اسلامی لباس

اسلام ایک مکمل دین ہے، یعنی زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق اس دین نے تمام ہدایات جاری کی ہیں۔ تاہم دین کی ان ہدایات کی تعبیر کیا صورت اختیار کی گیٗ ہے اس پر آج لوگوں میں اختلاف ہے۔ کسی ایک مکتبہ فکر کے ہاں ایک معاملے میں ایک تعبیر اختیار کی گیٗ ہے تو دوسرے کے ہاں اسکے بالکل برعکس

اس کی اہم ترین وجہ کسی حکم کے پیچھے چھپی اصولی ہدایت و حکمت دین کے مجموعی مزاج کو نظر انداز کردینا ہے۔ تمام متعلقہ مواد کا مطالعہ کیے بغیر سیاق  کو چھوڑ کر اگر مخصوص آیات و احادیث کا مطالعہ کیا جاےٗ تو اسکا نتیجہ تفرقہ بازی ہے  جس کے چنگل سے اس وقت امت کا عام فرد بمشکل محفوظ رہ سکتا ہے۔

لبا س کے معاملے میں  بعض مکاتب فکر کے لوگ دین داری کے لیے مخصوص لباس پرز ور دیتے ہیں تو دوسرے اسے ضروری نہیں سمجھتے۔ پھر یہی نہیں بلکہ لوگ جو دین کے معاملے میں خاص لباس کے قایٗل ہیں  ان کے مابین بھی لباس کے معاملے میں شدید اختلاف پاےٗ جاتے ہیں۔ بلکہ ہر گروہ اپنے نقطہٗ نظر کے استدلال میں روایات واحادیث پیش کرتا ہے۔
ایک عام پڑھا لکھا شخص جب دینی حلقوں مین جاتا ہے تو وہاں سب سے پہلے اسے جس مطابے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ لباس کی ایک مخصوص وضع ہے۔ اور اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ انکے ہاں جو لباس ہے وہی دراصل دین کے مطابق ہے اور دوسرے کے ہاں اسکے بالکل برعکس ہے۔

ایسی صورتحال میں دین سے لگاوٗ رکھنے والا شخص کیا لایٗحہ عمل اختیار کرے؟ دین اس ساری صورتحال میں کیا بنیادی احکامات جاری کرتا ہے  اور فرد سے اس سلسلے میں کیا مطالبہ کرتا ہے۔ ذیل میں ہم اس کا جایٗزہ لیں گے۔ تاہم چند ضروری باتیں اگر پہلے سمجھ لی جایٗیں تو بہتر ہوگا۔

ایک یہ کہ دین اس دنیا میں اللہ تعالی کی اس ہدایت کا نام ہے  جو تمام بنی نوع انسان کے لیے ابدی ہے اور بالکل متعین ہے۔

دوسرے یہ کہ ہدایت اللہ تعالہ نے انسان کی فطرت کے عین مطابق عطا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان کو اس کی ہدایت کی یاد دہانی کہ جاتی ہے تو وہ اسکے لیے اجنبی نہیں ہوتی۔ اور اسی وجہ سے اسلام کو دین فطرت کہا جاتا ہے۔

تیسرے یہ کہ اس ہدایت کو جب انسان نے بھلا دیا تو یاددہانی کے لیے اللہ تعالی نے انسانوں میں افضل ترین لوگوں کو منتخب کیا  اور ان کے ذریعے باقی لوگوں کو یاددلاییٗ۔ یہ لوگ پیغمبر کہلاےٗ اور انکی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ اس سلسلہ کے آخری پیغمبرحضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ پر ہدایت  مکمل ہوییٗ۔ اور آپﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ نے دین کو اگلی نسلوں تک پورے اخلاص سے پہنچایا۔۔

چوتھے یہ کہ انسان کو عقل و دانش جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے  اور اس عقل سے وہ اس ہدایت کو سمجھتا ہے اور سمجھ کو عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

پانچویں یہ کہ حضرت آدمؑ کی اولاد باذوق ہے  یعنی حس لطیف رکھتی ہے۔

چھٹے یہ کہ حضرت محمد ﷺ ہی وہ ذات گرامی ہیں  جو اب ہمارے لیے اتمام حجت ہیں یعنی جس چیز کو حضرت محمد ﷺ نے دین قرار دیا  وہی دین ہے  اسکے علاوہ کوییٗ بھی عمل چاہے وہ کتنا ہی دلفریب اور اچھا ہو دین قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ساتویں یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دین اس امت کو دو صورتوں میں دیا ہے۔ قرآن(قول) اور سنت (عمل)۔ دین کا کوییٗ حکم اخذ کرنے کے لیے انہی دو ذرایٗع کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔

آٹھویں یہ کہ دین کی ہدایت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس موضوع سے متعلق تما م ضروری مواد اکٹھا کیا جاےٗ اور اس کے سیاق کو مدنظر رکھ کر اس حکم اخذ کیا جاےٗ۔
آیٗیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں لباس کی کیا اہمیت ہے اور دین ہم سے کس قسم کے لباس کا مطالبہ کرتا ہے۔

قرآن اور لباس

قرآن مجید میں سورہ الاعراف کی آیت نمبر ۲۶ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔
اے اولاد آدم! ہم نے  تمہارے لیے لباس پیدا کیا جوکہ تمہاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور زینت  (خوبصورتی) کا باعث ہے۔ اور تقویٰ کا لباس اس سے بڑھ کر ہے
اسی سورہ کی آیت نمبر ۱۳ میں ارشاد ربانی ہے۔

اے اولاد آدم!تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت زینت اختیار کرو
آیت نمبر ۲۳ میں فرمایا۔
(اے نبیﷺ) آپ فرما دیجیےٗ کون ہے جو اللہ کی زینتوں کو حرام قرار دیتا ہے جوکہ اس نے اپنے بندوں کے واسطے پیدا کی ہیں۔
آیت نمبر ۳۳ میں فرمایا کہ۔
(اے نبیﷺ)آپ فرما دیجیے کہ بے شک میرے رب نے صرف (وہ چیزیں) حرام کی ہیں جوفحش ہیں  اعلانیہ اور پوشیدہ۔ اور ہر گناہ کی بات اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو یہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراوٗ اس چیز کو جس کی اللہ نے کوییٗ سند نازل نہیں کی اور اس بات کو تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاوٗ جس کو تم نہیں جانتے
حدیث اور لباس
پسندیدہ لباس۔
لباس کے معاملے میں حضورﷺ کا اسوہ حسنہ ہمیں احادیث کے ذخیرہ سے ملتا ہے۔ اس سلسلے کی روایات مندرجہ ذیل ہیں۔
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ جس لباس کو پہننا زیادہ محبوب جانتے تھے وہ دھاری دار کپڑا کا تھا۔(بخاری،مسلم مشکوت،۴۰۳۴)
حضرت سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا سفید کپڑا پہنو!اس لیے کہ سفید کپڑا پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے  اور اسی میں مردوں کو کفنا یا کرو(احمد،ترمذی،نساییٗ، ابن ماجہ) مشکوت ۷۳۳۴
حضرت عمر بن شعیب ؓ اپنے والد سے،وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولاللہ نے فرمایا!بلاشبہ اللہ تعالی پسند کرتا ہے کہ اسکی نعمتوں کے آثار اسکے بندے پر نظر آیٗیں۔(ترمذی،مشکوت۔۰۵۳۴)
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ ہمارے پاس ملاقات کے لیے تشریف لاےٗ۔آپﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو پراگندہ حال تھا۔اسکے بال بکھرے ہوےٗ تھے۔آپﷺ نے فرمایا۔کیا یہ شخص ایسا انتظام نہیں کرسکتا کہ اپنے سر کے بال  درست کرسکے؟ اور ایک دوسرا شخص دیکھا  جس کے کپڑے میلے کچلیے تھے۔آپﷺ نے فرمایا۔ کیا یہ شخص اپنے لباس کو صاف کرنے کا اہتمام نہیں کرسکتا۔
(احمد، نساییٗ) مشکوت ۱۵۳۴
حضرت ابوالاخوص ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا! میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا،میرا لباس گھٹیا تھا۔ آپﷺ نے پوچھا کیا تم مالدار ہو؟میں نے ہاں میں جواب دیا۔ فرمایا۔کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کی! اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ، گاےٗ،بکری،گھوڑے اور غلام ہرطرح کے مال سے نوازا ہے۔آپﷺ نے فرمایا!تواللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کے اثرات تجھ پر دکھاییٗ دینے چاہیں۔(احمد، نساییٗ)مشکوت۔۲۵۳۴

ناپسندیدہ لباس

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے چادر دوزخ میں ہے۔(بخاری مشکوت۔۴۱۳۴)
حضرت ابوہریرہ ؓ  بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا!قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی جانب نہیں دیکھے گاجو تکبر کے ساتھ چادر لٹکا کر چلتا ہے۔(بخاری، مسلم)مشکوت۔ ۱۱۳۴
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا!جوشخص تکبر کے ساتھ چادر کھینچ کر چلا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی جانب نہیں دیکھے گا۔(بخاری) مشکوت۔۲۱۳۴

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا! جو شخص تکبر کے ساتھ اپنی چادر نیچے لٹکاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی جانب نہیں دیکھے گا۔حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی۔اے اللہ کے رسول میرا تہبند کبھی لٹک جاتا ہے۔آپﷺ نے فرمایا تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر سے ایسا کرتے ہیں (بخاری) مشکوت۔۹۶۳۴
حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس سے گزرا میرا تہبند نیچے گر رہا تھا۔آپﷺ نے فرمایا۔اے عبداللہ! تہبند اونچا  کر۔ چنانچہ میں نے اونچاکیا۔فرمایا اور اونچاکر۔ میں نے مزید اونچا کرلیا۔اس کے بعد میں ہمیشہ محتاط رہا۔کچھ لوگوں نے پوچھا آپﷺ نے کہاں تک اونچا کرایا؟ آپؓ نے جواب دیا۔ نصف پنڈلی تک    (مسلم)مشکوت۔۸۶۳۴

حضرت ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں کہ سورج گرہن ہوا تو ہم نبیﷺ کے ساتھ تھے۔آپ جلدی میں کپڑا گھسیٹے مسجد میں تشریف لاےٗ۔لو جمع ہو گےٗ۔آپﷺ نے دورکعت نماز پڑھاییٗ۔گرہن ختم ہوگیا۔ تب آپﷺ ہماری طرف متوجہ ہوےٗ اور فرمایا! سونرج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔ اس لیے جب تم ان میں سے وؤکوییٗ نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ وہ ختم ہوجاےٗ(بخاری) مشکوۃ۔۵۸۷۵

ضروری لباس

حضرت عایٗشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم اپنے گھر میں بیٹھے ہوےٗ تھے۔ دوپہر کی شدید گرمی تھی۔ ابوبکرؓ کو خبرملی کہ اللہ کے رسولﷺ تشریف لاےٗ ہیں۔ آپﷺ نے اپنا سر مبارک ڈھانپ رکھا تھا۔(بخاری) مشکوۃ۔۹۰۳۴
حضرت جابرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوییٗ شخصاپنے بایٗیں ہاتھ کے ساتھ نہ کھاےٗ یا ایک جوتا پہن کرنہ چلے اور اس طرح چادر نہ لپیٹے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں۔ یا ایک کپڑے کو اس طرح استعمال نہ کرے کہ اسکی شرم گاہ نظر آےٗ۔(مسلم) مشکوۃ۔۵۱۳۴
حضرت عمر بن ابی سلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسو  ل اللہﷺ کو ام سلمہؓ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوےٗ دیکھا۔ آپﷺ نے اس کو لپیٹ رکھا تھا اور اس کے دونوں پلووٗں کو اپنے دونوں کندھوں پر ڈالا ہوا تھا۔(بخاری۔مسلم) مشکوۃ۔۴۵۷
حضرت محمد بن منکدرؓ سے روایت ہے کہ جابرؓ نے چادر میں نما ز ادا کی  جس کو گردن کی جانب سے باندھا ہواتھا۔ جب کہ کھونٹی پر کپڑے لٹک رہے تھے۔ کسی نے دریافت کیا! آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا! میں نے اس لیے نماز ادا کی ہے تاکہ تیرے جیسا احمق دیکھ لے کہ عہد رسالت میں ہم میں سے کون تھا جس کے دو کپڑے تھے۔(بخاری) مشکوۃ۔ ۰۷۷
حضرت ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ ا ک کپڑے میں نماز ادا کرنا سنت ہے۔ ہم بنیﷺ کی معیت میں ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے تھے اور ہم پر عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔ دو کپڑوں میں نماز اداکرنا سنت ہے۔(احمد)مشکوۃ۔۴۵۷

ان سب سے جو نکات سامنے آتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
۔ یہ کہ دین کو اصلاجس چیز پر اعتراض ہے وہ رذایٗل اخلاق اور فحاشی ہیں۔
۔ یہ کہ دین کو اصلا جومطلوب ہے وہ ستر پوشی ہے  اور باوقار لباس کا انتخاب ہے۔

یعنی فرد معاشرے کے مطابق بہتر سے بہتر کا  انتخاب کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں شلوار قمیض کا رواج ہے یا دیگر معاشروں میں جہاں پینٹ  شرٹ اور کوٹ  وغیرہ کو باوقار لباس سمجھا جا تا ہے  تو وہ اپنی ستطاعت کے مطابق اسے اختیار کرسکتا ہے۔
تاہم لباس کے انتخاب میں اس با ت کو ملحوظ خاطر رکھا جاےٗ کہ وہ ستر کو ڈھانپ دے اور ایسا نہ ہوکہ تضحیک کا باعث بن جاےٗ۔ یہی وجہ ہے کہ ایٗمہ مجتہدین نے بھی نماز کے لیے جس لباس کو ضروری سمجھا  وہ مردوزن کے ستر کے حوالے سے ہی ہے۔
فقہ حنفی کی کتا ہداتہ میں باب الستر میں درج ہے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے۔ ناف شامل نہیں ہے بلکہ گھٹنے شامل ہیں۔ اور عورت کا ستر اس کا سارا جسم ہے سواےٗ چہرے اور ہتھیلیوں کے
جولوگ دوران نماز ایک خاص وضع کا لباس پہننے کا حکم دیتے ہیں وہ بھی درج بالا آیات اور احادیث کی روشنی میں غیر ضروری ہے۔ یعنی دوران نماز سر ڈھانپنا، ٹخنوں سے اونچی شلوار رکھنا۔
۔ دین انسانی معاشرت کو اور فطرت کو کسی خاص لباس کا پابند نہیں کرتا۔
روایات سے صاف ظاہے ہے کہ نبیﷺ نے ایک ہی کپڑے میں اکثرو بیشتر نماز ادا کی۔ کسی ایک بھی روا یت میں سر ڈھانپنے کا حکم نماز کے حوالے سے نہیں ہے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ بعض اوقات ننگے سر بھی نماز پڑھا کرتے تھے۔(ابن عساکر) سکے باوجود حنفیہ کے نزدیک سستی کی بنیاد پر ننگے سر نماز پڑھنا ٹھیک نہیں۔ لیکن اگر یہ خشوع و خضوع کے لیے ہوتو جایٗز ہے۔ اس میں کوییٗ براییٗ نہیں۔(الفقہ علی المذاہب الاربعہ ا ص ۴۳۲)۔ اس بات کا  صیح مطلب تو کسی حنفی عالم ست پوچھنا چاہیے لیکن اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ دین میں نہ تو سر ڈھانپنے کا کوییٗ  حکم ہے  نہ ہی ننگے سر نماز پڑھنے میں کوییٗ برایٗ بتایٗ گیٗ ہے۔
یہی صورتحال ٹخنوں سے نیچے شلوار کرتے کے بارے میں ہے۔ نبی ﷺ نے واضح طور پر فرمادیاکہ غرورو تکبر کی وجہ سے اگر کپڑا نیچے ہوگا تو اللہ کی ناراضی کا باعث ہوگا(بخاری۔۵۸۷۵) میں گرہن والی روایت میں رسول اللہﷺ کا عمل بھی واضح ہے۔

اسی طرح لباس کے معاملے میں یہ کہ ان سلا ہو یا اس میں کالر لگا ہو تو اس کا استعمال درست نہیں ہے۔یہ بھی ایک غیر حقیقی رکاوٹ ہے۔ ہر معاشرے کی اپنی ثقافت ہوتی ہے۔اور آج کے دور میں اختلاط ثقافت رونما ہوچکا ہے۔ مختلف لوگوں کے ہاں جو لباس رایٗج ہیں اپنی خوبصورتی اور  کشش کی وجہ سے مقبول ہورہے ہیں۔اس طرح کے کسی بھی لباس کو ناموزوں اور غیر اسلامی نہیں کہا جاسکتا۔ جب تک کہ ان میں برہنگی اور فواحش کا عنصر موجود نہیں۔

تاہم کوییٗ بھی شخص خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم، حضرت محمدﷺ کی محبت اور ان سے لگاوٗ کی وجہ سے اگر آپﷺ کے زمانے میں استعمال میں آنے والے لباس کی نقل کرتا ہے تو اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا۔اس سے پہننے والے کو جو روحانی تسکین ملتی ہے اسکی اہمیت کا انکار نہیں۔

لیکن کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ لازما عمامہ۔ ٹوپی،ان سلا لباس  یا ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھے۔اور پینٹ شرٹ، ٹاییٗ، کرتہ، پاجامہ، دھوتی، تہبند، پی کیپ یا مروجہ دیگر لباس کو ترک کردے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں