محمد عربی ﷺ کا عدالتی نظام و مساوات

آقائے نعمت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔رسالت کا سلسلہ آپ کی ذات پر ختم ہوتا ہے۔آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے سارے عالم کے مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے۔وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جو اس عقیدے سے منحرف ہو یا اس پر ایمان نہیں رکھتا۔

ہر سال ساری دنیا میں بڑے جوش و عقیدت و محبت کے ساتھ ماہ ربیع الاول میں عید میلادُ النبی ﷺ کا اہتمام کیا جاتا ہے اہل ایمان جشن آمد رسول ﷺ کا اہتمام کرتے ہیں سیرت النبی ﷺ کو سننے اور سنانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے، بڑے پیمانے پر جلوس کا اہتمام کیا جاتا ہے ہر خوش عقیدہ مسلمان اپنی سمجھ بوجھ اور حثیت کے مطابق نبی کریم ﷺ سے اپنی وابستگی اور عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔

مصطفی جان رحمت ﷺ سے عشق و محبت کا اظہاریقیناً جذبہ ایمانی کی نشانی ہے اور مسلمان ہونے کا فطری تقاضا بھی ہے۔لیکن اس حقیقت کو جاننے اور عام کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر خالق کائنات نے انبیاءعلیھم السلام کو کیوں مبعوث فرمایا؟

انبیا ءعلیھم السلام نے دنیا میں کیا کام انجام دیئے؟؟

انبیاءعلیھم السلام کے بعد مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے؟؟؟۔

خدائی نمائندے یعنی رسولان عظام اور پیغمبران حق جن مقاصد کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوئے ان میں اہم ترین مقصد قیام عدل بھی تھا اور ہے

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے پارہ 27 رکوع 18 سورہ حدید آیت نمبر25 (ترجمہ کنز الایمان )

” بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو دلائل کے ساتھ بھیجااور ان کے ساتھ کتاب عدل کی ترازو اُتاری کہ وہ لوگوں میں انصاف قائم کریں“ ۔

عدل کا لغوی مفہوم حضرت امام راغب اسفہانی ( فرماتے ہیں ) جنکا اصل نام ابو القاسم الحسین بن محمد بن فضل ہے503ہجری اپنی شہرہ آفاق کتاب ” المفردات “ میں عدل کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

” سب کے ساتھ برابر کا معاملہ کرنا“

قران میں سورہ رحمٰن آیت نمبر 7میں ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ کنزالایمان )

اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور قیام عدل کے لیے میزان (ترازو) رکھا کہ ترازو(انصاف میں ) بے ایمانی نہ کرو

اس آیت پر غور کریں تو یہ بات بہ خوبی واضح ہو جاتی ہے کہ رسولوں کی آمد کا مقصد دنیا میں عدل و مساوات برابری کو قائم کرنا۔ظلم و زیادتی اور استحصال کو ختم کرنا ہے دنیا سے نا انصافی کا خاتمہ کرنا اور تمام انسانوں کو حق اور انصاف کے تحت زندگی گزارنے کا طریقہ بتانا،ظلم و استحصال،جبر و تشدد کے خاتمے کے لیے اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کی حکمتوں کو نافذ کرنا۔

دنیا میں امن و سکون محض خواہش اور تمنا سے قائم نہیں ہو سکتا،دنیا سے ظلم و استحصال اور جبر وتشدد کا خاتمہ انسانی عقل و دماغ کی بنیاد پر بھی نہیں ہو سکتا،انسانوں کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط ،انسانوں کے سوچے بنائے منصوبے دنیا میں امن و سکون کی فضاءقائم نہیں کر سکتے۔ اگر انسان چاہتا ہے کہ اُسے سکون وامن و چین میسر آئے اور ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہو اور نا برابری دور ہو تو پھر اس کا ایک ہی حل ہے وہ یہ ہے کہ خالق کائنات کی ہدایت پر کامل پیروی کی جائے تو حضور سرور کائنات ﷺ کی سیرت پر عمل کیا جائے رب کریم کا حکم ہے سورہ صف آیت نمبر 9 (ترجمہ کنز الایمان ) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ضابطہ ہدایت اور دین حق دے کر اس فرض کے لیے بھیجا ہے کہ وہ ہر دین کے معاملے میں اسے غالب کرے۔ اس آیت میں مزید واضح انداز میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ روحی فداہﷺ کی بعثت (بھیجنے ) کا مقصد دین حق کا قیام ،عدل (انصاف کا) کا نظام قائم کرنا۔

رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں عدل و انصاف مساوات کی مثالوں کا نظارہ کر نے کے لیے رسول پاک ﷺ کی سیرت کا تفصیلی مطالعہ کرنا چاہئیے یہا ں سیرت کے خزانے سے بڑا پیارا واقعہ حاضر خدمت کرتا ہوں۔

غزوہ بدر کے موقع پر رسول پاک ہاشمی وقار ﷺ صحابہ کی صفیں درست کر رہے ہیں آپ کے دست مبارک میں لکڑی کی ایک چھڑی ہے ایک صحابی صف میں برابر نہ تھے آپ نے اُنہیں چھڑی سے بغل میں کچوکا لگایا تاکہ وہ برابر ہو جائیں۔وہ معلم عدل و انصاف جب بیمار ہوئے تو آپ نے اعلان عام کیا کہ اگر کسی کا مجھ پر کوئی حق ہو تو وہ مجھ سے لے لے وہ صحابی جن کو حضور ﷺ نے صف سیدھی کرنے کے لیے کچوکا لگایا تھا آئے اور کہا یا رسول اللہ ! بدر کے روز آپ نے مجھے لکڑی سے کچوکا لگایا تھا جس سے مجھے تکلیف ہوئی تھی میں اسکا بدلہ لینا چاہتا ہوں ۔ حضور نے فرمایا میں حاضر ہوں بدلہ لے لو ،صحابی نے کہا جس وقت آپ نے مجھے کچوکا لگایا تھا میرے جسم پر کرتا نہیں تھا،میں آپ سے اسی انداز میں بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے کُرتا اُٹھا کر پہلو اور پشت (پیٹھ) مبارک اس پر پیش کی۔ اس صحابی نے بے تابانہ بڑھ کر پشت مبارک اور مہر نبوت شریف کو بوسہ دیااور کہا یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں تمنا یہ تھی کہ زندگی میں ایک بار آپ کےمہر نبوت شریف کو بوسہ دیکر سامان آخرت کروں۔

اس عاشق رسول کی تمنا تو کچھ اور تھی مگر قربان جایئے عدل ومساوات کے معلم حقیقی محمد ﷺ کی تعلیم اور نمونہ عمل پر کہ حالت علالت میں ایک شخص کو اس کا حق دینے کے لیے جسد مبارک کو پیش فرما دیتے ہیں۔عدل اسلامی و مساوات حقیقی کی اس عملی تصویر سے ہی اسلامی اصولوں کی ترتیب ہے ۔اسلامی عدل کے ترازو میں تمام انسانوں کو مساویانہ حق ہے ۔کسی شریف کی شرافت اور کسی غیر شریف کی رذالت اسے عدل اسلامی سے محروم نہیں کرتی کسی کمزور کی کمزوری اور کسی قوی کی قوت (طاقت) اسلامی عدل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ آقا ﷺ کا عدل ایسا غیر متعصب ترازو ہے جو اپنے فرائض میں کسی سے غفلت اور کسی کی رعایت نہیں کرتا ۔

ممتاز مفسر قرآن علامہ شہاب الدین الوسی بغدادی رحمة اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر ” تفسیر روح المعانی “ میں آیت عدل پارہ 14 سورہ نحل کی آیت نمبر 90 کی تفسیر نہایت جامع تحریر فرمائی ہے آپ فرماتے ہیں(1)عدل اُمّ الفضائل عمل ہے (2) عدل مساوات (برابری کا) دوسرا پہلو یا نام ہے (3)عدل دراصل ظلم کی ضد ہے یعنی اگر عدل ہو تو ظلم کا خاتمہ یقینی ہے۔ عدل و انصاف کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں علماءکی بڑی تعداد کا یہ قول ہے کہ اگر قرآن مجید میں صرف یہی آیت نازل ہوتی تو ہدایت کے واسطے کافی ہوتی ” اِنَّ اللہ یَامُرُ بالعَدلِ وَ الاِحسَانِ الخ اسی لئے اس آیت کریمہ کی اہمیت کے پیش نظر خلیفہ ¿ راشد سیدنا عمر بن عبد العزیزرضی اللہ عنہ سے خلیفہ عبد الملک نے دریافت کیا عدل کا کیا مفہوم ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ عدل کی چار شکلیں ہیں (1)ٰفیصلہ کے وقت کا عدل جیسا کی رب تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ (2)گفتگو کے وقت کا عدل جیسا کہ رب کا ارشاد ہے جب تم بات کرو تو عدل کے ساتھ بات کرو۔ (3)عدل فدیہ کے مفہوم میں جیسا کے ارشاد رب العالمین ہے اس (انسانی نفس) کے عوض کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا (4)عدل فی الشّرک جیسا کی رب نے فرمایا منکرین اپنے رب کے برابر ٹہراتے ہیں ۔۔۔۔رب اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

کوئی کیسا ہی دوست یا قریبی کیوں نہ ہو اہل ایمان کے انصاف کا ترازو اسے اگر مجرم قرار دیتا ہے تو قرار واقعی سزا پائے گا جیسا کی خیر القرون میں اور اس کے بعدبھی ہوا ہے حضور نبی ﷺ نے مسلمانوں اور یہود کے نزاع (لڑائی) میں یہودی کے حق میں فیصلہ دیا اس فیصلہ پر قرآن میں آیت مبارکہ نازل ہوئی

سورہ نساءآیت نمبر 59,60 (ترجمہ کنز الایمان )

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان کی طرف جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے اس کتاب پر جو آپ پر اُتری اور جو پہلے کتابیں اُتریں اس کے باوجود چاہتے ہیں کہ فیصلہ کرانے کے لئے اپنے( مقدمات) شیطان (طاغوت) کے پاس لے جائیں حالانکہ اُنہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کو نہ مانیں اور شیطان تو چاہتا ہی ہے کہ اُنہیں دور بہکا دے اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اُتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آو ¿ تو تم دیکھوگے کہ منافق تم سے منھ موڑ کر پھر جاتے ہیں۔

تفسیر نور العرفان جلد اول صفحہ 138 میں صاحب تفسیر فرماتے ہیں بشر نام کا ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی نے کہا چلو محمد عربی ﷺ کے پاس چل کر فیصلہ کرائیں منافق (نام کا مسلمان) بولا چلو کعب ابن اشرف کے پاس جو یہودی عالم تھا اس سے فیصلہ کرائیں یہودی نے کعب ابن اشرف کو جج (Judge)ماننے سے انکار کردیا کیوںکہ وہ رشوت خور تھا مقدمہ بارگاہ نبوی میں پیش ہوا حضور ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا۔ بشر نامی منافق اس فیصلے پر راضی نہیں ہوا پھر یہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مقدمہ لائے یہودی عرض کیا کہ بارگاہ نبوی میں میرے حق میں فیصلہ ہو چکا ہے بشر اس فیصلے پر راضی نہیں ہوا اور آپ کے پاس مقدمہ لایا ہے اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا اور فرمایا جو مصطفی ٰ ﷺ کے عدل (فیصلہ) سے راضی نہ ہو اسکا فیصلہ یہ ہے

اس پر یہ مذکورہ آیتیں نازل ہوئیں۔

(1)اسسےیہ معلوم ہوا کہ منافق کُھلے کافروں سے بد تر ہیں

(2)دوسرے یہ کہ حضور کے فیصلے کی اپیل کسی اور جگہ نہیں ہو سکتی ہے حضور ﷺ کا فیصلہ رب کا فیصلہ ہے حضور ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ ہونا کفر ہے اور وہ شخص مرتدو واجب القتل ہے کیوں کہ وہ دکھاوے کا مسلمان تھا اب مرتد ہو گیا۔

اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی آمد کا مقصد ہی بیان فرمایا کہ ا نصاف کا ترازو دے کر ہم نے محمد عربی ﷺ کو مبعوث فرمایا

سورہ مائدہ آیت نمبر 7 (ترجمہ کنزالایمان )

انصاف کرووہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

عید میلاد النبی ﷺ کا موقع ہر سال اُمت مسلمہ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے مسلمانوں کو سب سے پہلے اپنی ذاتی و نجی زندگی میں سرورکائنات کی سیرت کی مکمل پیروی اختیار کرنی چائیے اپنے اجتماعی معاملات کو مکمل طور پر شریعت کی روشنی میں طئے کرنے کی کوشش کرنی چایئے اس طرح دنیا کے سامنے اسلام کے ایک مکمل نظام ہونے کو مدلل انداز میں پیش کرنا چاہیئے لاکھوں کڑوڑوں درودوسلام محمد عربی ﷺ پر اللہ ہم سب کو سیرت مصطفی ﷺ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں