نماز جمعہ کے بارے میں آپﷺ کے ارشا دات

اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو جمعے کا دن ہمیشہ سے ھی مقدس رھا ھے- بنی اسرائیل نے شرپسندی اور بغاوت کے سبب جمعے کو چھوڑ کر ہفتہ کو الله کی عبادت کیلئے مختص کر لیا۔  اسی طرح اتوار عیسائیوں کے نزدیک مقدس دن ہے-  مگر حضور صلیٰ علیہ وسلم نے جمعہ کو مسلمانوں کا مقدس دن قرار دیا کیونکہ یہی وہ دن تھا جو ابتداء آفرینش سے ہی مسلمانوں کیلئے مقدس رہا ہے-

قرآن کی تعلیمات اور دعوت و تدریس و تزکیہ کیلئے خطبہ جمعہ کا نظام وضع کیا گیا- در حقیقت یہ ایک ہفتہ وار اجتماع ہے جسکا مقصد قرآنی تعلیمات کا فروغ‘ایمان کو تازہ کرنا اور اسلامی سوچ و فکر کو دلوں میں راسق کرنا ہے

خطبہ جمعہ کے ممبر سے یہی کام حضور صلیٰ علیہ وسلم نے انتہائی احسن طریقہ سے سرانجام دیا اسی وجہ سے اسے ممبر رسول کہا جاتا ہے-اب آئمہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو بخوبی سرانجام دیں کیونکہ وہ نائب رسول صلیٰ علیہ وسلم ہیں-

قرآن و حدیث میں نماز جمعہ پر بہت زور دیا گیا ہے جس سے اسکی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے

جمعہ کے دن جب نماز کیلئے اذان دی جائے تو تم الله کی یاد کیلئے چل کھڑے ہو اور خرید و فروخت ترک کر دو کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم کچھ جانتے ہو”-(سورہ جمعہ

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب لوگ مسجد سے اٹھ کر تجارتی قافلہ سے خرید و فروخت کیلئے نکل کھڑے ہوئے جبکہ حضور صلیٰ علیہ وسلم خطبہ جمعہ دے رہے تھے- صرف ١٢ لوگ باقی رہ گئے تو الله نے عتاب کیلئے یہ آیت نازل فرمائی-

حضور صلیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

(اگر یہ ١٢ نمازی بھی مسجد میں نہ رہ جاتے تومدینہ والوں پر یہ وادی آگ بن کر بھڑک اٹھتی)

حضور صلیٰ علیہ وسلم نے نماز جمعہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ارشاد فرمایا کہ

(جس شخص نے بنا کسی عذر کے ٣ جمعہ چھوڑ دیئے تو الله اس کے ل پر مہر کر دیگا)”-(ترمذی)”

اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ

لوگ اپنی جمعہ کی نماز ترک کرنے سے باز آ جائیں ورنہ الله ان کے دلوں پر مہر کر دے گااور وہ غافلوں میں سے ہو جائیگے”)-(مسلم

ایک اور روایت ہے جو کہ حضرت عبد١لله ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے

فرماتے ہیں کہ آپ صلیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

میرا یہ دل چاہتا ہے کہ میں کسی اور شخص کو امامت کیلئے کھڑا کر دوں اور ان لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کے سمیت آگ لگا دوں جو جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے

(مسلم)

آپ صلیٰ علیہ وسلم کی شخصیت میں انتہائی درجہ کی نرمی،رقت اور شفقت تھی اس کے باوجود آپ صلیٰ علیہ وسلم نے سخت الفاظ استعمال کیے جسکا مقصد نماز جمعہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

جہاں جمعہ ترک کرنے والوں کیلئے سخت وعید آئی ہے وہیں خشوع و خضوع اور اہتمام کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنے والوں کیلئے اجر و ثواب اور الله کی خوشنودی حاصل ہونے کی خوشخبری بھی دی گئی ہے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں