسیاتی بیماریاں اور ان کی وجوہات

نفسیاتی بیماری یعنی “ضیق الصدر”(دل کی تنگی)آج کل بہت عام ہے۔ ہر چھوٹا بڑا اس میں مبتلا ہے۔ دیکھ کر دکھ بھی ہوتا ہے مگر وجہ اور سب سے بڑی وجہ اور سب سے بڑی وجہ” اللہ کی رسی یعنی قرآن مجید فرقان حمید سے دوری،ایمان کی کمزوری اوراتباع سنت اور اسوۂ حسنہ پر عمل نہ کرناہے۔
ہدایت اور توحید سے دوری یعنی گمراہی اور شرک دل کی تنگی کا بڑا سبب ہے۔
علاج
اللہ کی طرف رجوع،اللہ کا ذکر پابندی سے کرناہے کیوں کہ ذکر سے ہی ” شرح صدر”ہوتا ہے اور ہر پریشانی اور غم کو دور کرنے میں عجیب تاثر حاصل ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔الابذ کر اللہ تطمئن القلوب
ٖفضول دیکھنے،فضول بولنے،فضول سونے،فضول کھانے اور فضول سننے کو ترک کرنا۔

حدیث نبوی ﷺ:”مسلمان ہونے کی خوبی یہ ہے کہ بے کار اور لایعنی باتوں کو چھوڑ دے۔
اپنے سے کم تر کو دیکھنا اور جو تم سے مال وغیرہ میں بہتر ہوں ان کی طرف نہ دیکھنا۔(یعنی متاثر نہ ہونا)
دل سے ان مذموم صفات کو نکالنا جو دل کی تنگی اور تکلیف کا سبب بنیں،جیسے حسد،کینہ،عداوت،غیبت،دشمنی،بے حد غصہ اور سرکشی۔

رسول ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے افضل کو ن ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:ہر پاکیزہ دل اور سچی زبان والا۔    صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:”کل مخموم القلب و صدوق اللسان”سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں،مخموم القلب سے کیا مراد ہے؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا:”ہر متقی گناہوں سے بچنے والا کہ اس کے دل میں کوئی گناہ سرکشی،کینہ اور حسد نہ ہو۔

(ابن ماجہ)

دل کو مضبوط رکھنا
گھبراہٹ اور پریشانی اور برے خیالات اور اوہام سے دوررکھنا،نیز حد سے زیادہ غصہ نہ کرنااور محبوب چیزوں کے زوال اور نا گوار چیزوں کے آنے کا غم نہ کرنا،بلکہ ہر کام کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دینا اور ساتھ ساتھ مفیدا سباب کو اختیار کرنااور اللہ تعالیٰ سے درگز ر اور عافیت کی دعا مانگتے رہنا۔

دل کا اللہ کی ذات پر مکمل یقین،بھروسا اور حسن ظن رکھنا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھنے والے پر کوئی اوہام اثر نہیں رکھتے۔
کسی انسان سے احسان کے بدلہ میں شکریہ کی خواہش  نہ رکھے  بلکہ اللہ سے طلب کرے اور یہ سمجھے کہ اس کامعاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ترجمہ:”ہم جب تم کو کھلاتے ہیں سوخالص اللہ کی خوشی چاہیے،نہ تم سے ہم چاہیں بدلہ اور نہ چاہیں شکر گزاری۔

اپنے اہل و عیال اور اولاد کے معاملے میں بھی اس بات کو ملحوظ رکھیں۔
بلاوجہ ان پر احسان نہ دھریں۔
جو شخص بھی ان باتوں میں غور و فکر کرے اور سچائی اور اخلاص کے ساتھ ان کو اختیار کرے تو نفسیاتی امراض سے انشاء اللہ بچے گا اور ان کو بہت مفید پائے گا۔

اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان سب پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں