خطباتِ حجۃ الوداع… احادیث ِنبویﷺ کی روشنی میں

تحریر : ملک کامران طاہر
حصّہ اوّل:
’حجۃ الوداع‘ کی و جہ تسمیہ یہ ہے کہ آپ اکا یہ آخری حج تھا،اس کو ’حجۃ الاسلام‘بھی کہا جاتا ہے اس وجہ سے کہ ہجرت کے بعد آپؐ نے یہی ایک حج کیا، اس کے علاوہ اس کو’حجۃ البلاغ‘کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے جملہ مسائل حج اس کے ذریعے قول اور فعل اور کردار کے آئینہ میں دکھا دیئے اور اسلام کے اُصول و فروع سے آگاہ کر دیا۔ تاہم ان ناموں میں سے ’حجۃ الوداع‘ زیادہ مشہور ہوا، کتب ِاحادیث میں اکثر راوی اسی نام سے روایت کرتے ہیں۔
خطبہ حجۃ الوداع ایک اہم تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹر‘ کی حیثیت رکھتا ہے جو ذخیرہ احادیث و روایاتِ تاریخ کی صورت میں موجود ہے۔محدثین اور مؤرخین نے اپنے اپنے فن کے مطابق اسے اپنی تصنیفات میں ذکر کیا ہے۔ اب تک متعدد سیرت نگاروں نے ان شقوں کواکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سیرت کی کتابوں میں یکجا کی گئیں روایات کی تخریج و تحقیق کا کام کماحقہ نہ ہوسکا۔ اکثر مصنّفین نے صحیح احادیث کا اہتمام نہیں کیا بلکہ خطبہ حجۃ الوداع سے متعلق تمام رطب و یابس جمع کردیا ہے۔ اس کے علاوہ کتب ِسیرت میں خطبات کی ترتیب کا بھی کوئی خاص لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ نبی کریمﷺ کے خطبات جو آپؐ نے تین دن مختلف مقامات واوقات میں دیے، ایک ہی جگہ جمع کردیئے گئے اور ان تینوں خطبوں کوایک ہی خطبہ (یعنی خطبہ حجۃ الوداع) کا نام دے دیا گیا۔ اسی طرح بعض بے سند تاریخی روایات بھی خطبات حجۃ الوداع کے نام سے متداول ہوچکی ہیں۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ محسن انسانیت محمد رسول اللہ ﷺ کے ان خطبات کو جوکہ ’حجۃ الوداع‘ کے نام سے موسوم ہیں، الگ الگ مقام اور وقت کی مناسبت سے اپنی تمام شقوں کے ساتھ مرتب کیا جاتا۔ راقم نے مذکورہ مضمون میں اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔لہٰذا آئندہ سطور میں اس ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ ۹،۱۰،۱۲ ذوالحجہ کے خطبات جو یوم عرفہ، یوم النحر، یوم الرؤس اوسط ایام التشریق کے نام سے مشہور ہیں، میں سے ہر خطبہ اس کے مقام و دن کے ساتھ بالترتیب لکھ دیا گیا ہے۔
خطبات میں چونکہ نبی کریمﷺ نے اعادہ کے طور پر ایک خطبہ کے کچھ جملوں کو ہر خطبہ میں بیان فرمایا، لہٰذا مکرر شدہ جملوں کو طوالت سے بچاتے ہوئے صرف ایک خطبہ میں ہی لکھ دیا گیا ہے اور غیر مکرر جملے اپنے اپنے مقام پر درج کردیئے گئے ہیں۔ اس کے بعد وہ روایات جو کسی مقام کی طرف منسوب نہیں بلکہ راویوں نے صرف حجۃ الوداع یا حجۃ النبیﷺ کی طرف منسوب کرکے انہیں روایت کیا ہے ، رقم کردی گئی ہیں۔ اور اس میں صرف احادیث کی کتب سے صحیح روایات کا چناؤ کیا گیا ہے۔ تاریخی روایات کی اسنادی حیثیت ثانوی ہونے کی وجہ سے ان روایات سے گریز کیا گیا ہے، تاکہ رسول اللہﷺ کے اقوال مستند طور پر پیش کئے جاسکیں۔کوشش کی گئی ہے کہ صحیح و مقبول روایات ہی ان خطبات کا حصہ بنیں اور اس چیز کوممتاز کرنے کے لئے غیر مستند روایات کو آخر میں ان کے ضعف کی نشاندہی کے ساتھ درج کردیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ان تمام خطبات سے جو نکات آخر کار حاصل ہوتے ہیں، ان کو آخرمیں ایک مستقل صورت میں عنوانات کے تحت مدون کر دیاگیا ہے۔

حجۃ الوداع کاپس منظر:
نبوت کے ۲۳ سال پورے ہونے کو تھے،آپ ا نے اللہ کا پیغام لوگوں تک کما حقہ پہنچا دیا تھا اور آپ ؐ کا مشن پایہ تکمیل تک پہنچ چکا تھا۔یقینا آپ کو اس کا احساس تھا جس کا پتہ آپﷺ کی وصیت سے چلتا ہے جو آپﷺ نے حضرت معاذ کو یمن کا گورنر مقرر فرما کر بھیجتے ہوئے فرمائی تھی۔ آپﷺنے حضرت معاذ کو ۱۰ ہجری میں یمن کا گورنر مقرر کیا اور وصیت کی کہ
’’اے معاذ! غالبا تم مجھ سے میرے اس سال کے بعد نہ مل سکو گے، بلکہ غالبا میری اس مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو گے۔حضرت معا ذ یہ سن کر رسول اللہ ا کی جدائی کے غم میں رونے لگے ‘‘ (مسنداحمد ۵؍۲۳۵ ،مجمع الزوائد ۹؍۲۲)
حج کامہینہ قریب تھا اور ضرورت اس بات کی تھی کہ رہبر اعظمؐ کی لوگوں سے آخری ملاقات اور آپ کے وصیتی ارشادات لوگوں تک پہنچ جائیں۔سو آپﷺ نے اس سال حج کا ارادہ فرمایا اور اسی منصوبہ کے پیش نظر اطرافِ مکہ میں اس کا اعلان کر دیا گیا کہ نمائندگانِ قبائل اپنے قبائل کے افراد کے ساتھ اس اجتماع میں حاضر ہوں۔مسلمانانِ عرب جوق در جوق مکہ کی طرف روانہ ہونے لگے تھے۔شنبہ کے روز ظہر کے بعد مدینہ سے مکہ کی طرف کوچ فرمایا۔
آپﷺ تقریبا آٹھ دن سفر کرنے کے بعد ۴؍ذی الحجہ ۱۰ھ؁ کو مکہ میں داخل ہوئے۔ ۸؍ذی الحجہ ، ترویہ کے دن آپ ؐ منیٰ تشریف لے گئے۔۹؍ذی الحجہ کی صبح تک وہیں قیام فرمایا اور پہلاخطبہ عرفات میں ارشاد فرمایا۔اور اس طرح دیگر مناسک حج ادا کرتے ہوئے ۱۰،۱۱؍ذی الحجہ کو بھی خطبات ارشاد فرمائے۔
آپﷺ کے ساتھ شریک صحابہ اکرام ؓ کی تعداد تقریبا ایک لاکھ چوالیس ہزار تھی۔حال ہی میں وفات پانے والے نامور مسلم محقق ومؤرخ جناب ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے ’انسانیت کا منشورِ اعظم‘ قرار دیا ہے۔’رسول اکرمﷺ کی سیاسی زندگی‘ کے نام سے ان کی کتاب جس میں نبی کریم کے سیاسی کارناموں اور سیاسی دستاویزات کی تحقیق پیش کی گئی ہے، میں ایک مستقل باب میں انہوں نے اس خطبہ کی تمام شقوں کوکتب ِ تاریخ کی مدد سے ۱۶ دفعات میں جمع کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’جمعہ ۹؍ذی الحجہ ۱۰ھ کو جبل الرحمہ پر سے میدان عرفات کے ڈیڑھ لاکھ حاضرین سے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول کریمﷺ نے جو خطاب فرمایا تھا، اسے تاریخ نے خوش قسمتی سے محفوظ رکھا ہے، اس خطاب کو انسانیت کا منشورِاعظم کہا جاسکتا ہے ۔‘‘ (ص ۳۰۲تا ۳۰۵)
وصایا اور مناسک ِ حج سکھلانے کے بعد نبیﷺ اپنے جاں نثاروں کے ہمراہ یوم النفر الثاني (۱۳؍ذی الحجہ) کو عشاء کے بعد طوافِ وداع کر کے واپس مدینہ کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔
حجۃ الوداع میں نبیﷺ نے چار خطبات ارشاد فرمائے جیسا کہ امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ’’ہمارے نزدیک چار خطبات ہیں:پہلا مکہ میں کعبہ کے نزدیک ذوالحجہ کے ساتویں دن، دوسرا مسجد نمرہ میں عرفہ کے دن ، تیسرا منیٰ میں نحر کے دن، چوتھا ایام التشریق کے دوسرے دن منیٰ میں۔‘‘ (مسلم شرح نووی: ۹؍۵۷)
’ساتویں دن‘ کے متعلق امام بیہقی ’سنن الکبریٰ‘ میں ابن عمرؓ کا یہ فرما ن ذکر کرتے ہیں:
“کان رسول الله ﷺ إذا کان قبل الترویة خطب الناس فأخبرهم بمناسکهم” (بیہقی:۵؍۱۱۱)
’’رسول اللہﷺ نے یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے پہلے (سات ذوالحجہ) لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا ، جس میں ان کو ان کے مناسک کے بارے میں خبر دی۔‘‘
راقم کو باوجود بسیار کوشش کے ’یوم السابع‘ کے خطبہ کی تفصیل کتب ِاحادیث سے نہیں مل سکی اہل علم و تحقیق اس بارے میں مزید جستجو اور رہنمائی فرمائیں۔
ذیل میں پیش کردہ روایات کی تحقیق و تخریج بقدر امکان کی گئی ہے ۔اور احتیاط کے لیے احادیث کے تراجم نامور سیرت نگاروں کی کتب سے لئے گئے ہیں، صرف وہ احادیث جن کا ترجمہ ان کتب سے نہ مل سکا ، راقم کا کیا ہوا ہے۔ وما توفیقي إلا بالله

خطبہ یوم عرفہ … ۹ ذوالحجہ:

وقت او ر دِن :نبیﷺ نے عرفہ کے دن کا خطبہ بطن وادی (عرفہ) میدانِ عرفات میں سواری پر جمعہ کے دن ظہر کی نماز سے پہلے ارشاد فرمایا جیسا کہ اس کا ذکر آگے روایات میں آرہا ہے:
سنن ابی داؤد میں خالد بن عداء سے روایت ہے کہ:”رأیت رسول الله یخطب الناس یوم عرفة على بعیر قائم في الرکابین” (صحیح ابوداود للالبانی :۱۶۸۷،۱۶۸۶)
’’میں نے رسول اللہﷺ کو عرفہ کے دن اونٹ کی رکابوں پر کھڑے ہوکر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔‘‘
مسلم، سنن ابی داود، مستدرک حاکم ابن ماجہ میں روایت ہے کہ آپﷺ کے خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد “ثم أذّن بلال ثم أقام فصلى الظهر” بلالؓ نے اذان کہی اور ظہر کی نماز نبیؐ نے پڑھائی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نے یہ خطبہ ظہر سے پہلے دیا تھا۔ (واللہ اعلم)
حضرت عمرؓ کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ یوم عرفہ جمعہ کے دن تھا۔چنانچہ آپؓ آیت ﴿ألْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ…﴾کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وهو قائم بعرفة یوم جمعة (بخاری ۴۴۰۷، ۴۶۰۶، نسائی ۵۰۱۲)
جبکہ دوسری روایت میں أنزلت لیلة الجمعة کے الفاظ بھی ہیں اور ان دونوں روایتوںمیں تطبیق کی صورت یہی ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا جس کی یہ آیت اتری اور حضرت عمرؓ نے جمعہ کی شام کی مناسبت سے اسے لیلۃ الجمعۃ کہہ دیا ورنہ لیلۃ الجمعۃ سے ان کی مراد جمعرات نہ تھی۔ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر کا موقف بھی یہی ہے کہ عرفہ کا دن جمعہ کے دن تھا۔ (فتح الباری :۸؍۲۷۰)اوریہی بات صاحب ِتحفۃ الاحوذی لکھتے ہیں کہ ’’یہ عرفہ کا دن تھا اور اس دن جمعہ تھا۔‘‘ (تحفۃ الاحوذی: ۴؍۹۶ )
اس تحقیق کے بعد راجح بات یہی سامنے آتی ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا۔ اسی روایت کو بنیاد بناتے ہوئے ہم نے دوسرے دو خطبوں کے دنوں کا تعین یوم النحربروز ہفتہ، یوم الرؤس بروز سوموار کیا ہے۔ واللہ أعلم
خطبہ یومِ عرفہ کی روایات درج ذیل ہیں:
٭ امام بیہقی مسور بن مخرمہ سے روایت لائے ہیں کہ رسول اللہا نے عرفات میں حمدوثنا کے بعد خطاب فرمایا۔ (بیہقی ۵؍۱۲۵)
٭ حضرت جابر نبی کریمﷺ کا حج بیان کرتے ہوئے خطبہ حجۃ الوداع کے متعلق بیان کرتے ہیں:
فأتى بطن الوادي، فخطب الناس وقال: إن دماءکم وأموالکم حرام علیکم، کحرمة یومکم هذا في شهرکم هذا في بلدکم هذا، ألا کل شیئ من أمر الجاهلیة تحت قدمي موضوع، ودماء الجاهلیة موضوعة وإن أول دم أضع من دمائنا دم ابن ربیعة بن الحارث، کان مسترضعا في بنی سعد فقتله هزیل، وربا الجاهلیة موضوع، و أوّل ربا أضع ربانا، ربا عباس بن عبد المطلب، فإنه موضوع کله فاتقوا الله في النساء فإنکم أخذتموهن بأمان الله، واستحللتم فروجهن بکلمة الله، ولکم علیهن أن لا یوطئن فروشکم أحداً تکرهونه، فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربًا غیر مبرح، ولهن علیکم رزقهن وکسوتهن بالمعروف، وقد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعده إن اعتصتم به: کتاب الله، وأنتم تُسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأدّیت ونصحت،فقال بإصبعه السبابة، یرفعها إلى السماء وینکتها إلى الناس: اللهم! اشهد، اللهم! اشهد ثلاث مرات (صحیح مسلم :۲۹۴۱، صحیح سنن ابی داود للالبانی :۱۹۰۵، ابن ماجہ :۱۸۵۰، الفتح الربانی :۲۱؍۵۸۸)
’’نبیﷺ کریم بطن الوادی میں آئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا: تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کردیئے گئے اور ہمارے خون میں سب سے پہلا خون جسے میں ختم کررہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔ یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہی ایام میں قبیلہ ہزیل نے اسے قتل کردیا اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارا کا سارا سود ختم ہے۔
ہاں! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں گوارا نہیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن سخت مار نہ مارنا، اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاؤ اور پہناؤ اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔
یہ سن کر آپﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔‘‘ (الرحیق المختوم: ص ۷۳۳)
٭ عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:
“ألا وإني فرطکم على الحوض، وأکا ثربکم الأمم فلا تسودوا وجهي،ألا وإني مستنقذ أناسا، ومستنقذ مني أناس فأقول: یارب! أصیحابي فیقول: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك” (صحیح ابن ماجہ للالبانی :۲۴۸۱)
’’آگاہ رہو میں تمہارا پیش خیمہ ہوں، حوضِ کوثر پراور میں تمہارے سبب اس اُمت کی کثرت پر فخر کروں گا، مجھے شرمندہ نہ کرنا۔
خبردار! کچھ لوگوں کو میںچھوڑ دوں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑوالئے جائیں گے۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! یہ تو میرے اصحاب ہیں، سو وہ فرمائے گا تو نہیں جانتا جو اُنہوں نے تیرے بعد نئی بدعتیں ایجاد کیں۔‘‘
٭عرفہ کے دن ہی یہ آیت بھی نازل ہوئی: ﴿اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الِاسْلاَمَ﴾ (المائدۃ:۳)
آ ج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا۔‘‘ (الرحیق المختوم :۷۳۵)
اس کے متعلق حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ”إني لأعلم أي مکان أنزلت ورسول اﷲ واقف بعرفة” (بخاری:۴۴۰۷)
’’بے شک میں بہتر جانتا ہوں کہ یہ کس مقام پر نازل ہوئی ، نبیﷺ اس وقت عرفہ میں تھے ۔‘‘

خطبہ یوم النحر… ۱۰؍ ذوالحجہ:
عن رافع بن عمرو المزني قال رأیت رسول الله یخطب الناس بمنی حین ارتفع الضحى على بغلى شهباء وعلي یعبر عنه والناس بین قائم وقاعد” (بیہقی:۵؍۱۴۰)
’’رافع کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو چاشت کے وقت دن چڑھے سواری پر خطاب کرتے سنا، حضرت علی آپﷺ کا خطاب دہرا رہے تھے، سامعین میںبعض بیٹھے اور بعض کھڑے تھے ۔‘‘
خطبہ میں فرمایا:
“یا أیها الناس أي شهر أحرم؟ قالوا: هذا الشهر، قال أي یوم أحرم؟ قالوا: هذا وهو یوم النحر، قال: فأي بلد أعظم عند الله حرمة؟ قالوا: هذا، قال: فإن دماء کم وأموالکم وأعراضکم محرمة علیکم کحرمة یومکم هذا في شهر کم هذا، في بلدکم هذا إلى یوم تلقون ربکم ألا هل بلغت؟ قال الناس: نعم، فرفع یدیه إلى السماء ثم قال: اللهم اشهد، ثم قال: لیبلغ الشاهد منکم الغائب” (مجمع الزوائد:۳؍۲۶۹)
’’اے لوگو! کون سا مہینہ سب سے زیادہ حرمت والا ہے، لوگوں نے کہا: یہی مہینہ۔ فرمایا کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آج کا دن اور وہ یوم النحر تھا۔ پھر آپﷺ نے پوچھا: اللہ کے نزدیک سب سے حرمت والاشہر کون سا ہے تو صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ یہی ہے۔ تب آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارا خون اور تمہارا مال اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح یہ مہینہ، یہ دن اور اس شہر کی حرمت ہے اور یہ اس دن تک ہے جس دن تم اپنے ربّ سے ملاقات کرو گے۔
خبردار! کیا میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا۔ لوگوں نے کیا جی ہاں! تو نبی ا نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا: اے اللہ گواہ رہ، پھر آپؐ نے فرمایا: ہر حاضرغائب کو یہ دعوت پہنچا دے۔‘‘
٭ حضرت جابر فرماتے ہیں، آپﷺ نے نحر کے دن فرمایا:
«ویقول لتأخذوا مناسککم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتی هذه»
’’آپﷺ فرما رہے تھے کہ لوگو! تم حج کے طریقے سیکھ لو، میں اُمید نہیں کرتا کہ اس حج کے بعد حج کرسکوں۔‘‘ (صحیح مسلم:۱۲۹۷، مجمع الزوائد:۳؍۲۶۹)
٭ امام بخاری اپنی صحیح میں ابوبکرہ کی روایت لائے ہیں کہ آپٖﷺ نے فرمایا:
«الزمان قد استدار کهیئة یوم خلق السماوات والأرض، السنة اثنا عشر شهرًا منها أربعة حرم، ثلاثة متوالیات: ذوالقعدة ، وذو الحجة والمحرم، ورجب، مضر الذي بین جمادی وشعبان» (بخاری:۴۴۰۶)
’’زمانہ گھوم پھر کر اپنی اس دن کی ہیئت پر پہنچ گیا ہے جس دن اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے کے ہیں۔ تین پے درپے یعنی ذیقعد، ذی الحجہ اور محرم اور ایک رجب،مضر(قبیلے کا) جو جمادی الآخرۃ اور شعبان کے درمیان ہے۔‘‘ (الرحیق المختوم:۷۳۷)
٭مزید فرمایا:
“فإن دماءکم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام، کحرمة یومکم هذا في بلدکم هذا، في شهر کم هذا، وستلقون ربکم فسیألکم عن أعمالکم، ألا فلا ترجعو بعدي ضلالا، یضرب بعضکم رقاب بعض، ألا لیبلغ الشاهد الغائب فلعل بعض من یبلغه أن یکون أوعى له من بعض من سمعه” (بخاری:۴۴۰۶،۷۰۷۸)
’’اچھا تو سنو کہ تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے۔ اور تم لوگ بہت جلد اپنے پروردگار سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا، لہٰذا دیکھو میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو جو شخص موجود ہے، وہ غیر موجود تک (میری باتیں) پہنچا دے۔ کیونکہ بعض وہ افراد جن تک (یہ باتیں) پہنچائی جائیں گی، وہ بعض (موجودہ) سننے والوں سے کہیں زیادہ ان باتوں کے دروبست کو سمجھ سکیں گے۔‘‘ (الرحیق المختوم:۷۳۷،۷۳۸)
٭ سلیمان بن عمرو بن اَحوص اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ا کے ساتھ تھے ، آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور وعظ فرمایا:
“ألا لا یجنی جان إلا على نفسه، ولا یجني والد على ولده ولا ولد على والده، ألا إن المسلم أخو المسلم، فلیس یحل لمسلم من أخیه شیئ إلا ما أحل من نفسه. ألا وإن کل ربا في الجاهلیة موضوع، لکم رؤوس أموالکم، لا تظلمون ولا تظلمون غیر ربا العباس بن عبد المطلب فإنه موضوع کله” (صحیح ابن ماجہ للالبانی:۲۴۷۹)
’’یاد رکھو! کوئی بھی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر جرم نہیںکرتا (یعنی اس جرم کی پاداش میں کوئی اور نہیں بلکہ خود مجرم ہی پکڑا جائے گا) کوئی جرم کرنے والا اپنے بیٹے پر یا کوئی بیٹا اپنے باپ پر جرم نہیںکرتا (یعنی باپ کے جرم میں بیٹے کو یا بیٹے کے جرم میں باپ کو نہیں پکڑا جائے گا) خبردار! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کی کوئی بھی چیز دوسرے مسلمان کے لئے حلال نہیں جب تک وہ خود حلال نہ کرے۔ خبردار! جاہلیت کا ہر قسم کا سود اب ختم ہے، تمہارے لئے تمہارا اصل مال ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی تم ظلم کا شکار ہو۔ عباس بن عبدالمطّلب کا سود سارے کا سارا ختم ہے۔‘‘
٭ انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: خطبنا رسول اﷲ ﷺ بمسجد من منی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مسجد ِخیف میں جو کہ منیٰ میں ہے، خطبہ دیا۔ آپﷺ نے فرمایا:
«نضر الله امرأ سمع مقالتي فحفظها ووعاها، ثم ذهب بها إلى من لم یسمعها، فربّ حامل فقه لیس بفقیه ورب حامل فقه إلى من هو أفقه منه» (صحیح الترغیب والترہیب للالبانی :۸۶)
’’تروتازہ رکھے اللہ اس بندے کو جس نے میری بات کو سنا، حفظ کیا اور یاد کیا۔ پھر اس کو اس تک پہنچایا جس نے اسے سنا نہیں۔کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو خود فقیہ نہیں،مگر فقہ(بصورتِ حدیث) کو اٹھائے پھرتے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اپنے سے زیادہ فقیہ شخص تک اس فقہ(حدیث) کو پہنچانے والے ہیں۔‘‘
اسی روایت کو کچھ الفاظ کے اضافہ کے ساتھ حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسجد ِخیف، (منیٰ) میں سنا :
«نضر الله عبدًا سمع مقالتي، فحفظها ووعاها، وبلغها من لم یسمعها، فربّ حامل فقه لا فقه له، وربّ حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ثلاث لا یغل علیهن قلب مؤمن: إخلاص العمل لله، والنصیحة لأئمة المسلمین، ولزوم جماعتهم فإن دعوتهم تحوط من ورائهم»(صحیح ترغیب للالبانی:۸۷، صحیح ابن ماجہ:۲۴۸۰، مسنداحمد:۴؍۸۰)
’’تروتازہ رکھے اللہ اس بندے کو جس نے میری بات کو سنا، حفظ کیا اور یاد کیا۔ پھر اس کو جس نے نہیں سنا، اس تک پہنچایا۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو خود غیر فقیہ ہیں مگر فقہ (حدیث)کو اٹھائے پھرتے ہیں۔اور بہت سے فقہ اٹھانے والے اپنے سے زیادہ فقہ والے کی طرف بات لے جاتے ہیں۔
… تین چیزیں ہیں جن پر مؤمن کا دل خیانت (تقصیر) نہیںکرتا: صر ف اللہ کے لئے عمل کے اخلاص میں، اور مسلمانوں کے حکمرانوں کی خیرخواہی میں، اور ان کی جماعت سے چمٹے رہنے میں، بے شک ان کی دعا ان پچھلے لوگوں کو بھی گھیر لیتی ہے۔‘‘
٭ احوص اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ نبیؐ نے حجۃ الوداع (یوم النحر) میں فرمایا :
“لا إن الشیطان قد أیس أن یُعبد في بلدکم هذا أبداً ولکن سیکون له طاعة في بعض ما تحتقرون من أعمالکم، فیرضی بها … ألا یأمتاه! هل بلغت؟ ثلاث مرات، قالوا: نعم، قال: اللهم اشهد ثلاث مرات” (صحیح ابن ماجہ للالبانی:۲۴۷۹)
’’یاد رکھو! شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی بھی اس کی پوجا کی جائے لیکن اپنے جن اعمال کو تم لوگ حقیر سمجھتے ہو، ان میں اس کی اطاعت کی جائے گی اور وہ اسی سے راضی ہوگا۔ خبردار، اے میری اُمت! کیا میں نے تمہیں تبلیغ کردی، یہ تین دفعہ کہا۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپؐ نے تین دفعہ فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ۔‘‘
٭ عمرو بن یثربی سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا:
«ولا یحل لامرء من مال أخیه الا ما طابت به نفسه»(مسند احمد۳؍۴۲۳، دارقطنی:۳؍۲۵، بیہقی:۶؍۹۷)
’’کسی آدمی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے مال میں سے لے جب تک وہ اپنی خوشی سے نہ دے دے۔‘‘
٭ عمرو بن خارجہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے منیٰ کے خطبہ میں فرمایا:
«إن الله قسم لکل وارث نصیبه من المیراث، فلا یجوز لوارث وصیة، الولد للفراش وللعاهر الحجر، ومن ادعی إلى غیر أبیه، أو تولى غیر موالیه، فعلیه لعنة الله والملائکة والناس أجمعین، لا یقبل منه صرف ولا عدل» (صحیح ابن ماجہ للالبانی :۲۱۹۲، مصنف عبدالرزاق :۱۶۳۰۶)
’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے ہر وارث کے لئے ثابت کردہ حصہ مقرر کردیا ہے اور وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں۔ بچہ اس کاہے جس کے بستر پر تولد ہوا اور بدکار کے لئے پتھر!۔ جس نے اپنے باپ کے بجائے کسی دوسرے کو باپ قرار دیا یا جس غلام نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو آقا ظاہر کیا تو ایسے شخص پراللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف لعنت ہے، اس سے (قیامت کے دن) کوئی بدلہ یا عوض قبول نہ ہوگا۔‘‘ (محسن انسانیت از نعیم صدیقی ؒ:ص۵۸۷)
٭ حضرت اُمّ الحصین سے مروی ہے کہ نبیؐ نے فرمایا:
«إن اُمّر علیکم عبد مجدع أسود یقودکم بکتاب الله تعالى فاسمعوا له وأطیعوا» (مسلم:۱۲۹۸)
’’اگر کوئی حبشی یعنی بریدہ غلام بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔‘‘ (سیرۃ النبیؐ از شبلی نعمانی:ؒ۲؍۱۶۴)
٭ عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیؐ نے فرمایا:
«یأیها الناس! إیاکم والغلو في الدین، فإنه أهلك من کان قبلکم الغلو في الدین» (صحیح ابن ماجہ للالبانی: ۲۴۵۵|)
’’لوگو! مذہب میں غلو اور مبالغہ سے بچو کیونکہ تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئیں‘‘ (سیرۃ النبیﷺ از شبلی نعمانی:۲؍۱۶۱)
٭ امام احمد بن حنبل، مرۃ ؒسے روایت لائے ہیں کہ جس میں نبیؐ نے منیٰ کے دن خطبہ دیا اور ایک لمبے وعظ کے بعد فرمایا:
«ألا وقد رأیتموني وسمعتم مني وستسألون عني فمن کذب على فلیتبوأ مقعده من النار» (مسنداحمد:۵؍۴۱۲)
’’خبردار! تم لوگوں نے مجھ سے سن لیا اور مجھے دیکھ لیا، عنقریب تم سے میرے بارے میں سوال ہوگا پس جس نے بھی مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔‘‘
(جاری ہے)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں