نماز کی اہمیت

کل محلے کی مسجد میں بعد نماز عشاء فضائل کی تعلیم میں بیٹھے تو باربار سنی ہوئی حدیث سن کر بھی جھرجھری سی آگئی۔ حدیث مبارکہ    “فضائل نماز”سے یہ تھی

حضرت عباوہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ مجھے میرے خلیل رسولﷺ نے سات باتوں کی وصیت فرمائی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا تھا
“اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہر انا،اگرچہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے  کردیے جائیں یا تمہیں زندہ جلادیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا،جس شخص نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی وہ ملت سے خارج ہوگیااور معصیت کا ارتکاب نہ کرنا کیوں کہ یہاللہ کی ناراضی کا سبب ہے اور شراب نوشی نہ کرنا کیوں کہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ ”
اس کے علاوہ حضرت عمر بن خطاب ؓکا قول بھی تعلیم کے حلقے میں ایک بار پھر تازہ ہوا کہ حضرت مختلف اعمال مسلمانوں کو لکھوایا کرتے تھے کہ میرے نزدیک رتمہارے معاملات میں سے سب سے زیادہ اہم نماز ہے،جس نے نماز کی حفاظت کی اس نے اپنے دین کی حفاظت کی اور جس نے نماز کو ضایع کیا وہ دین کے دوسرے احکام کو زیادہ ضایع کرنے والا ہو گا،جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ حضرات صحابہ کرام اور اسلاف امت کے ہاں چونکہ ایک مسلمان سے ترک نماز کا تصور بھی محال تھااس لیے وہ نماز کو ضایع کرنے کا مفہوم،نماز کو وقت سے موخر کردینا بیانکرتے تھے۔ چناچہ حضرت سعید بن مسیب جنہیں تابعین کا امام کہا جاتا ہے،وہ فرماتے ہیں
نماز کو ضایع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ظہر کی نماز عصر تک،عصر کی نماز مغرب تک،مغرب کی نماز عشاء کی نماز فجر کی عمازطلوع آفتاب تک موخر کردے،جس شخص کا اس حالت میں انتقال ہو گیا اور توبہ کی توفیق نصیب نہ ہوئی،اس کے لیے اللہ کی طرف سے سخت و عید ہے اور جہنم کی ایسی وادی میں ہوگا جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی سزا بہت سخت ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں