مہینہ”ذوالحجہ”

ذولحجہ بارہواں اسلامی مہینہ ہے اوریہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے جوحج اورقربانی کاہے۔پورے سال میں صرف یہی ایک مہینہ ہے جسمیں حج کیاجاتاہے ۔اس مہینے کی آٹھویں تاریخ کویوم الترویہ نویں کو یوم عرفہ دسویں کو یوم النحراوریوم تشریق بالترتیب گیارہوں بارہویں اورتیرہویں تواریخ کوکہاجاتاہے۔یہ مہینہ ایک مقدس مہینہ ہے جسکے فضائل احادیث نبوی ص میں واردہیں قرآن میں ایام معلومات اس کے پہلے عشرے کوکہاگیاہے جسے خدانے محبوب رکھاہے قرآن میں ہے کہ
“قسم ہے فجرکی اوردس راتوں کی اورجفت اورطاق کی اوراس رات کی جب رات کوچلے”(الفجر)۔
دس راتوں کی تفسیرمفسرین کی ایک بڑی تعدادنے ذوالحج کی دس راتیں فرمایاہے۔چنانچہ حضرت جابررض سے روایت ہے کہ “والفجر ولیال عشر”سے مراد صبح اورعشرسے مرادعشرہ نحرہے یعنی ذوالحج کاپہلاعشرہ جسمیں یوم النحریعنی قربانی کادن شامل ہے۔
وتر:یوم عرفہ (9ذالحج)
شفع:یوم نحر قربانی کادن (10ذالحج)۔ بیہقی
حضرت ابن عباس رض سے مروی ہے کہ نبی پاک ص نے فرمایاکہ اللہ کے نزدیک کوئی عمل اتناپسندیدہ نہیں جتناکہ ذولحجہ کے ان دس دنوں کے ہیں یعنی عشرہ ذولحجہ۔ بخاری۔جبکہ حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ کوئی دن اللہ کی نظرمیں 10ذولحجہ سے زیادہ محبوب نہیں ہے اسمیں ایک روزہ ایک سال کے روزوں کے برابراورقیام بھی ایک سال کے قیام کے برابرہے۔مشکوات شریف۔رسول اللہ ص نے ارشادفرمایاکہ مجھے امیدہے کہ اللہ یوم عرفہ کے روزے کابندے کے لیے ایک سال پہلے اوربعدکے گناہ کاکفارہ بنادے گا۔مسلم۔طبرانی کی روایت ہے کہ آپ ص نے فرمایاکہ ذی الحجہ کے دس ابتدائی دنوں میں تم تہلیل،تسبیح اورتحمیدکیاکرواس حدیث کے راوی حضرت ابن عباس رض ہیں۔
دوعبادات ہیں جواس مہینے کی جاتی ہیں بیت اللہ کاحج اورقربانی لہذہ یوم عرفہ (9ذالحج) کوحج کاکلیدی رکن سمجھاجاتاہے اور10ذالحج عیدالضحی ہے۔جسمیں سنت ابراہیمی کی پیروی کی جاتی ہے۔حج بدنی اورمالی عبادات پرمشتمل ہوتی ہے اوریہ بنیادی عبادات میں سے ایک ہے۔”اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پا پیادہ او رپتلے دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں۔تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آموجود ہوں اورتاکہ جو چار پائے الله نےانہیں دیے ہیں ان پر مقررہ دنوں میں الله کا نام یاد کریں پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ” ۔سورة الحج 27۔28
حج مسلمانوں کی اجتماعی عبادت ہے جومسلمانوں کواخوت اورمساوات کادرس دیتی ہے لہذہ سورہ بقرہ آیت 125 میں ارشادربانی ہے کہ”اور جب ہم نے کعبہ لوگوں کے لیے عبادت گاہ اور امن کی جگہ بنایا (اور فرمایا) مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراھیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو”یہ عبادت مسلمانوں کومتفق اورمتحدرہنے کادرس دیتی ہے اورافتراق سے روکتی ہے جیساکہ ارشادربانی ہے کہ”تم ملکراللہ کی رسی کومضبوطی سے تھامے رکھواورتفرقے میں مت پڑو” ۔آل عمران 103۔

یورپی مورخ فلپ کے حطی اپنی کتاب عربوں کی تاریخ میں لکھتاہے کہ
“صدیوں سے یہ دستورحج اسلام میں مسلسل اتحادکے لیے ایک کلیدہے۔دنیاکے مسلمانوں کے لیے یہ ایک رشتہ کی ڈورہے۔اسپرمنفی اثبات مشکل ہی سے ممکن ہوگایہ حبش،چین،شام اورعرب کے باشندوں بلاتفریق ایک کرتاہے۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ یہ نسخہ کیمیا کہ تمام انسانی تفرقات کی پیخ کنی صرف اسلام اس میں کامیاب نظرآتاہے”
اورقربانی اس دن میں دراصل حضرت ابراہیم ع کی اس قربانی کی یاددلاتی ہے جوانسانی تاریخ کاایک عظیم واقعہ ہے جسکے متعلق مسنداحمد اورابن ماجہ کی حدیث ہے جسے حضرت زیدبن ارقم رض روایت کرتے ہیں کہ
” آپ ص سے بعض صحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ص ان قربانیوں کی کیاحقیقت ہے اورکیاتاریخ ہے آپ ص نے جواب دیایہ تمہارے روحانی اورنسلی باپ حضرت ابراہیم ع کی سنت ہے۔صحابہ رض نے پھرسوال کیاکہ اسمیں ہمارے لیے کیااجرہے؟ آپ ص نے جواب دیاکہ قربانی کے جانورکے ہرہربال کے عوض ثواب ہے۔”
قربانی دراصل اس عہدکی تجدیدہے کہ ہماری تمام زندگی خداکی رضااوراسکی خوشنودی کے لیے وقف ہے اورہم حضرت ابراہیم ع کی اس سنت کواپنے لیے ایک راہ ہدایت تصورکرتے ہیں اورعمل کے لیے اسے کسوٹی مانتے ہیں جسمیں ہم اپنے قربانی کے جذبے اورخداسے محبت کوتولتے ہیں ہم کوشش کرتے ہیں کہ خداکی رضااورخوشی حاصل کرنے کی ہم میں بھی وہی لگن ہوجوہمارے جداورنسلی بزرگ حضرت ابراہیم ع میں تھی۔
آج بھی ہوجوبراہیم ع کاایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازگلستاں پیدا
سورہ حج کی آیت نمبر34 میں ہے کہ
“اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کر دی تھی تاکہ الله نے جو چار پائے انہیں دیے ہیں ان پر الله کا نام یاد کیا کریں پھر تم سب کا معبود تو ایک الله ہی ہے پس اس کے فرمانبردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو”
قرآن کے حوالے سے اوراحادیث کے حوالے سے ہمین پتہ چلتاہے کہ ذولحج کتنااہم مہینہ ہے خداہمیں اس اہم مہینے میں اسکی رضااورخوشنودی حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائے جسطرح ہمارے جدامجدحضرت ابراہیم ع نے کیاتھا۔آمین
تحریر:زبیراحمد

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں