معراج کا واقعہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ام ہانی کے گھر رات کے وقت آرام فرما رہے تھے کہ اللہ نے جبرائیل و میکائیل علیہماالسلام کو آپ کے پاس بھیجا وہ آپ کو مسجد حرام لے گئے پھر وہاں سے براق پر سوار کروا کر مسجد اقصی لے گئے۔
مسجد اقصی میں تمام انبیاء نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ پھر آپکو ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی گئی۔ جلیل القدر انبیا سے ملاقات کروائی گئی جنت و دوزخ دکھلائی گئی۔ معراج کے سفر کے دوران آپکو آخرت کی مثالی شکل کے ذریعہ مجاہدین کے حالات دکھائے گئے جبرائیل نے بتایا کہ اللہ نے مجاہدین کی ہر نیکی کا ثواب سات سو گنا کر دیا ہے۔
معراج کے سفر کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خیانت کرنے والے، فرض نمازوں کو چھوڑنے والے، زکوة ادا نہ کرنیوالے ، بدکاری کرنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے وغیرہ لوگوں کے بھیانک انجام دکھائے گئے۔مثلا فرض نماز چھوڑنے والوں کے سروں کو کچلا جارہا تھا انکے سر ریزہ ریزہ ہو جاتے پھر ٹھیک ہو جاتے پھر مارا جاتا اسی طرح کچلنے کا عمل جاری رہتا۔
سدرة المنتہی جو ساتوں آسمانوں سے اوپر ہے وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو انکی اس اصل شکل میں دیکھا جس شکل میں اللہ نے انھیں بنایا تھا انکے چھ سو پر ہیں ہر پر اتنا بڑا ہے کہ اس سے آسمان کا کنارہ چھپ جائے ان پروں سے رنگا رنگ موتی اور یاقوت اتنی زیادہ تعداد میں گر رہے تھے کہ جسکا شمار اللہ ھی کو معلوم ہے۔
سدرة المنتہی پہنچنے کے بعد جبرائیل نے کہا کہ میری پہنچ کا مقام یہاں ختم ہوگیا اب آپ آگے تشریف لے جائیں۔ چناچہ ایک بدلی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگھیرا اور آپ کو اس بدلی کے ذریعہ اوپر اٹھا لیا گیا بعض روایات میں ایک سیڑھی کے ذریعہ اٹھانے کا ذکر بھی آیا ہے۔اللہ نے آپ پر وحی اتاری۔
اے محمد! جب تک آپ جنت میں نہ جائیں گے اسوقت تک نبیوں کیلئے جنت حرام رہے گی اسی طرح جب تک آپکی امت جنت میں نہ جائے گی اسوقت تک تمام امتوں پر جنت حرام رہے گی۔اسکے بعد پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ پچاس نمازیں حضرت موسی کے مشورہ سے کم کروائی گئیں یہاں تک کہ انکی تعداد پانچ رہ گئی تاہم اللہ تعالی نے فرمایا۔
اے محمد! ہرروز یہ پانچ نمازیں ہیں ان میں سے ہر ایک کا ثواب دس کے برابر ہوگا اور اس طرح ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ہی ہوگا۔ آپکی امت میں سے جو بھی نیکی کا ارادہ کرے اور پھر نہ کر سکے تو اس کے حق میں صرف ارادہ پر ایک نیکی لکھوں گا اور اگر اس نے وہ نیک عمل کر بھی لیا تو اسے دس نیکیوں کے برابر لکھوں گا۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسکو نہ کرے تو بھی اسکے لئے ایک نیکی لکھ دوں گا اور اگر اس نر وہ برائی کر لی تو اسکے نتیجے میں ایک ہی بدی لکھوں گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے ہم کلامی کے بعد آسمانوں سے واپس زمین پر تشریف لائے جب اپنے بستر پر پہنچے تو وہ اسی طرح گرم تھا جیسے چھوڑ کر گئے تھے یعنی معراج کا اتنا عجیب و طویل واقعہ اور سفر صرف ایک لمحہ میں پورا ہوگیا گویا اللہ نے اس دوران کائنات کے وقت کی رفتار کو روک دیا جسکے باعث یہ معجزہ نہایت تھوڑے وقت میں پورا ہوگیا۔
معراج سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دو دو رکعت نماز ادا کرتے تھے اور رات میں قیام کرتے تھے آپکو پانچ فرض نمازوں کی کیفیت معلوم نہ تھی معراج کی رات کے بعد جب صبح ہوئی اور سورج ڈھل گیا تو جبرائیل علیہ الاسلام تشریف لائے انھوں نے امامت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی تاکہ آپکو نمازوں کے اوقات اور کیفیت معلوم ہوجائے۔
جبرائیل علیہ السلام کی آمد پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوجمع فرمایا۔چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کی امامت میں نماز ادا کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپکی امامت میں نماز ادا کی یہ ظہر کی نماز تھی یہ پہلی نماز تھی جسکی کیفیت ظاھر کی گئی اسی طرح ہر نما ز کے وقت میں اس نماز کی کیفیت ظاہر کی گئی کہ کس نماز کی کتنی رکعتیں ہیں اور کس میں قرآن آواز سے پڑھنا ہے کس میں نہیں ۔ پہلے دن جبرائیل نے نمازیں انکے اول وقت میں پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں تاکہ معلوم ہوجائے کہ کس نماز کا وقت کہاں سے کہاں تک ہو۔ لہذا اس طرح پانچ نمازیں فرض ہوئیں اور انکا طریقہ بھی آسمان سے نازل ہوا۔
آج بعض گمراہ لوگ کہتے ہیں کہ نماز کا کوئی طریقہ قرآن سے ثابت نھیں لہذا نماز کسی بھی طریقہ سے پڑھی جا سکتی ہے ہم حدیث کو نہیں صرف قرآن کو مانتے ہیں بعض منکرین حدیث کہتے ہیں کہ نمازیں صرف تین ہی فرض ہیں۔ یاد رکھیں کہ ایسے لوگ سخت گمراہ ہیں ان سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ یاد رکھیں کہ نماز کا طریقہ بھی آسمان ہی سے نازل ہوا اورہمیں نمازیں اسی طرح پڑھنی ہونگی جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام پڑھتے رہے۔ قرآن میں بھی پانچ نمازوں کا ذکر ہے اور احادیث میں بھی لہذا کسی مسلمان کیلئے انکار کی گنجائش نہیں۔
معراج کے واقعہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر جانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آسمان حقیقت میں موجود ہیں۔ بعض گمراہ لوگ کہتے ہیں کہ آسمان کا کوئی وجود نہیں بلکہ یہ کائنات کا ایک عظیم خلا ہے انسانی نگاہ جہاں جاکر رک جاتی ہے وہاں خلا کی مختلف روشنیوں کے پیچھے ایک نیلگوں حد نظر آتی ہے جسکو آسمان کہا جاتا ہے۔لیکن اسلامی تعلیمات نے ہمیں بتایا کہ آسمان موجود ہیں اور اسی ترتیب سے موجودہیں جو قرآن و حدیث نے بتائی ہے۔ بعض قرآنی آیات میں ساتوں آسمانوں کا ذکر ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان ایک اٹل حقیقت ہیں نہ کہ نظر کا دھوکہ۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں