قربانی کے مسائل وفضائل

 تحریر عثمان افضل قادری

قربانی کیا ہے؟
جواب: اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کی سنت کے مطابق اﷲ تعالیٰ کی رضا کیلئے اور ثواب کے حصول کی نیت سے دس، گیارہ اور بارہ ذوالحج کی تاریخوں میں مخصوص جانور (اونٹ، گائے، بھینس، بکرا، دنبہ، بھیڑ وغیرہ) ذبح کرنا، قربانی کرنا ہے۔

قربانی کرنے کا کیا ثواب ہے؟
جواب: ’’سنن ابن ماجہ‘‘ کی کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ، حدیث نمبر 3118 میں ہے: ’’حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: یارسول اﷲ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اﷲ! ان سے ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ہر بال کے عوض نیکی۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اﷲ! اون؟ تو آپ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے عوض بھی نیکی ملے گی۔

سنت ابراہیمی کے تحت قربانی کرنے کے فضائل کیا ہیں؟
جواب: سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص دل کی خوشی سے اور ثواب پانے کی نیت سے قربانی کرے تو قربانی اس شخص کے لیے آگ سے رکاوٹ بن جائے گی۔‘‘ ایک اور حدیث پاک میں ہے: ’’قربانی کے جانوروں کو خوب پالو! کہ وہ پل صراط پر تمہارے لیے سواری ہوں گے۔‘‘ ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے: ’’قیامت کے روز قربانی ایک خوبصورت جانور کی شکل میں قبر پر کھڑی ہوگی اور قربانی دینے والے کو اپنے اوپر سوار کرکے عرش معلی کے سایہ تلے پہنچائے گی۔‘‘

دین اسلام میں قربانی کی اہمیت کیا ہے؟
جواب: امام اعظم نعمان بن ثابت المعروف امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ قربانی واجب ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں ’’وانحر‘‘ یعنی قربانی کیجئے! صیغہ امر کے ساتھ ہے۔ نیز ارشاد نبوی ہے: ’’جسے گنجائش ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔‘‘ اور حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا، اور قربانی کرتے رہے۔

کیا کسی دوسرے کی طرف سے بھی قربانی کی جاسکتی ہے؟
جواب: صحیح مسلم، سنن ابو داؤد، اور مسند امام احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک مینڈھا کی قربانی کی اور عرض کیا
ترجمہ: ’’اے اﷲ! میری طرف سے میری آل کی طرف سے اور میری امت کی طرف سے قبول فرما ۔‘‘ یہ حدیث پاک ’’سنن ابو داؤد‘‘ کتاب الضحایا، باب ما یستحب من الضحایا، حدیث نمبر 2410۔ اور ’’مسند امام احمد‘‘ باقی مسند الانصار، حدیث السیدۃ عائشہ، حدیث نمبر 23351 میں موجود ہے۔
جبکہ صحیح ترمذی و صحیح ابو داؤد میں حضرت حنش رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت علی المرتضٰی رضی اﷲ عنہ نے عید الاضحی کے روز دو بکرے ذبح فرمائے، اور سوال پر فرمایا: ’’مجھے رسول اﷲﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں۔ لہذا میں حضورﷺکی طرف سے قربانی کر رہا ہوں۔‘‘ یہ حدیث مبارک ’’سنن ابو داؤد‘‘ کی کتاب الضحایا، باب الاضحیۃ من المیت، میں ہے جس کا نمبر 2408 ہے۔

قربانی کس پر واجب ہے؟
جواب: جس مرد یا عورت میں یہ شرائط پائی جائیں اس پر قربانی واجب ہے: مسلمان ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مقیم ہو، یعنی 57 میل اور 4فرلانگ (تقریبا 92کلومیٹر) مسافت کے سفر میں نہ ہو یا ہو اور وہاں قیام پندرہ روز سے زیادہ ہو، حاجت اصلیہ (یعنی ضرورت کی چیزیں مثلاً مکان، لباس، استعمال کے برتن، سواری، اوزار وغیرہ) کے علاوہ ساڑھے 52تولے چاندی کی قیمت کی نقدی یا سامان تجارت یا کسی اور نصاب کا مالک ہونا۔

قربانی کیوں واجب کی گئی؟
جواب: قربانی کو واجب کرنے کی اہم حکمت یہ ہے کہ جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کی مثالی سیرت طیبہ جو کہ ایثار وقربانی اور احکامات خدواندی کی تعمیل سے عبارت ہے، اس کی یاد تازہ کرکے آپ کی اتباع کا جذبہ بیدار کیا جائے۔

قربانی کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟
جواب: بہتر یہ ہے کہ جانور خود ذبح کیا جائے بصورت دیگر کسی صحیح العقیدہ مسلمان کو اپنی طرف سے ذبح کرنے کیلئے کہا جائے۔ اور بوقت ذبح خود موجود رہنا بہتر ہے۔ ذبح کرنے والے کیلئے تکبیر ذبح ’’ بسم اﷲ، اﷲ اکبر‘‘ کہنا لازم ہے اور یہ کلمات کہنا مسنون ہے:
’’اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن․ اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعالَمِیْن․ لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن․ اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ، بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرْ․

قربانی سے متعلقہ اہم مسائل 

مسئلہ: اونٹ کیلئے پانچ سال، گائے بھینس کے لیے دو سال، بکری کیلئے ایک سال کا ہونا ضروری ہے۔ اگر چاند کے حساب سے عمر ایک دن بھی کم ہو تو قربانی جائز نہیں ہوگی۔ بھیڑ بھی ایک سال کی ہونی چاہئے، لیکن اس میں یہ تخفیف فرما دی گئی کہ چھ ماہ سے زیادہ عمر کی بھیڑ (بشرطیکہ اتنی صحتمند ہو کہ دیکھنے میں ایک سال کی محسوس ہوتی ہو، اس ) کی قربانی جائز ہے۔
مسئلہ : اندھے، کانے، لنگڑے، نہایت لاغر، ایک تہائی سے زیادہ کان یا دم کٹے، جس کا سینگ جڑ سے مع گودے کے ٹوٹ گیا ہو، جو جانور گندگی کھاتا ہو اور اسکے جسم سے بدبو آتی ہو، جس کے زیادہ دانت نہ ہوں اور ناک کٹے کی قربانی جائز نہیں۔
مسئلہ :گائے، بھینس اور اونٹ میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ چاہے سب قربانی کرنے والے ہوں اور چاہے بعض قربانی کرنے والے اور بعض عقیقہ کرنے والے۔ لیکن کسی ایسے شخص کو شامل نہ کیا جائے جو بدعقیدہ ہو، یا محض گوشت کیلئے حصہ ڈال رہا ہو۔ ورنہ کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔
مسئلہ : جس پر قربانی واجب ہو، اسے پہلے اپنی واجب قربانی ادا کرنی چاہئے، پھر اگر مزید توفیق ہو تو نفلی قربانیاں کرے۔ حضور نبی اکرمﷺ ایک قربانی اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے کرتے تھے۔ اگر توفیق ہو تو اپنا واجب ادا کرنے کے بعد آقائے نعمت حضور نبی اکرمﷺ اور اپنے بزرگوں بالخصوص والدین کو ایصال ثواب کیلئے قربانی کی جائے۔
مسئلہ : یہ جو مشہور ہے کہ گھرمیں ایک آدمی قربانی کر دے تو سب کاواجب ادا ہوجاتا ہے، غلط ہے۔ گھر میں جتنے مردوں یا عورتوں میں قربانی کے واجب ہونے کی شرطیں پائی جائیں، ان سب کو اپنی اپنی طرف سے علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے۔
مسئلہ : قربانی حج کی طرح عمر میں صرف ایک بار واجب نہیں ہے، بلکہ جس سال بھی شرائط پائی جائیں اس سال قربانی کرنا ضروری ہے۔

استغفار کے فوائد کیا ہیں؟
جواب: استغفار کے بے شمار فوائد ہیں، ان میں سے چار اہم فوائد واضح کرنے کیلئے نواسہ رسول، حضرت امام حسن کی ایک حدیث درج کررہا ہوں، ملاحظہ فرمائیں:
ایک بار حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں چار شخص حاضرہوئے۔ ایک نے قحط کی شکایت کی، دوسرے نے کہا کہ میں محتاجی سے تنگ ہوں، تیسرے نے کہا کہ میرے ہاں کوئی اولاد نہیں ہے اور چوتھے نے عرض کیا کہ میری زمین باغ نہیں اگاتی۔
چاروں کی فریاد سن کر امام حسن رضی اﷲ عنہ فرمایا کہ تم لوگ استغفار پڑھا کرو!
ربیع بن صبیح حاضر خدمت تھے، انہوں نے عرض کیا کہ اے رسول اﷲﷺ کے نواسے! لوگ مختلف قسم کی حاجتیں لے کر آئے ہیں اور آپ نے سب کو ایک ہی دعا تعلیم فرمائی۔ یہ کیا معاملہ ہے؟
حضرت امام نے فرمایا کہ قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ: ’’تم لوگ اپنے رب سے استغفارکرو! بے شک وہ بہت معاف فرمانے والا ہے۔ وہ تم پر زور دار بارش بھیجے گا اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لیے باغ اور نہریں تیار فرما دے گا۔‘‘
اے ربیع! دیکھ لو! اس آیت میں استغفار کے چاروں فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ بارش ہونا، مال ملنا، اولاد ہونا اور باغ اگنا۔ یہی چاروں کی حاجتیں تھیں، اس لیے میں نے ان چاروں کو استغفار کا ایک ہی عمل تعلیم کر دیا۔

سیف من سیوف اﷲ کون ہیں اور ان کی روایت کردہ مشہور حدیث کونسی ہے؟
جواب: رسول اﷲ ﷺ نے سیف من سیوف اﷲ کا لقب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عطا فرمایا تھا۔ آپ کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے
ایک شخص رسول اﷲﷺ کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اﷲﷺ میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں کہو!
عرض کیا: یارسول اﷲﷺ میں امیر بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: قناعت اختیار کرو، امیر ہوجاؤ گے۔
عرض کیا: میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: تقویٰ اختیار کرو، عالم بن جاؤ گے!
عرض کیا: عزت والا بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: مخلوق کے آگے ہاتھ پھیلانے بند کردو، باعزت ہوجاؤ گے!
عرض کیا: اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: لوگوں کو نفع پہنچاؤ! عرض کیا: عادل بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: جسے اپنے لئے اچھا سمجھو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو!
عرض کیا: طاقتور بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: اﷲ پر توکل کرو! عرض کیا: اﷲ کے دربار میں خاص درجہ چاہتا ہوں؟ فرمایا: کثرت سے ذکر کرو!
عرض کیا: رزق کی کشادگی چاہتا ہوں؟ فرمایا: ہمیشہ باوضو رہو۔ عرض کیا: دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں؟ فرمایا: حرام نہ کھاؤ!
عرض کیا: ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں؟ فرمایا: اخلاق اچھے کر لو!
عرض کیا: قیامت کے روز اﷲ سے گناہوں سے پاک ہوکر ملنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: جنابت کے فوراً بعد غسل کیا کرو۔
عرض کیا: گناہوں میں کمی چاہتا ہوں؟ فرمایا: کثرت سے استغفار کیا کرو۔
عرض کیا: قیامت کے روز نور میں اٹھنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: ظلم کرنا چھوڑ دو۔
عرض کیا: چاہتا ہوں اﷲ مجھ پر رحم کرے؟ فرمایا: اﷲ کے بندوں پر رحم کرو۔ عرض کیا: چاہتا ہوں اﷲ میری پردہ پوشی کرے؟ فرمایا: لوگوں کی پردہ پوشی کرو۔
عرض کیا: رسوائی سے بچنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: زنا سے بچو۔
عرض کیا: چاہتا ہوں اﷲ اور اس کے رسولﷺ کا محبوب بن جاؤں؟ فرمایا: جو اﷲ اور اس کے رسولﷺ کو محبوب ہو، اسے اپنا محبوب بنالو۔
عرض کیا: اﷲ کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: فرائض کا اہتمام کرو۔
عرض کیا: احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: اﷲ کی یوں بندگی کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو یا جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
عرض کیا: یارسول اﷲﷺ! کونسی چیز دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کردے گی؟ فرمایا: دنیا کی مصیبتوں پر صبر۔
عرض کیا: اﷲ کے غصے کو کیا چیز سرد کرتی ہے؟ فرمایا: چپکے چپکے صدقہ اور صلۂ رحمی۔
عرض کیا: سب سے بڑی بُرائی کیا ہے؟ فرمایا: بداخلاقی اور بخل! عرض کیا: سب سے بڑی اچھائی کیا ہے؟ فرمایا: اچھے اخلاق، تواضع اور صبر۔
عرض کیا: اﷲ کے غصہ سے بچنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دے!!!

میری اولاد، میری جائیداد میں سے اپنا میراث کا حصہ مانگتی ہے کیا میرے لیے ضروری ہے کہ میں اپنی زندگی میں اپنی جائیداد بطور میراث اپنے بچوں میں بانٹ دوں؟
جواب: شرعا میراث اس مال وجائیداد کو کہتے ہیں جسے مرنے والا اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ جائے لہذا زندہ آدمی کی میراث نہیں ہوتی۔ اور جب زندہ کی میراث ہوتی ہی نہیں تو بچوں کی طرف سے اس کا مطالبہ ہی سرے سے غلط ہے۔ ہاں والدین اگر اپنی رضا سے اپنی اولاد یا کسی کو اپنا مال یا جائیداد دینا چاہیں یا اس میں سے کچھ دینا چاہئیں تو وہ اپنی زندگی میں دے سکتے ہیں اور یہ میراث نہیں ہوگی۔ اور بعد از وفات اسے میراث میں شمار نہیں کیا جائیگا۔

قبر انور سے آزان سنائی دینے والی حدیث کا حوالہ اور تفصیل درکار ہے؟
جواب: مشکوٰۃ شریف، صفحہ 538 پر حدیث مبارکہ ہے
جن دنوں لشکر یزید نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی ان دنوں تین دن تک مسجد نبوی میں اذان نہ ہوسکی۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ نے یہ تین دن مسجد نبوی میں رہ کر گزارے، آپ فرماتے ہیں کہ نماز کے وقت ہوجانے کا مجھے کچھ پتہ نہیں چلتا تھا مگر اسطرح کہ جب نماز کا وقت آتا قبر انور سے ہلکی سی اذان کی آواز آنے لگتی۔

آج غیبت ہمارے معاشرے میں سرایت کرچکی ہے اس کے متعلق کچھ رہنمائی فرمائیں؟
جواب: اس سلسلہ میں حضرت حسن بصری رحمۃ اﷲ علیہ کا ایک واقعہ بیان کئے دیتا ہوں امید کہ عقلمنداں را اشارا کافی است کے تحت یہ کفایت کرے گا۔
تذکرۃ الاولیاء، صفحہ نمبر 41پر درج ہے کہ ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمۃ اﷲ علیہ سے کہا کہ فلاں شخص نے آپ کی غیبت کی ہے۔ حضرت حسن بصری نے اسی وقت تازہ چھوہارے منگوائے اور ایک طباق میں رکھ کر انہیں اس شخص کے پاس بطور تحفہ بھیجا اور کہلا بھیجا کہ میں آپ کا بڑا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری غیبت کر کے اپنی نیکیوں کو میرے دفترِ اعمال میں منتقل کر دیا ہے۔ آپ کے اس احسان کا بدلہ میں چکا نہیں سکتا، تا ہم یہ حقیر سا تحفہ قبول فرمایئے۔
وہ شخص حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کے اس سلوک کو دیکھ کر بڑا شرمندہ ہوا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی چاہنے لگا۔

کیا قبر کے اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے قبر والے کو تکلیف ہوتی ہے؟
مجمع الزوائد‘‘ جلد 3 صفحہ 61 طبع بیروت میں ’’معجم کبیر طبرانی‘‘ کے حوالہ سے حدیث پاک ہے کہ
ترجمہ: ’’ رسول اﷲﷺ نے ایک شخص کو ایک قبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اے قبر پر چڑھنے والے قبر کے اوپر سے اتر جا تاکہ تو قبر والے کو ایذا نہ پہنچائے، جبکہ وہ تجھے ایذا نہیں دیتا۔‘‘

ایک قبر میں یکے بعد دیگرے مردے دفن کرتے جانا یا یوں کہہ لیں کے پرانی قبر میں نیا مردہ دفن کرنا کیا اسلامی لحاظ سے درست ہے؟
: ’’فتاوی تاتارخانیہ‘‘، ’’فتاوی امداد الفتاح ‘‘ اور ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں ہے:
ترجمہ: ’’جب میت قبر میں بالکل خاک ہو جائے جب بھی اسکی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا ممنوع ہے، کیونکہ حرمت اب بھی باقی ہے، اور اگر مزارات صالحین کے قرب کی برکت حاصل کرنے کی غرض سے انکی ہڈیاں ایک کنارے جمع کر دیں، اسکے بعد دوسرے کو دفن کریں تو اب بھی ممنوع ہے، جبکہ دفن کیلئے فارغ جگہ مل سکتی ہو۔‘‘

کوئی اچھے سے اقوال زریں بتادیں؟
ٍٍ ٭ سکون حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان سکون کے حصول کی تمنا چھوڑ کر دوسروں کو سکون پہنچانے کی کوشش کرے۔ سکون دینے والے کو ہی سکون ملتا ہے، کسی کا سکون برباد کرنے والا سکون سے محروم رہتا ہے۔
٭ بہتر انسان وہی ہے جو دوسروں کے غم میں شامل ہوکر اسے کم کرے اور دوسروں کی خوشی میں شریک ہوکر اس میں اضافہ کرے۔
٭ نیت بدل جائے تو نیک عمل نیک نہیں رہتا۔ انسان اندر سے منافق ہو تو اس کا کلمہ توحید، کلمہ توحید نہ ہوگا ہر چند کہ کلمہ توحید وہی ہے۔
٭ قرآن بیان کرنے والے اور سننے والے اگر متقی نہ ہوں تو قرآن فہمی سے وہ نتائج کبھی نہیں پیدا ہوں گے جو قرآن کا منشاء ہے۔
٭ خوشی کا تعاقب کرنے والا خوشی نہیں پا سکتا۔ یہ عطا ہے مالک کی جو اس کی یاد اور اس کی مقرر کی ہوئی تقدیر پر راضی رہنے سے ملتی ہے۔
٭ کارواں کو غبارِ راہ میں چھوڑ کر کسی نامعلوم منزل پر پہنچنے والا راہنما نہیں، دراصل راہزن ہے۔ رہبر وہی ہے جو قافلے کو شادبیِٔ منزل سے آشنا کرے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں