قربانی احادیث کے آئینے میں

حضرت امام احمد نے روایت کی ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل قربانی وہ ہے جو بہ اعتبار قیمت اعلیٰ ہو اور خوب فربہ ہو۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ اﷲ کے رسولﷺنے فرمایا:اﷲ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن انسان کے اعمال میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ خون بہانا ہے اور بے شک وہ جانور قیامت کے دن اپنی سینگ، بال اور کھر کے ساتھ آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اﷲ کی بارگاہ میں مقبول ہو جاتا ہے تو اسے دل کی بھلائی کے ساتھ کرو۔(مشکوٰۃ شریف)

جہنم کی آگ سے حجاب
حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی وہ جہنم کی آگ سے حجاب (روک) ہو جائے گی۔ (طبرانی)قربانی بظاہر ایک جانور کو خدائے تعالیٰ کے نام پر ذبح کر دینے کا نام ہے لیکن یاد رکھیں کہ قربانی کا مقصد محض جانوروں کو ذبح کردینا نہیں بلکہ در حقیقت قربانی کی روح یہ ہے کہ بندہ ایک خاص فداکارانہ جذبۂ اخلاص سے اپنے دل و دماغ کو منور کرکے اپنے اندر ایثار و فداکاری ، ایمان داری و نیکوکاری، تقویٰ و پر ہیز گاری ، کا کمال پیدا کرے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں بالکل واضح لفظوں میں قربانی کا مقصد بیان ہوا ،ترجمہ:ہر گز ہر گز خدا کے دربار میں نہ قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون البتہ تمہاری پرہیز گاری اور نیکو کاری ہے جو دربار خدا میں باریاب ہوجاتی ہے۔(پ۱۷، سورۂ حج آیت۳۶)یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیثِ پاک میں یہ فرمایا گیا کہ ’’خوش دلی کے ساتھ طلبِ ثواب کے لیے‘‘ لہٰذا پتہ چلا کہ قربانی اسی وقت ہمیں سود مند ہوگی جب ہم اسے خلوص نیت کے ساتھ کریں کیوں کہ ہر عمل کی طرح قربانی کے لیے بھی جذبۂ اخلاص شرط ہے۔

سب سے بہتر صدقہ
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں۔(طبرانی) ہم دین و دنیا کی ضروریات کے لیے اکثر اوقات کچھ نہ کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں اور من جانب اﷲ ہمیں اس پر اجرِ کثیر عطا کیا جاتا ہے لیکن اﷲ کے حکم کو مانتے ہوئے خلوص دل سے جو روپیہ قربانی کے جانور خریدنے کے لیے خرچ کیا جائے اﷲ کے رسولﷺ کے فرمان کے مطابق وہ روپیہ اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔

عید گاہ نہ آئے
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا: جس میں وُسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (ابن ماجہ)ہمارے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ساری کائنات کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اس کے باوجود سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام کا غضب تو دیکھو ارشاد فرماتے ہیں: استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ اﷲ اکبر!اب جو لوگ صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتے انہیں اس حدیث سے درس حاصل کرتے ہوئے اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہیے اور خلوص کے ساتھ اﷲ عزوجل کے لیے قربانی کرنی چاہیے۔

حضور نے قربانی کی
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بقرعید کے دن سینگ والے چتکبرے خصی کیے ہوئے دو مینڈھے ذبح فرمایا، جب آپ نے ان کو قبلہ رُو لٹا دیا تو فرمایا:ترجمہ:میں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا، دین حنیف پر چلتے ہوئے اور میں مشرکین میں سے نہیں، بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت اﷲ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا پالنہار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیااور میں اس کے سامنے گردن جھکانے والوں میں سے ہوں۔ اے اﷲ! یہ تیرے لیے اور تجھ ہی سے ہے، محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کی امت کی جانب سے۔ اﷲ کے نام کے ساتھ، اﷲ سب سے بڑا ہے) پھر ذبح فرمایا۔(مشکوٰۃ شریف) اپنے آقا و مولیٰ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لطف و کرم کو دیکھو کہ آپ نے خود اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی لہٰذا قربانی کرنے والے مسلمانوں سے اگر ہو سکے تو اپنے پیارے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام سے بھی قربانی کریں کہ یہ نہایت عظیم سعادت ہے۔بعض جگہوں پر دیکھا گیا کہ مالکِ نصاب نے اپنی طرف سے قربانی نہ کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی طرف سے کی، یہ درست نہیں بلکہ مالکِ نصاب پہلے اپنی طرف سے کرے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے دوسرے جانور کا انتظام کرے۔

حضرتِ علی کی قربانی
ترمذی میں حضرت اخنش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ دو مینڈھے کی قربانی کرتے ہیں، میں نے کہا یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حضور کی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔ اس حدیثِ پاک سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم اپنے مرحومین کے نام سے اگر قربانی کریں گے تو اﷲ عزوجل اس کا ثواب انہیں ضرور عطا فرمائے گا۔ لہٰذا ہم میں سے جو حضرات صاحبِ استطاعت ہیں انہیں چاہیے کہ اپنے مرحومین کے نام سے بھی قربانی کریں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں