آداب جمعہ

اپنی گذشتہ تحریر میں قرآن و سنت کی رو سے نماز جمعہ کی اہمیت کو واضح کرنے کی اپنی سی کوشش کی تھی-اس تحریر میں سنت کے مطابق نماز جمعہ کے آداب قلم بند کر رہا ہوں۔

احادیث میں جمعہ کے روز غسل کرنے پر بہت ذیادہ زور دیا گیا ہے۔۔

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا؛

جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اسنے ایک اونٹ کی قربانی دی اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اسنے ایک سینگھ والے مینڈھے کی قربانی دی اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اسنے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو پانچویں نمبر پر گیا اسنے گویا ایک انڈہ الله کی راہ میں دیا لیکن جب امام خطبہ کیلئے باہر آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں”(-صحیح بخاری

اس حدیث سے غسل اور مسجد میں جلدی جانے کی اہمیت واضح ہے۔

ثواب کے گویا پانچ درجے بیان کئے گئے ہیں اور پہلے اوقات میں جانے کا اجروثواب زیادہ ہے- لہٰذا غسل کرنا اور مسجد میں اول وقت میں جانا آداب جمعہ کے انتہائی اہم عنصر ہیں۔

بخاری شریف کی ایک اور روایت ہے جو حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ سے مروی ہے- فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا؛   “جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے اور پھر نماز جمعہ کیلئے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیاں نہ گھسے،پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموشی سے سنتا رہے تو جمعہ سے لیکر دوسرے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”

لہٰذا غسل کرنا،بالوں میں تیل لگانا،خوشبو لگانا اور مسجد کی طرف اول وقت میں نکلنا،اور مسجد میں جہاں

جگہ ملے بیٹھ جانا نہ کہ لوگوں کے اوپر سے پھلانگتا ہوا جانااور خاموشی سے خطبہ سننا حتٰی کہ اگر دو

شخص باتیں کر رہے ہوں تو انہیں بھی زبان سے منع نہ کرے اور اگر اس شخص کے ان امور کے پیچھے کوئی دکھاوا نہیں اور اسکا مقصد صرف اور صرف سنت نبویﷺ کی پیروی ہے تو اولً اس شخص کے گناہ الله بخش دے گا اور ثانیاً اس کیلئے اجر و ثواب ہے۔۔

جمعہ کی فضیلت کے باعث اسے ہفتہ وار عید کہا جاتا ہے ہمیں نماز جمعہ کو اتنی ہی اہمیت دینی چاہیئے جتنی کہ اسکی فضیلت ہے۔نماز جمعہ کا اہتمام سنت کے عین مطابق ہونا چاہیئے۔

یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ ہمارا چٹھی کا دن جمعہ ہونا چاہیئے نہ کہ اتوار کیونکہ ہفتہ اور اتوار یہود و نصاریٰ کے دن ہیں اور جب سے یہ دونوں قومیں یکجا ہوئی ہیں انہوں نے ان دونوں دنوں کو ملا کر اپنا ویک اینڈ بنا لیا ہے اور ہم نے بھی مغرب کی اندھی تقلید میں جمعہ کی تعطیل ختم کر کے اتوار کر لی کیونکہ ھم مغرب سے سحر زدہ قوم ہیں اور انکی پیروی ہم نے خود پر واجب کر لی ہے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں