عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عمرا بن الخطاب رضی اللہ عنہ دوسرے اور غالباََ عظیم ترین مسلم خلیفہ تھے۔ وہ حضرت محمدﷺ کے نوجوان ہم عصر تھے اور پیغمبر ہی کے شہر مکہ میں پیدا ہوے۔ان کا صحیح ترین سال پیدائش غیر معلوم ہے۔قیاس ہے کہ 586ء میں وہ پیدا ہوئے۔
عمررضی اللہ عنہ (حضرت) محمدﷺ اور ان کے نئے مذہب کادرشت ترین دشمن تھا۔تب وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور اس کامضبوط ترین حامی بن گیا۔سینٹ پاک کاعیسائیت کو اختیار کرلینے کا واقعہ بھی اسی نوع کاہے)۔وہ حضرت محمدﷺ کاقریبی مشیربن گیا اور ان کی حیات میں وہ اسی اعزاز کے ساتھ رہا۔
632ء میں پیغمبر کاوصال ہوا انہوں نے اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا۔عمررضی اللہ عنہ نے فوراََ ہی نبی ﷺ کے قریبی رفیق اور خسرابوبکررضی اللہ عنہ کے حق جانشینی پر صادکیا۔اس سے اقتدار کے لیے سردجنگ کاامکان ختم ہوگیا اور عمومی طور پر ابوبکررضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کااولین خلیفہ (نبیﷺ کا جانشین) تسلیم کرلیا گیا۔ابوبکررضی اللہ عنہ ایک کامیاب خلیفہ تھا لیکن وہ دو سال بعد ہی فوت ہوگیا۔اس نے عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہ کانام اپنی جانشینی کے لیے منتخب کردیا تھا(جو نبی ﷺ کا خسر بھی تھا)۔اس طور ایک بار پھر اقتدار کے لیے تنازعہ کاامکان مسترد ہوگیا۔634ء میں عمررضی اللہ عنہ خلیفہ بنا۔یہ حکومت 644ء تک قائم رہی۔تب ایک ایرانی غلام نے مدینہ میں اسے شہید کردیا۔اپنے بستر مرگ پر اس نے چھ افراد کی ایک مجلس بنانے کی تجویزدی جو اس کے جانشین کافیصلہ کرے گی۔یوں ایک بارپھر اقتدار کے حصول کے لیے مسلح چپقلش کا خاتمہ کردیا گیا۔مجلس نے عثمان رضی اللہ عنہ کانام بطور خلیفہ سوم منتخب کیا جو644ء سے 665ء تک برسر اقتدار رہا۔
عمررضی اللہ عنہ کی د س سالہ خلافت کے دوران عربوں نے انتہائی اہم فتوحات حاصل کیں۔عرب فوجیں شام اور فلسطین پر حملہ آور ہوئیں جوتب بازنطینی سلطنت کا ایک حصہ تھے۔636ء میں جنگ پر موک میں عربوں نے بازنطینی فوجوں کو شکست فاش دی۔اسی برس دمشق فتح ہوا‘دوسال بعد یوشلم بھی عرب قلمرو میں شامل ہوگیا۔644ء تک عربوں نے تمام فلسطین اور شام کو اپنا مطیع بنا لیا تھا اور ترکی کی طرف پیش قدمی کررہے تھے۔639ء میں عرب فوجوں نے مصر کو فتح کیا جوبازنطینی سلطنت کاایک اہم حصہ تھا۔تین برسوں کے اندر عربوں نے مصر کی فتح کو مکمل کیا۔
عراق پر جوتب ایرانیوں کی ساسانی سلطنت کاایک جزو تھا‘عربوں کے حملوں کا آغاز عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت سے پہلے ہوچکا تھا۔637ء میں عمررضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں عربوں کو سب سے اہم فتح جنگ قدسیہ میں حاصل ہوئی۔641ء تک تمام عراق عرب قلمرو کاحصہ بن چکاتھا۔یہی نہیں عربوں نے ایران پو یورش کی اور آخری ساسانی شہنشاہ کی فوجوں کو فیصلہ کن مات دی۔644ء میں عمر رضی اللہ عنہ کی وفات تک مغربی ایران کابیشتر حصہ عرب فتح کرچکے تھے۔تاہم عمر رضی اللہ عنہ کی وفات نے عرب فوجوں کی فتوحات کی رفتار پر کوئی اثر نہ ڈالا۔مشرق میں انہوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں ایران کی فتح مکمل کی۔جبکہ مغرب میں وہ شمالی افریقہ تک آگے بڑھے۔
جس قدر عمررضی اللہ عنہ کی فتوحات اہم ہیں اسی قدر ان کی برقراری بھی۔ایرانی کی آبادی کو بیشتر حصہ اگرچہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا لیکن علی الاخراس نے عرب غلامی سے آزادی حاصل کی۔تاہم شام عراق اور مصر ایسا نہیں کرسکے۔ وہ یکسر عرب تہذیب میں ڈھل گئے اور ہنوزیہی صورت حال قائم ہے۔
بلاشبہ عمررضی اللہ عنہ کو اس عظیم سلطنت کاانتظام سنبھالنے کے لیے جو اس کی فوجوں نے فتح کی تھی خاص حکمت عملیاں وضع کرنا پڑی تھیں۔اس نے فیصلہ کیاکہ ان مفتوحہ علاقوں میں عرب خاص عسکری رعایات کے ساتھ رہیں ہیں اور یہ کہ ان کاقیام مقامی لوگوں سے علیحدہ فوجی شہروں میں ہوگا۔جبکہ مفتوحہ لوگ مسلمانوں کو (جوبیشترعرب ہی تھے) جزیہ ادا کریں گے اور انہیں پر امن حالات میں رہنے دیا جائے گا۔خاص طو رپر انہیں قطعاََ جبراّ مسلمان کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔(ان اقدامات سے یہ امرمترشح ہے کہ عرب فتوحات مقدس جنگ کی بجائے ایک قومیت پر ستانہ جذبے کے تحت لڑی گئی جنگوں کا نتیجہ تھیں۔ہر چند کہ اس سارے عمل میں مذہبی عنصر کو نظرا نداز نہیں کیا جاسکتا۔
عمر رضی اللہ عنہ کی کامیابیاں موثر ثابت ہوئیں۔(حضرت )محمدﷺ کے بعد فروغ اسلام میں عمر رضی اللہ عنہ کا نام نہایت اہم ہے۔ان سریع الرفتار فتوحات کے بغیر شاید آج اسلام کاپھیلاؤ اس قدر ممکن نہ ہوتا۔مزید برآں اس کے دور مین مفتوح ہونے والے علاقوں میں سے بیشتر عرب تمدن ہی کاحصہ بن گئے۔ظاہر ہے کہ ان تمام کامیابیوں کااصل محرک تو(حضرت) محمدﷺ ہی تھے۔لیکن اس میں عمر کے حصے سے صرف نظر کرنا بھی ایک بڑی غلطی ہوگی۔اس کی فتوحات (حضرت)محمدﷺ کی تحریک ہی کانتیجہ نہیں تھیں۔اس سے بلاشبہ کچھ پھیلاؤ عمل میں آتا لیکن اس عظیم وسعت عمرکی شاندار قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
اس امر میں کچھ لوگوں کو ضرور تعجب ہوگا کہ مغرب میں عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی شخصیت اس طور معروف نہیں ہے۔تاہم یہاں اس فہرست میں اسے چارلی میگنی اور جولیس سیزر جیسی مشہور شخصیات سے بلند درجہ تفویض کیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام فتوحات جو عمررضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں واقع ہوئیں‘اپنے حجم اور پائیداری میں ان فتوحات کی نسبت کہیں اہم تھیں جوسیزر یاچارلی میگنی کی زیر قیادت ہوئیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں