چشمہ یثرب مدینہ منورہ کیسے بنا

تبع مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ شریف کی زیادرت کرنے کے بعد اور اسے غلاف بنانے کے بعد اپنے لشکرجرارسمیت یثرب کی طرف روانہ ہوا۔اس وقت یثرب ایک پانی کے چشمے کانام تھا۔جہاں کھیتی باڑی کاکوئی نام ونشان نہ تھا۔تبع کے ہمراہ لشکر کے علاوہ صاحب کمال علماء حکماء کابھی ایک جم غضیرتھا جواس نے مختلف علاقوں سے چن چن کراکٹھے کئے تھے۔یثرب پہنچ کراس نے وہاں قیام کیا۔ایک روز چار سوعلماء بادشاہ کے دروازہ پرآکھڑے ہوئے اور گزارش کی ہم اپنے شہروں کو چھوڑ کرایک طویل عرصہ تک جہاں پناہ کے ساتھ سفر کرتے رہے ہیں۔اب جانتے ہیں کہ یہاں سکونت اختیارکریں،یہاں تک کہ موت آجائے۔بادشاہ نے وزیرکوبلاکرکہاکہ ان کے حالات میں غورکرے اور وہ وجہ معلوم کرے جسکے باعث ان لوگوں نے میرے ساتھ چلنے کاعزم ترک کردیاہے حالانکہ مجھے ان کی سخت ضرورت ہے۔ وزیرنے ان سب کوجمع کیااور ان سے پوچھا۔ انہوں نے وزیرسے کہا:تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ کعبہ کی عزت اور اس شہرکاشرف اس ہستی کی وجہ سے ہے جویہاں ظہور پذیر ہوگی، اُن کانام نامی”محمد“ہوگا، وہ حق کے امام ہوں گے وہ صاحب قرآن،صاحب قبلہ اور صاحب لواء منبرہوں گے۔وہ اعلان کریں گے لاالہ الااللہ ان کی پیدائش مکہ میں ہوگی۔ان کی ہجرت گاہ یہ شہر بنے گا۔پس خوشخبری ہے،اسکے لئے جوان کوپالے گااوران پر ایمان لے آئے گا۔ہماری یہ آروز ہے کہ ہم ان کی زیارت سے مشرف ہوں یا ہماری آنے والی نسلوں میں سے ہمارا کوئی بچہ اُن کے مانے کوپالے اورایمان لے آئے۔وزیرنے جب یہ بات سنی تواسکے دل میں بھی یہاں رہائش پذیر ہونے کا شوق پیداہوا جب بادشاہ نے کوچ کرنے کاارادہ کیاتوان سب نے یک زبان ہوکرکہاکہ ہم یہاں سے ہرگز نہیں جائیں گے۔ہم نے اسکی وجہ وزیر کوتفصیل سے بتادی ہے۔بادشاہ نے وزیرکوبلاکردریافت کیااس نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بادشاہ سوچ میں پڑگیا اُس نے فیصلہ کیاکہ وہ ایک سال حضورﷺ کی آمدکی انتظار میں یہاں ٹھہرے گا۔بادشاہ نے حکم دیاکہ ان کانکاح ایک ایک عالم سے کردیا،انہیں زرکثیر بخشا تاکہ وہ یہاں کے اخراجات آسانی سے برداشت کرسکیں۔ ایک خط لکھا جسے سونے کے ساتھ سربمہرکردیااوراُن علماء میں سے جوسب سے بڑاعالم تھا کے سپردکیااور اس سے التماس کی کہ اُس کوحضورکی زیارت نصیب ہوتویہ عریضہ وہ خودحضور کی بارگاہ میں پیش کرے ورنہ اپنی اولاد رداولادکووصیت کرتاجائے کہ جس کووہ عہد سعیددیکھنا نصیب ہواور رحمت عالم کی زیارت کاشرف میسر آئے تووہ اُسکا عریضہ بارگاہ رسالت میں پیش کرے۔
تیع کی وفات کے بعد پورے ایک ہزارسال گزرگئے توحضورکی ولادت باسعادت ہوئی۔ حضور ﷺنے جب مکہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کی اوراہل یثرب چلاتوانہوں نے مشورہ کیاکہ اس خط کو حضور ﷺ کی خدمت میں کیسے پہنچایاجائے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف جومکہ سے ہجرت کرکے یثرب پہنچ گئے تھے‘ انہوں نے مشورہ دیاکہ وہ ایک قابل اعتبار شخص کاانتخاب کریں اور یہ خط دیکر حضورکی خدمت اقدس میں روانہ کریں۔چنانچہ انہوں نے ایک زیرک آدمی جس کانام ابولیلیٰ تھااور انصار کے قبلہ میں سے تھا‘ اُسے یہ خط دیکر بھیجا‘اُسے پرزورتاکید کی کہ اس خط کوبڑی حفاظت سے رکھنے اور حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کرے۔
وہ روانہ ہوگیا جب اثنائے سفر حضورﷺ قبیلہ سلیم کے ایک شخص کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں پہنچاتو رسول اللہﷺ نے اُس کودیکھتے ہی پہچان لیا۔فرمایاتم ابولیلیٰ ہو۔اُس نے عرض کی ہاں! پھر حضورﷺنے پوچھاتیع اول شاہ یمن کاخط تمہارے پاس ہے۔وہ یہ سن کرششدرہوگیااور سراپا حیرت بن کرپوچھنے لگا:آپ کون ہیں‘آپﷺ جادوگر تو نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا:نہیں میں محمد ہوں۔ﷺ وہ خط پیش کرو۔اُس سے اپناسامان کھولا جس میں اُس نے وہ خط چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ اُس کوحضور کی خدمت میں پیش کیا‘حضرت ابوبکر نے یہ خط پڑھ کرسنایا‘حضورﷺ نے اُس کاخط سن کرتین بارفرمایا کہ میں اپنے نیک بھائی کومرحبا کہتاہوں۔
پھر حضورﷺ نے ابولیلیٰ کاحکم دیاکہ وہ واپس یثرب چلاجائے اور وہاں کے لوگوں کوحضور کی آمد کے بارے میں آگاہ کرے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں