حضرت عزیر علیہ السلام (حصہ دوم)

آپ کے والد سروخا نے بخت نصر کے زمانہ میں تورات ایک ایسی جگہ دفن کر دی تھی جس کے بارے میں عزیز علیہ السلام کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا آپ لوگوں کو لے کر وہاں چل دیئےوہاں پہنچ کر اس جگہ کو کھودا تو تورات نکل آئی جس کے ورق بوسیدہ ہوچکے تھے اور تحریر مٹ چکی تھی۔ آپ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے اور بنی اسرائیل آپ کے گرد جمع ہوگئے اتنے میں آسمان سے دو شہاب آئے اور آپ کے پیٹ میں داخل ہو گئے آپ کو فوراً تورات یاد آگئی اور آپ نے بنی اسرائیل کو لکھوا دی اس بناء پر یہودی کہنے لگے عزیز علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں ایک تو اس وجہ سے کہ آپ کے شکم مبارک میں وہ شہاب داخل ہوئے تھے اور دوسرے اس وجہ سے کہ آپ نے انھیں تورات نئے سرے سے لکھ کر دی تھی اور جس بستی میں آپ کا انتقال ہوا اسے سائر آباد کہا جاتا تھا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں  آپ اس تیت کے مصداق تھے
ترجمہ:اور تاکہ ہم اپ کو لوگوں کے لیے نشانی بنائیں۔
یعنی بنی اسرائیل کے لیے اور یہ نشانی اسطرح تھی کہ آپ اپنے بیٹوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے وہ بوڑھے اور آپ جوان ہوتے کیونکہ وفات کے وقت آپ کی عمر چالیس برس تھی اور جب اللہ تعالٰی نے آپ کو زندہ فرمایا تو اسی طرح جوان تھے جس طرح فوت ہوئے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں بخت نصر کے بعد دوبارہ زندگی عطا ہوئی اور حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ ابو حاتم سجستانی رحمتہ اللہ علیہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فرمان کی روشنی میں چند اشعار کہے ہیں
ترجمہ
عنفوان شباب پر ان کے سر کے بال سیاہ ہیں اور ان سے پہلے ان کے بیٹے اور پوتے بوڑھے ہوھئے وہ بڑا ہے
وہ اپنے بوڑھے بیٹے کو لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا دیکھتا ہے حالانکہ ان کی داڑھی سیاہ اور سر کے بال سرخ ہیں۔
اور ان کے بیٹے کے لیے بڑھاپے سے چھٹکارے کا کوئی حیلہ ہے نہ زیادہ طاقت ہو بچے کی طرح چلتا ہے کبھی کھڑا ہوتا ہے تو کبھی گر پڑتا ہے۔
لوگوں میں ان کا بیٹا نوے اور بیس سال (ایک سو دس سال) کا شمار ہوتا ہے نہ تو وہ چل سکتا ہے نہ اکڑ سکتا ہے۔
اور اس کے باپ کی عمر صرف چالیس سال ہے جب کہ انکے پوتے نے لوگوں میں نوے برس گزار دیے ہیں۔
اگر تم جانے ہو تو یہ بات عقل میں آنے والی نہیں اور اگر نہیں جانتے تو جہالت کی بناء پر معذور ہو۔

حضرت عزیر علیہ السلام کی نبوت
مشہور یہی ہے کہ حضرت عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی تھے اور آپ کا زمانہ حضرت داؤد و سلیمان علیہ السلام کے بعد حضرت زکریا و یحیٰی علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔ جب بنی اسرائیل میں کوئی شخص بھی تورات کا حافظ نہ رہا تب اللہ تعالٰی نے آپ کو تورات الہام فرما دی اور آپ نے بنی اسرائیل کو لکھوا دی جیسا کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے ایک فرشتے کو حکم دیا وہ نور معرفت لے کر اترے اور وہ نور حضرت عزیر علیہ السلام میں منتقل فرما دیا آپ نے تمام تورات حرف بحرف لکھوادی اور فارغ ہو گئے۔
حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ سےدریافت فرمایا کہ یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کیوں مانتے ہیں
تو انھوں  نے فرمایا کہ حضرت عزیر علیہ السلام  نے بنی اسرائیل کو تورات زبانی لکھ کر دی تھی بنی اسرائیل کہتے تھے کہ موسٰی علیہ السلام میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ ہمارے پاس بغیر لکھے تورات لا سکیں جبکہ حضرت عزیر علیہ السلام بغیر لکھے تورات لے آئے اس لیے ان میں سے کئی فرقے یہ کہنے لگے کہ حضرت عزیر علیہ السلام  اللہ کے بیتے ہیں اس وجہ سے اکثر علماء فرماتے ہیں کہ تورات کا تواتر حضرت عزیر علیہ السلام  کے زمانہ میں منقطع ہو گیا تھا۔
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ اور حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عزیر علیہ السلام نبی نہیں تھے مگر یہ بات انتہائی قابل توجہ ہے۔
اسحاق بن بشر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ نے بحوالہ قتادہ خبر دی کہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت عزیر علیہ السلام اور بخت نصر دونوں ایک ہی دور یعنی زمانہ فترت میں تھے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ تعلق میرا ہے کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں۔
حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عزیر علیہ السلام حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے درمیان گزرے ہیں۔
ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت انس بن مالک اور عطاء بن سائب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل فرمایا ہے کہ  عزیر علیہ السلام حضرت موسٰی بن عمران کے زمانے میں تھے اور آپ نے انکی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی تھی مگر انھوں نے اجازت  مرحمت نہ فرمائی یعنی جب آپ نے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تھا اور یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے تھے کہ سو بار مرجانا ذلت کی گھڑی سے بہتر ہے۔
حضرت عزیر علیہ السلام کے اسی فرمان کی روشنی میں کسی شاعر نے کہا ہے
بسا اوقات آزاد منش انسان تلوار پر صبر کر لیتا ہے مگر رنج پر صبر کرنے کو ناپسند کرتا ہے۔
اور ایسی حالت پر موت کو ترجیح دیتا ہے جس میں وہ اتنا بے بس ہو کہ مہمان نوازی نہ کر سکتا ہو۔
بہرکیف ابن عساکر وغیرہ نے نوف بکالی، سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے حوالہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جو نقل کیا ہے کہ آپ نے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ کا اسم گرامی انبیاء کی فہرست سے مٹا دیا گیا تھا تو یہ منکر ہے اور اس کی صحت محل نظر ہے اور گویا یہ اسرائیلیات سے موخوز ہے۔
عبدالرزاق ارحمتہ اللہ علیہ اور قتیبہ بن سعید رحمتہ اللہ علیہ نے جعفر بن سلیمان سے، انہوں نے ابو عمران جونی سے اور انہوں نے نوف بکالی سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عزیر علیہ السلام اپنی مناجات میں عرض کیا: باری تعالٰی! آپ خود مخلوق کو پیدا فرمانے والے ہیں پھر جس کو چاہتے ہیں ہدایت عطا فرماتے اور جس کو چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں حکم ہوا اس بات کو چھوڑ دو۔
مگر آپ نے دوبارہ یہی عرض کی حکم ہوا تمہیں اس سے اعراض کرنا ہوگا ورنہ میں تمہارا نام انبیاء علیہ السلام کی فہرست میں سے مٹا دوں گا میں جو کچھ کروں مجھ سے کوئی سوال نہیں کر سکتا اور لوگوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ دوبارہ یہ سوال کرتے تو آپ کا نام نامی انبیاء علیہ السلام کی فہرست سے مٹا دیا جاتا۔ مگر چونکہ آپ نے ایسا نہ کیا اس لیے آپ کا نام انیباء کی فہرست میں ہی رہا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے تو انھیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے اسے پکڑنے کا حکم دیا اور کہا کہ اسے جلا دیا جائے اللہ تعالٰی نے انکی طرف وحی نازل فرمائی کہ ایک چیونٹی کے کاٹے سے اس قدر عذاب کیوں دیا۔
اسحاق بن بشر رحمتہ اللہ علیہ نے ابن جریج سے، انہوں نے عبدالوہاب بن مجاہد سے اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ یہ نبی حضرت عزیر علیہ السلام تھے اور حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے بھی یہی منقول ہے کہ وہ حضرت عزیر علیہ السلام ہی تھے
(واللہ اعلم)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں