صفر کی فضیلت

اسلامی سال کادوسرا مہینہ صفرالمظفرہے لفظی لحاظ سے صفرکے کئی معانی ہیں لیکن ص کے زبراور ف کے زیر کے ساتھ ہوتو خالی معدہ کاہونا، بھوک بیماری کامتعدی ہونا، اس آخری معینی کی مناسبت سے غالباََاس کوصفر اس لئے کہتے ہیں کہ بعثت نبوی ﷺ سے پہلے محرم الحرام میں جنگ وجدال حرام تھی اور ماہ صفر میں اہل عرب گھروں کوچھوڑکرجنگ کیلئے نکل جاتے تھے اور جنگ وجدل کی وجہ سے خون خرابہ ہوتا مردمارے جاتے اور جنگ میں مصروفیت کی وجہ سے معاشی حالت ابترہوجاتی بھوک وافلاس بڑھ جاتا بیماریاں پھیل جاتیں،جس کی وجہ سے اس ماہ کوصفر یعنی گھروں کوخالی کرنے اور بھوک وافلاس کوبڑھانے والا مہینہ کہا جانے لگا۔

یہی وجہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ ماہ صفر کو منحوس خیال کرتے تھے اور صدیاں بیت جانے کے بعد بھی جبکہ اسلام کی روشنی سے پورا عالم پوری طرح منورہوگیاہے۔لوگ آج بھی اس مہینے کومنحوس سمجھتے ہیں۔اس لئے شادی کرنے ،سفر کرنے، نئے مکان بنانے،ان میں شفٹ ہونے اور نیاکاروبار کرنے کو اس ماہ میں منحوس سمجھتے ہیں۔اسلام کی روسے اس ماہ مبارک میں کوئی کسی قسم کی نحوست اور بلا کانازل ہونا ثابت نہیں ہے۔
سرکاردوعالم ﷺ نے اس ماہ کسی قسم کی نحوست وابستہ ہونے کی سختی سے تردید فرمائی ہے اسی لئے صفر کے ساتگ مظفر یاخیر کالفظ لگاکر صفرالمظفر یاصفرالخیر اس ماہ کوکہا ہے تاکہ اس مہینے کونحوست شروآفت والانہ سمجھاجائے بلکہ کامیابی والا بامراد نیزخیروالا ماہ سمجھاجائے اور اس ماہ میں انجام دئیے جانے والے کاموں کونامراداور منحوس سمجھنے کاتصور اور ذہنوں سے نکل جائے۔
اسلام میں کسی انسان یاکسی چیز کے نام سے نیک فال لینا تو درست ہے لیکن کسی قسم کی نحوست وبد فالی مرادلینا قرآن وسنت کے خلاف ہے کیونکہ کسی بھی قوم میں نحوست کی وجہ اس کے برے اعمال ہوتے ہیں۔حضرت صالح کی قوم عاد پر اللہ نے قحط کاعذاب نازل فرمایا توانھوں نے حضرت صالح منحوس قراردیتے ہوئے کہاکہ جب سے تم آئے ہو ہم پر عذاب مسلط ہونے لگے ہیں، یہ سب تمھاری نحوست ہے تو حضرت صالح نے فرمایا کہ یہ سب سختیاں یابرائیاں میری وجہ سے نہیں بلکہ یہ تمھاری بداعمالیوں کی وجہ سے ہیں۔
قرآن کریم میں سیدنا حضرت صالح کی قوم پر عذاب کوان الفاظ میں بیان کیاگیا کہ قوم عادایسی تندوتیزہوا سے ہلاک کردی گئی جسے اللہ نے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط کئے رکھا

(سورة الحاقہ)

دراصل نحوست ان کے اعمال کی وجہ سے تھی، اسی لئے اللہ کے محبوب ﷺ کسی چیز سے نیک شگون تولیتے مگر بدشگونی مرادنہ لیتے تھے بلکہ آپﷺ نے بدشگونی کوشرک جیسا بڑا گناہ قراردیا۔ حضرت عروہ بن عامر قریشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بدشگونی کاذکر کیاگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا سب سے اچھی چیز نیک فال لینا ہے۔
سیدنا حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے کریم نبی ﷺ جب بھی کسی سفر پرتشریف لے جاتے تھے

تو آپ کویہ سننا اچھا لگتاتھا کہ ” یاارشاد ،اے سیدھی راہ پر جانے والے ، حضور پاک ﷺ نیک فال کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ نیک فال سے شرح صدراور تسکین قلبی ہوتی ہے اور بدشگونی کواس لئے ناپسند فرماتے تھے کہ یہ مشرکین کامزاج تھا۔اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جوخودبدشگونی لے یاجس کیلئے بدشگونی لی جائے۔
ایک موقع پرسرکار ﷺ نے فرمایا کہ ”تین چیزوں سے کوئی شخص سلامت نہیں بدگونی ،حسداور بدگمانی۔ عرض کیاگیا یارسول اللہ ﷺ پھر ہم کیا کریں؟آپ ﷺ نے فرمایا جب بدشگونی کاخیال دل میں آجائے تواللہ پر بھروسہ وتوکل کرتے ہوئے اپنے کام کوجاری رکھو حسدہوجائے تو احساس ہوتے ہی اس کوختم کردو اور اسے دل سے نکال دو اس کی جستجومت کروبدگمانی کوختم کرواس کی تحقیق کرنے نہ لگ جاؤ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کوفرماتے سنا کہ صفر میں بیماری ہے نہ نحوست ،نہ بھوت اور نہ شیطان ہے۔سیّدنا مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”صفر میں بدفالی ہے نہ نحوست ہے نہ بیماری کالگنا ہے اور نہ وہ مہینے ساٹھ دن کے ہیں اور جس نے اللہ کے ذمے سے بدعہدی کی تووہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا۔ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سال کے دوسرے مہینوں کی طرح اس ماہ بھی شادی کرنا، سفر کرنا نیا کاروبار سب جائز ہیں۔
کتب تاریخ اور کتب احادیث میں یہ بات موجود ہے کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف آپ ﷺنے سفر ہجرت اسی ماہ صفر کی ستائیس تاریخ 13نبوی کوفرمایا۔ آپ ﷺ کایہ سفر غلبہ اسلام اور اسلامی ریاست کے قیام کاحرف آغاز ثابت ہوا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اگرماہ صفر میں سفر کرنا منحوس یاکسی نقصان کاباعث ہوتا تو اللہ کے رسول ﷺ ہمارے آقا ومولا کبھی بھی یہ سفر نہ فرماتے بلکہ یہ سفر تو آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے فرمایا۔ جس میں آپ کے ساتھ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کویار غار ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔
اللہ کے نزدیک کوئی بھی دن مہینہ منحوس نہیں ہے اسی طرح ماہ صفر کی سن 2ہجری میں حضور پاک ﷺ نے سیدنا مولاعلی رضی اللہ عنہ اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا۔

جس کے گواہ سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ نکاح جواسی ماہ صفر میں ہوا شادی کرنا سنت رسول بھی ہے۔
ماہ صفر میں جلیل القدراولیاء کرام نے وصال فرمایا اور ان صوفیائے کرام کے اعاس بھی اس ماہ مقدس میں کثرت سے منائے جاتے ہیں۔ اللہ ہمیں ان مقدس ایام میں اپنی زیادہ سے زیادہ یاد کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان خرافات سے بچائے اور اسلام کی سمجھ بوجھ عطافرمائے ۔

(آمین)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں