غزوہٴ احزاب

احزاب ‘ حزب کی جمع ہے ‘ جس کے معنی پارٹی یاجماعت کے آتے ہیں ‘ اس غزوہ میں کفار کی مختلف جماعتیں متحدہو کر مسلمانوں کو ختم کردینے کا معاہدہ کرکے مدینہ پر چڑھ آئی تھیں ‘ اسی لئے اس غزوہ کا نام غزوہ احزاب رکھا گیا ہے اور چونکہ اس غزوہ میں دشمن کے آنے کے راستہ پر نبی کریم ﷺ کے حکم سے خندق کھودی گئی تھی ‘ اسی لئے اس کو غزوہٴ خندق بھی کہتے ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ جس سال مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں تشریف فرماہوئے اسکے دوسرے ہی سال میں غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال میں غزوہ احد پیش آیا ‘ چوتھے سال میں یہ غزوہ احزات واقع ہوا ‘ اور بعض روایات میں اس کو پانچویں سال کا واقعہ قرار دیا گیا ہے ۔ بہر حال ابتدائے ہجرت سے اس وقت تک کفار کے حملے مسلمانوں پر مسلسل جاری تھے ۔ غزوہ احزاب کا حملہ بڑی بھر پور طاقت وقوت اور پختہ عزم اور عہد ومیثاق کے ساتھ کیا گیا تھا ‘ اس لئے آنحضرت ﷺ اور صحابہ اکرم رضی اللہ عنہ پر یہ غزوہ دوسرے سب غزوات سے زیادہ شدید تھا ۔

غزوہ بدرمیں مسلمانوں کے مقابل لشکر ایک ہزار کا تھا ‘ پھر غزوہ احد میں حملہ کرنے والا لشکر تین ہزار کا تھا ‘ اس مرتبہ لشکر کی تعداد بھی اور سامان بھی پہلی مرتبہ سے زائد اور تمام قبائل عرب ویہود کی اتحادی طاقت بھی زیادہ تھی ۔

ان قبائل کی مجموعی تعداد بعض روایات میں دس ‘ بعض میں بارہ اور بعض میں پندرہ ہزار بیان کی گئی ہے ‘ اور اس طرف سے مسلمان کل تین ہزار ‘ وہ بھی بے سروسامان اور زمانہ سخت سردی کا تھا ۔

قرآن کریم نے تو اس واقعہ کی شدت بڑی ہولناک صورت میں یہ بیان فرمائی ہے

زاغت الابصار

( آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں )

بلغت القلوب الحناجر

( کلیجے منہ کو آنے لگے )

وزلز لواز لزالاشدید

( سخت زلزنہ میں ڈالے گئے )

مگر جیسا کہ یہ وقت مسلمانوں پر سب سے زیادہ سخت تھا ویسے اللہ تعالیٰ کی نصرت وامد سے اس کا انجام مسلمانوں کے حق میں ایسی عظیم فتح وکامیابی کی صوارت میں سامنے آیا کہ اس نے تمام مخالف گروہوں ‘ مشرکین ‘ یہوداور منافقین کی کمریں توڑدیں اور آگے ان کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ مسلمانوں پر کسی حملے کا ارادہ کرسکیں ۔ اس لحاظ سے یہ غزوہ کفر واسلام کا آخری معرکہ تھا ‘ جومدینہ منورہ کی زمین پر ہجرت کے چوتھے یا پانچویں سال میں لڑا گیا ۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں