کیا دو یا دو سے زیادہ قربانی کر سکتا ہے؟

سوال:

کیا دو سے زیادہ قربانی کے جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں؟ کیونکہ ہم نے کچھ لوگوں کو تین اور چار قربانیاں کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

الحمد للہ:

اول:

قربانی کرنا شرعی اور نیک کام ہے، اور اسکا حکم فقہائے کرام کے مختلف اقوال کی روشنی میں سنت مؤکدہ یا واجب ہے۔

دوم:

گھر کے سربراہ اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے ایک ہی قربانی کافی ہے، چاہے اہل خانہ کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو؛ اس کی دلیل ترمذی: (1505) اور ابن ماجہ: (3147) میں عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ : “میں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے استفسار کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: “گھر کا سربراہ اپنی اور اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا تھا، پھر اس میں سے خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے، یہاں تک کہ لوگوں نے اسے فخر کا ذریعہ بنا لیا، اور حالت یہاں تک بگڑ گئی جو اب آپ کے سامنے ہے”

نیز نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

“ایک بکری ایک شخص کی طرف سے قربانی میں کافی ہے، لیکن ایک سے زیادہ [گھر کے سربراہان ]کی طرف سے ایک ہی بکری کافی نہیں ہوگی، تاہم اگر گھر کے سربراہ کی طرف سے قربانی کر دی جائے تو وہ سب اہل خانہ کی طرف سے ہو جائے گی، اور اس طرح ان کی طرف سے قربانی سنت کفایہ کے طور پر ہوگی ” انتہی
“المجموع” (8/370)

چنانچہ اگر ایک سے زیادہ قربانی فخر و تکبر سے دور رہ کر ذبح کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:

“کیا اسلام نے عید کے دن قربانی کرنے کی تعداد مقرر کی ہے؟ اور کی ہے تو یہ کتنی تعداد ہے؟”

تو انہوں نے جواب دیا:

“اسلام میں قربانی کی تعداد کیلئے کوئی حد بندی مقرر نہیں کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قربانیاں کیا کرتے تھے، ایک اپنی اور اہل خانہ کی طرف سے اور دوسری امت محمدیہ میں سے موحدین کی طرف سے، چنانچہ اگر کوئی شخص ایک، یا دو ، یا اس سے بھی زیادہ قربانیاں کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،

ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:

“ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک بکری ذبح کرتے تھے، اور پھر اسی سے خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے، اس کے بعد لوگوں نے اسے فخر کا ذریعہ بنا لیا”،

خلاصہ یہ ہے کہ:

اگر کوئی انسان اپنے گھر میں اپنی اور اہل خانہ کی طرف سے ایک ہی بکری ذبح کر دے تو اس طرح اس کا سنت پر عمل ہو جائے گا، اور اگر کوئی دو ، تین، چار، یا گائے ، یا اونٹ کی قربانی کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔۔۔” انتہی
سائٹ شیخ ابن باز رحمہ اللہ:

افضل اور بہتر یہی ہے کہ اپنی طرف سے اور اہل خانہ کی طرف سے ایک ہی قربانی کرے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اسی طرح تھا۔

چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ عید الاضحی کے موقع پر عید گاہ میں حاضر ہوا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے ، تو آپ کے پاس ایک مینڈھے کو لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے فرمایا: (“بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ” یہ میری اور میری امت میں سے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو قربانی نہیں کر سکے)

ابو داود: (2810) شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ابو داود میں صحیح کہا ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“بلا شک و شبہ سنت پر کار بند رہنا ہی بہتر ہے۔۔، چنانچہ اگر ہم یہ کہیں کہ : “گھر کا سربراہ صرف ایک ہی قربانی پر اکتفا کرے” تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اگر اس نے زیادہ قربانی کی تو اسے گناہ ہوگا، سربراہ کو ایک سے زیادہ قربانی کرنے پر گناہ نہیں ہوگا، تاہم مسنون طریقہ کار پر عمل کرنا ڈھیروں عمل کرنے سے افضل ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

( لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً )

تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ کون تم میں سے افضل عمل کرنے والا ہے۔ [الملك:2]

اور یہی وجہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو صحابہ کو کسی مشن پر روانہ کیا تو انہیں راستے میں پانی میسر نہ ہوا، چنانچہ انہوں نے تیمم کر کے نماز ادا کر لی، پھر کچھ دیر بعد انہیں پانی مل گیا، جس پر ایک نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھ لی، جبکہ دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، اس کے بعد دونوں نے اپنا معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہ دہرانے والے کے بارے میں فرمایا: (تم نے سنت کے مطابق عمل کیا) اور دوسرے کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہیں دو بار[نماز پڑھنے کا] اجر ملے گا) اب ان میں سے کون افضل ہے؟ جس نے سنت کے مطابق عمل کیا، اگرچہ دوسرے کو دو بار اجر ملے گا؛ دوبار اجر ملنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دو دفعہ عمل کیا، اس لئے دو دفعہ عمل کرنے کا تو اسے اجر ملا، لیکن سنت کے مطابق عمل کرنے والے کے درجے تک نہیں پہنچ سکا” انتہی

ماخوذ از: “فتاوی نور على الدرب”

واللہ اعلم.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں