حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

از: عامر

صحیح بخاری -> کتاب الحج
باب : حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

‏{‏ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا ومن كفر فإن الله غني عن العالمين‏}‏
اور اللہ پاک نے ( سورہ آل عمران میں ) فرمایا لوگوں پر فرض ہے کہ اللہ کے لیے خانہ کعبہ کا حج کریں جس کو وہاں تک راہ مل سکے۔ اور جو نہ مانے ( اور باوجود قدرت کے حج کو نہ جائے ) تو اللہ سارے جہاں سے بے نیاز ہے۔

تشریح : اپنے معمول کے مطابق امیرالمومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے حج کی فرضیت ثابت کرنے کے لیے قرآن پاک کی آیت مذکورہ کو نقل فرمایا۔ یہ سورہ آل عمران کی آیت ہے جس میں اللہ نے استطاعت والوں کے لیے حج کو فرض قرار دیا ہے۔ حج کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ واصل الحج فی اللغۃ القصد وفی الشرع القصد الی البیت الحرام باعمال مخصوصۃ لغوی معنی حج کے قصد کے ہیں اور شرعی معنی یہ کہ بیت اللہ شریف کا اعمال مخصوصہ کے ساتھ قصد کرنا۔ استطاعت کا لفظ اتنا جامع ہے کہ اس میں مالی، جسمانی، ملکی ہر قسم کی استطاعت داخل ہے۔ حج السام کے پانچوں رکنوں میں سے ایک رکن ہے۔ اور وہ ساری عمر میں ایک بار فرض ہے۔ اس کی فرضیت 9 ھ میں ہوئی۔ بعض کا خیال ہے کہ 5ھ یا 6 ھ میں حج فرض ہوا۔ حج کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور باوجود قدرت کے حج نہ کرنے والوں کے حق میں کہا گیا ہے کہ کچھ تعجب نہیں اگر وہ یہودی یا نصرانی ہوکر مریں۔ حج کا فریضہ ہرمسلمان پر اسی وقت عائد ہوتا ہے جب کہ اس کو جسمانی اور مالی اور ملکی طورپر طاقت حاصل ہو۔ جیسا کہ آیت شریفہ من استطاع الیہ سبیلا سے ظاہر ہے۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ آیت قرآنی لانے کے بعد وہ حدیث لائے جس میں صاف صاف ان فریضۃ اللہ علی عبادہ فی الحج ادرکت ابی الخ کے الفاظ موجود ہیں۔ اگرچہ یہ ایک قبیلہ خشعم کی مسلمان عورت کے الفاظ ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ اس لحاظ سے یہ حدیث تقریری ہوگئی اور اس سے فرضیت حج کا واضح لفظوں میں ثبوت ہوا۔
ترمذی شریف باب ماجاءمن التعلیظ فی ترک الحج میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ملک زاداً وراحلۃ تبلغہ الی بیت اللہ ولم یحج فلا علیہ ان یموت یہودیاً اونصرانیا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص کو خرچ اخراجات سواری وغیرہ سفربیت اللہ کے لیے روپیہ میسر ہو ( اور وہ تندرست بھی ہو ) پھر اس نے حج نہ کیا تو اس کو اختیار ہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر۔ یہ بڑی سے بڑی وعید ہے جو ایک سچے مرد مسلمان کے لیے ہوسکتی ہے۔ پس جو لوگ باوجود استطاعت کے مکہ شریف کا رخ نہیں کرتے بلکہ یورپ اور دیگر ممالک کی سیروسیاحت میں ہزارہا روپیہ برباد کردیتے ہیں مگر حج کے نام سے ان کی روح خشک ہوجاتی ہے، ایسے لوگوں کو اپنے ایمان واسلام کی خیر مانگنی چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ دن رات دنیاوی دھندوں میں منہمک رہتے ہیں اور اس پاک سفر کے لیے ان کو فرصت نہیں ہوتی ان کا بھی دین ایمان سخت خطرے میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہوجائے اس کو اس کی ادائیگی میں حتیٰ الامکان جلدی کرنی چاہیے۔ اور لیت ولعل میں وقت نہ ٹالنا چاہیے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ممالک محروسہ میں مندرجہ ذیل پیغام شائع کرایا تھا۔ لقد ہممت ان ابعث رجالا الی ہذہ الامصار فینظروا کل من کان لہ جدۃ ولا یحج فیضربوا علیہم الجزیۃ ماہم بمسلمین ماہم بمسلمین ( نیل الاوطار ج 4 ص 165 ) میری ولی خواہش ہے کہ میں کچھ آدمیوں کو شہروں اور دیہاتوں میں تفتیش کے لیے روانہ کروں جو ان لوگوں کی فہرست تیار کریں جو استطاعت کے باوجود اجتماع حج میں شرکت نہیں کرتے، ان پر کفار کی طرح جزیہ مقرر کردیں۔ کیونکہ ان کا دعویٰ اسلام فضول وبیکار ہے وہ مسلمان نہیں ہیں۔

وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اس سے زیادہ بدنصیبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوگی کہ بیت اللہ شریف جیسا بزرگ اور مقدس مقام اس دنیا میں موجود ہو اور وہاں تک جانے کی ہر طرح سے آدمی طاقت بھی رکھتا ہو اور پھر کوئی مسلمان اس کی زیارت کو نہ جائے جس کی زیارت کے لیے بابا آدم علیہ السلام سینکڑوں مرتبہ پیدل سفر کرکے گئے۔ اخرج ابن خزیمۃ وابوالشیخ فی العظمۃ والدیلمی عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان ادم اتی ہذا البیت الف اتیۃ لم یرکب قط فیہن من الہند علی رجلیہ۔ یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے بیت اللہ شریف کا ملک ہند سے ایک ہزار مرتبہ پیدل چل کر حج کیا۔ ان حجوں میں آپ کبھی سواری پر سوار ہوکر نہیں گئے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کافروں کے مظالم سے تنگ آکر مکہ معظمہ سے ہجرت فرمائی تو رخصتی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کو چوما اور آپ وسط مسجد میں کھڑے ہوکر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہوئے اور آبدیدئہ نم آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! تو اللہ کے نزدیک تمام جہاں سے پیارا وبہتر گھر ہے اور یہ شہر بھی اللہ کے نزدیک احب البلاد ہے۔ اگر کفار قریش مجھ کو ہجرت پر مجبور نہ کرتے تو میں تیری جدائی ہرگز اختیار نہ کرتا۔ ( ترمذی )
جب آپ مکہ شریف سے باہر نکلے تو پھر آپ نے اپنی سواری کا منہ مکہ شریف کی طرف کرکے فرمایا: واللہ انک لخیر ارض اللہ واحب ارض اللہ الی اللہ ولولا اخرجت منک ماخرجت ( احمد، ترمذی، ابن ماجہ ) قسم اللہ کی! اے شہر مکہ تو اللہ کے نزدیک بہترین شہر ہے، تیری زمین اللہ کو تمام روئے زمین سے پیاری ہے۔ اگر میں یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو کبھی یہاں سے نہ نکلتا۔

فضیلت حج کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من حج ہذا البیت فلم یرفث ولم یفسق رجع کما ولدتہ امہ ( ابن ماجہ ص 213 ) یعنی جس نے پورے آداب وشرائط کے ساتھ بیت اللہ شریف کا حج کیا۔ نہ جماع کے قریب گیا اور نہ کوئی بے ہودہ حرکت کی وہ شخص گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوکر لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن پاک صاف تھا۔

ابوہریرہ کی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی حج بیت اللہ کے ارادے سے روانہ ہوتا ہے۔ اس شخص کی سواری جتنے قدم چلتی ہے ہر قدم کے عوض اللہ تعالیٰ اس کا ایک گناہ مٹاتا ہے۔ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے۔ اور ایک درجہ جنت میں اس کے لیے بلند کرتا ہے۔ جب وہ شخص بیت اللہ شریف میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں طواف بیت اللہ اور صفا و مروہ کی سعی کرتا ہے پھر بال منڈواتا یا کترواتا ہے تو گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہوجاتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن تھا۔ ( ترغیب وترہیب ص224 )
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ابن خزیمہ کی روایت ہے کہ جو شخص مکہ معظمہ سے حج کے واسطے نکلا اور پیدل عرفات گیا پھر واپس بھی وہاں سے پیدل ہی آیا تو اس کو ہرقدم کے بدلے کروڑوں نیکیاں ملتی ہیں۔
بیہقی نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حج وعمرہ ساتھ ساتھ ادا کرو۔ اس پاک عمل سے فقر کو اللہ تعالیٰ دور کردیتا ہے اور گناہوں سے اس طرح پاک کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کو میل سے پاک کردیتی ہے۔
مسند احمد میں ابن عباس کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس مسلمان پر حج فرض ہوجائے اس کو ادائیگی میں جلدی کرنی چاہیے۔ اور فرصت کو غنیمت جاننا چاہیے۔ نہ معلوم کل کیا پیش آئے اے زفرصت بے خبر در ہرچہ باشی زود باش۔ میدان عرفات میں جب حاجی صاحبان اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر دین ودنیا کی بھلائی کے لیے دعا مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمانوں پر فرشتوں میں ان کی تعریف فرماتا ہے۔
ابویعلیٰ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جو حاجی راستے میں انتقال کرجائے اس کے لیے قیامت تک ہر سال حج کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
الغرض فرضیت حج کے بارے میں اور فضائل حج کے متعلق اور بھی بہت سی مرویات ہیں۔ مومن مسلمان کے لیے اسی قدر کافی وافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کو اتنی طاقت دے کہ وہ حج کو جاسکے اس کو ضرور بالضرور وقت کو غنیمت جاننا چاہیے اور توحید کی اس عظیم الشان سالانہ کانفرنس میں بلاحیل وحجت شرکت کرنی چاہیے۔ وہ کانفرنس جس کی بنیاد آج سے چار ہزار سال قبل اللہ کے پیارے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پاک ہاتھوں سے رکھی اس دن سے آج تک ہرسال یہ کانفرنس ہوتی چلی آرہی ہے۔ پس اس کی شرکت کے لیے ہر مومن مسلمان ہر ابراہیمی ہرمحمدی کو ہروقت متمنی رہنا چاہیے۔

حج کی فرضیت کے شرائط کیا ہیں؟:
حج فرض ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط ہیں، ان میں سے اگر ایک چیز بھی فوت ہو جائے تو حج کے لیے جانا فرض نہیں ہے۔ قاعدہ کلیہ ہے اذافات الشرط فات المشروط شرط کے فوت ہوجانے سے مشروط بھی ساتھ ہی فوت ہوجاتا ہے۔ شرائط یہ ہیں ( 1 ) مسلمان ہونا ( 2 ) عاقل یا بالغ ہونا ( 3 ) راستے میں امن وامان کا پایا جانا ( 4 ) اخراجات سفر کے لیے پوری رقم کاموجود ہونا ( 5 ) تندرست ہونا ( 6 ) عورتوں کے لیے ان کے ساتھ کسی محرم کا ہونا، محرم اس کو کہتے ہیں جس سے عورت کے لیے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے قطعاً حرام ہوجیسے بیٹا یا سگا بھائی یا باپ یا داماد وغیرہ۔ محرم کے علاوہ مناسب تو یہی ہے کہ عورت کے ساتھ اس کا شوہر ہو۔ اگر شوہر نہ ہوتو کسی محرم کا ہونا ضروری ہے۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تسافر امراۃ مسیرۃ یوم ولیلۃ الا ومعہا ذو محرم متفق علیہ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورت ایک رات دن کی مسافت کا سفر بھی نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔
عن ابی عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یخلون رجل بامراۃ ولا تسافرون امراۃ الا ومعہا محرم الحدیث متفق علیہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مرد کسی غیر عورت کے ساتھ ہرگز تنہائی میں نہ ہو۔ اور نہ ہرگز ہرگز کوئی عورت بغیر شوہر یا کسی ذی محرم کو ساتھ لیے سفر کرے۔ ایک شخص نے عرض کیا، حضور! میرا نام مجاہدین کی فہرست میں آگیا اور میری عورت حج کے لیے جارہی ہے۔ آپ نے فرمایا، جاؤ تم اپنی عورت کے ساتھ حج کرو۔

حج کے مہینوں اور ایام کا بیان
چونکہ حج کے لیے عموماً ماہ شوال سے تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ اس لیے شوال وذی قعدہ و عشرئہ ذی الحجہ کو اشہرالحج یعنی حج کے مہینے کہا جاتا ہے۔ ارکان حج کی ادائیگی کے لیے خاص دن مقرر ہیں جو آٹھ ذی الحجہ سے شروع ہوتے ہیں اور تیرہ ذی الحجہ پر ختم ہوتے ہیں۔ ایام جاہلیت میں کفار عرب اپنے اغراض کے ماتحت حج کے مہینوں کا الٹ پھیر کرلیا کرتے تھے۔ قرآن پاک نے ان کے اس فعل کو کفر میں زیادتی سے تعبیر کیا۔ اور سختی کے ساتھ اس حرکت سے روکا ہے۔ عمرہ مطلق زیارت کو کہتے ہیں۔ اس لیے یہ سال بھر میں ہرمہینے میں ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ایام کی خاص قیود نہیں ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مدت العمر میں چار مرتبہ عمرہ کیا۔ جن میں سے تین عمرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ ذی قعدہ میں کئے اور ایک عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجتہ الوداع کے ساتھ ہوا۔ ( متفق علیہ )

حدیث نمبر : 1513
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سليمان بن يسار، عن عبد الله بن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال كان الفضل رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءت امرأة من خثعم، فجعل الفضل ينظر إليها وتنظر إليه، وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل إلى الشق الآخر فقالت يا رسول الله إن فريضة الله على عباده في الحج أدركت أبي شيخا كبيرا، لا يثبت على الراحلة، أفأحج عنه قال ‏”‏نعم‏”‏‏. ‏ وذلك في حجة الوداع‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انھیں ابن شہاب نے، انہیں سلیمان بن یسارنے، اور ان سے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس ( حجۃ الوداع میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت آئی۔ فضل اس کو دیکھنے لگے وہ بھی انہیں دیکھ رہی تھی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ بار بار دوسری طرف موڑ دیناچاہتے تھے۔ اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ کا فریضہ حج میرے والد کے لئے ادا کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ لیکن وہ بہت بوڑھے ہیںاونٹنی پر بیٹھ نہیں سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج ( بدل ) کرسکتی ہوں؟ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجتہ الوداع کا واقعہ تھا۔

تشریح : اس حدیث سے یہ نکلا کہ نیابتا دو سرے کی طرف سے حج کرنا درست ہے۔ مگر وہ شخص دوسرے کی طرف سے حج کرسکتاہے جو اپنا فرض حج ادا کرچکا ہوا۔ اور حنفیہ کے نزدیک مطلقاً درست ہے اور ان کے مذہب کو وہ حدیث رد کرتی ہے جس کو ابن خزیمہ اور اصحاب سنن نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نکالا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو شبرمہ کی طرف سے لبیک پکار تے ہوئے سنا، فرمایا کہ تو اپنی طرف سے حج کرچکا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو پہلے اپنی طرف حج کر پھر شبرمہ کی طرف سے کرلو۔ اسی طرح کسی شخص کے مرجانے کے بعد بھی اس کی طرف حج درست ہے۔بشرطیکہ وہ وصیت کر گیا ہو۔ اور بعضوں نے ماں باپ کی طرف سے بلا وصیت بھی حج درست رکھا ہے۔ ( وحیدی )

حج کی ایک قسم حج بدل بھی ہے۔ جو کسی معذور یا متوفی کی طرف سے نیابتا کیا جاتا ہے۔ ا س کی نیت کرتے وقت لبیک کے ساتھ جس کی طرف سے حج کے لئے آیا ہے اس کا نام لینا چاہئے۔ مثلاً ایک شخص زید کی طرف سے حج کے لئے گیا تو وہ یوں پکارے لَبَّیکَ عَن زَیدٍ نِیَابَۃً کسی معذور زندے کی طرف سے حج کرنا جائز ہے۔اسی طرح کسی مرے ہوئے کی طرف سے بھی حج بدل کرایا جاسکتا ہے۔ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ مریا باپ بہت ہی بوڑھا ہوگیا ہے۔ وہ سواری پر بھی چلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ اجازت دیں تو میں ان کی طرف سے حج اداکرلوں۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں کرلو ( ابن ماجہ ) مگر اس کے لئے یہ ضر وری ہے کہ جس شخص سے حج بدل کرایا جائے وہ پہلے خود اپنا حج ادا کرچکا ہو۔جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے ظاہر ہے۔

عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمع رجلا یقول لبیک عن شبرمۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شبرمۃ قال قریب لی قال ہل حججت قط قال لا قال فاجعل ہذا عن نفسک ثم حج عن شبرمۃ رواہ ابن ماجۃ یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا وہ لبیک پکارتے وقت کسی شخص شبرمہ نامی کی طرف سے لبیک پکاررہا ہے ہے۔ آپ نے دریافت کیا کہ بھئی یہ شبرمہ کون ہے؟ اس نے کہا کہ شبرمہ میرا ایک قریبی ہے۔ آپ نے پوچھا تو نے کبھی اپنا حج ادا کیا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا، اپنے نفس کی طرف سے حج ادا کر پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حج بدل وہی شخص کرسکتا ہے جوپہلے اپنا حج کرچکا ہو۔ بہت سے ائمہ اور امام شافعی رحمہ اللہ وامام احمد رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔ لمعات میں ملاعلی قاری مرحوم لکھتے ہیں:الامر یدل بظاہر علی ان النیابۃانما یجوز بعد اداءفرض الحج والیہ ذہب جماعۃ من الائمۃ والشافعی واحمد یعنی امر نبوی بظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے نیابت اسی کے لئے جائز ہے جو اپنا فرض ادا کرچکا ہو۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب نیل الاوطار میں یہ باب منعقد کیا ہے۔ باب من حج عن غیرہ ولم یکن حج عن نفسہ یعنی جس شخص نے اپنا حج نہیں کیا وہ غیر کا حج بدل کرسکتا ہے یا نہیں اس پر آپ حدیث بالا شبرمہ والی لائے ہیں۔ اور اس پر فیصلہ دیا ہے وہ لیس فی ہذا الباب اصح منہ یعنی حدیث شبرمہ سے زیادہ اس باب میں اور کوئی صحیح حدیث اور وارد نہیں ہوئی ہے۔ پھر فرماتے ہیں:وظاہر الحدیث انہ لا یجوز لمن یحج عن نفسہ ان یحج عن غیرہ وسوائً کان مستطیعا اوغیر مستطیع لا ن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یستفصل ہذا للرجل الذی سمعہ یلبی عن شبرمۃ وہو ینزل منزلۃ العموم والیٰ ذلک ذہب الشافعی والناصر ( جزءرابع نیل الاوطارص173 ) یعنی اس حدیث ظاہر ہے کہ جس شخص نے اپنے نفس کی طرف سے پہلے حج نہ کیا ہو وہ حج بدل کسی دوسرے کی طرف سے نہیں کرسکتا۔خواہ وہ اپنا حج کرنے کی طاقت رکھنے والا ہو یا طاقت نہ رکھنے والا ہو۔ اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کو شبرمہ کی طرف سے لبیک پکارتے ہوئے سنا تھا اس سے آپ نے یہ تفصیل دریافت نہیں کی۔ پس یہ بمنزلہ عموم ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ وناصر رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔

پس حج بدل کرنے اور کرانے والوں کو سوچ سمجھ لینا چاہئے۔ امر ضروری یہی ہے کہ حج بدل کے لئے ایسے آدمی کو تلاش کیا جائے جو اپنا حج ادا کرچکا ہوتا کہ بلاشک وشبہ ادائیگی فریضہ حج ہوسکے۔ اگرکسی بغیرحج کئے ہوئے کو بھیج دیا تو حدیث بالا کے خلاف ہو گا۔نیز حج کی قبولیت اور ادائیگی میں پورا پورا تردد بھی باقی رہے گا۔ عقل مند ایسا کام کیوں کرے جس میں کافی روپیہ خرچ ہو اور قبولیت میں تردد وشک وشبہ ہاتھ آئے
چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٢ – حدیث نمبر٨١٤ تا ١٦٥٤

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں